سائیکل ریپیر کرنے والے کی بیٹی نے نیٹ میں 633 مارکس کیسے حاصل کیا؟

تحریر: نقی احمد ندوی
ریاض، سعودی عرب

اگر تعلیم کے لئے ساری سہولیات فراہم کریں، خاص طور پر کمپٹیشن کے لئے آپ اپنے بچوں پر لاکھوں روپیے خرچ کریں۔ پھر بھی بچے اچھے نمبرات سے کمپٹیشن تو دور اپنے امتحانات میں بھی پاس نہ کریں تو والدین کو کتنی تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازاہ آپ سب بخوبی لگا سکتے ہیں۔
مگر جس لڑکی کو رہنے کا اچھا گھر نہیں، پڑھنے کے لئے میز اور کرسی نہیں، کوچنگ کے لئے پیسے نہیں۔ باپ اپنی روزی کے لئے سڑک کے کنارے سائکل ریپیر کرتا ہو اور بڑی مشکل کے ساتھ اپنے بچوں کے لئے دو روٹی کا انتظام کرتا ہو، اور اس کی بیٹی نیٹ جیسے امتحان کو نہ صرف پاس کرے، بلکہ اتنا اچھا نمبر لے آئے کہ ملک کی کسی بھی بہترین میڈیکل کالج میں ایڈمیشن پانے کی حقدار بن جائے تو اس میں خوشی اور حیرت نہیں ہوگی تو اورکیا ہوگی۔
جی ہاں، جالنا ضلع کی رہنے والی ایک لڑکی ہے جس کا نام مصباح خان ہے۔ اس کے والدنام انور خان ہے جو سائکل کی ریپیر کی دکان ایک سڑک کے کنارے کھول کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔
ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وہ کہتی ہیں (محدود آمدنی کی وجہ سے میرے والد نہ تو ٹیوشن کی فیس دے سکتے تھے اور نہ ہی کتابیں خرید سکتے تھے۔ انکوش سر نے مجھے مفت میں کوچنگ دی۔ میرے اردو کے اساتذہ نے کالج کے اندر مجھے کتابیں مہیا کروائیں اور میری رہنمائی کی۔ غربت سے نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا وہ تھا ایجوکیشن۔ اس لئے میں نے جان لگاکر دن رات محنت کی اور نیٹ کی تیاری میں پوری طاقت لگا دی)۔
چنانچہ مصباح کی محنت رنگ لائی اور اس نے نیٹ کے امتحان میں 720میں 633اسکور کیا۔ اب وہ ہندوستان کے کسی بھی اچھے سے اچھے میڈیل کالج میں داخلہ لے سکتی ہے اور اپنی غربت سے نہ صرف یہ خود کوبلکہ اپنی پوری فیملی کو نکال سکتی ہے۔
جو بچے غربت اور معاشی کمزروی کی وجہ سے پڑھائی روک دیتے ہیں یا جن بچوں کو ساری سہولیات فراہم کی جاتی ہے مگر وہ محنت نہیں کرتے، ان کے لئے مصباح ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ بھی غربت سے نکلنا چاہتے ہیں تو اپنی محنت کے ذریعہ تعلیم میں اچھا سے اچھا کرنے کی کوشش کیجئے، آپ بھی مصباح کی طرح غربت سے نکل ایک اچھے اورتابناک مستقبل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے