جامعہ عربیہ منہاج السنہ میں حضرت مولانامستقیم احسن اعظمی کی وفات پرتعزیتی نشست

ممبئی (محمدطفیل ندوی)
ہرانسان موت کےراستےسے گذرےگا البتہ قبل وبعد کافرق ہے یہ واقعہ قوم وملت کیلئے افسوسناک ہے کہ اب ہمارےدرمیان عظیم وقابل قدرشخصیت حضرت مولانامستقیم احسن اعظمی صاحب ؒ نہیں رہےوہ دارفانی سےداربقاکی طرف رخصت فرماگئے ،اللہ رب العزت ان کے تمام اعمال صالحہ کوقبول فرمائیں ،اس وفات حسرت آیات پر۲۰؍جون ۲۰۲۳ءبعدنمازعشاءجامعہ عربیہ منہاج السنہ مالونی ملاڈویسٹ میں تعزیتی نشست منعقد کی گئی ،اورایصال ثواب کااہتمام کیاگیا اوردعائےمغفرت وبلندی درجات کیلئے دعائیں کی گئیں ،حضرت مفتی محمدانصارقاسمی (مہتمم جامعہ)نے اپنےتعزیتی بیان میں کہاکہ مولانامرحوم انتہائی مخلص وملنسارانسان تھے ،متعدد مرتبہ جامعہ کےسالانہ اجلاس میں بےچوں چراں تشریف لائے اوراجلاس کی کامیاب صدارت فرمائی،جامعہ کےعلاوہ دیگرمدارس ومکاتب کےہمیشہ خیرخواہ رہے،علماءوحفاظ کی بےانتہا قدرفرمایاکرتےتھے آپ کےجانےسے یقینا اہل مدارس ومکاتب ایک مخلص قدرداں اوراعلی سرپرست سے محروم ہوگئے ،اللہ رب العزت مرحوم کےدرجات کوبلندفرمائے، حضرت مولانانوشاداحمدصدیقی (صدرجامعہ)نےاپنے خیالات کااظہارکرتےہوئے فرمایاکہ حضرت مولاناکےسانحہ ارتحال سے علمائے کرام ودانشوران قوم وملت کاطبقہ سخت مغموم ہے،مولانامرحوم تقریبا۵۵؍سال سے جمعیۃ علماءسے وابستہ رہےاورکئی عرصہ سے جمعیۃ علماءمہاراشٹراکے صدررہےجمعیۃ اورقوم وملت کیلئےآپ کی بےپایاں خدمات کوفراموش نہیں کیاجاسکتا ہے،اللہ رب العزت سے دعاءہےکہ حضرت کی مغفرت فرماکرہمیں ان کانعم البدل عطافرمائے،حضرت مولاناشمیم اختر ندوی ( جامعۃ الابرار)نے کہاکہ یہ واقعہ ہر انسان کیساتھ پیش آناہے لیکن جب کوئی ایساانسان جس نے اپنی پوری زندگی انسانی خدمات کیلئے وقف کردی ہو اور اسی کامیابی کی تگ ودومیں مسلسل کوشاں ہوپھر وہ ہم سےہمیشہ کیلئے رخت سفرباندھ لےتویقینا افسوسناک ہے، حضرت کی شخصیت یہی تھی وہ ہمیشہ قوم وملت کی رہنمائی اور سرخروئی کیلئے مسلسل کوشاں رہے ہم ان کیلئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالی مغفرت کاملہ فرمائے ،حضرت علامہ حسنی (آل انڈیاعلماءبورڈ)نے اپنی گفتگومیں کہا کہ ہمارےدرمیان سے ایک قیمتی چیز اٹھالی گئی جویقینا قوم وملت کیلئے عظیم خسارہ ہے کیوں کہ ایسے پرآشوب دورمیں جس وقت ہرچہارجانب افراط وتفریط کاماحول ہے،ایسےوقت میںہماری رہنمائی کیلئےان کی رہبری کی ضرورت تھی ،وہ حالات کی پیچیدگیوں پرگہری نظر رکھتےتھے ، حضرت نےبیشماراجلاس کی صدارت فرمائی اورقوم وملت کوحالات کی نزاکت سے آگاہ کیا حضرت کی وفات کی خبر سوشل میڈیا وقریبی ذرائع سے پہونچی تو دل مغموم ہوگیا خیر اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ ہے بس ہمیں ہر معاملہ میں صبر کو برقراررکھنےکیساتھ دعائیں کرناہے ،بابائے تعلیم جناب سلیم الوارےصاحب نےاپنی قیمتی گفتگومیں کہاکہ ہم اس وقت جن مراحل سے گذررہےہیں یقینا قابل رنجیدہ ہےحالات جیسےبھی ہو لیکن ہمارےلئے سب سے پریشان کن مسئلہ یہ ہےکہ ہمارےدرمیان سے ایسی شخصیات پےبہ پے رخصت ہوتی جارہی ہے اوروہ بھی جو قوم وملت کی نگہبان ہو،درپیش حالات میں ہماری نگاہیں آخروہی جاتی ہے جو تسلسل کیساتھ رخصت ہورہے ہیں حضرت ؒ کی شخصیت اسی قابل قدرفہرست سے ہےجوبیباک عالم اورمتحرک وفعال منتظم کی حیثیت سےتھے اللہ تعالی نے حضرت کوعمرطویل عطافرمائی جس کو قوم وملت کی خدمات ونگہبانی میں صرف کیا اللہ ان کے درجات بلندفرمائے،حضرت مولاناعبدالقدوس شاکرحکیمی (مدینۃ المعارف)نے کہاکہ حضرت ایک باصلاحیت عالم دین کیساتھ ساتھ ایک کامیاب وفعال منتظم بھی تھے جس کاثبوت کئی عرصہ سے جمعیۃ علماءمہاراشٹراکی کامیاب صدارت تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک باصلاحیت ومتحرک عالم دین سے محروم ہوگئے جس کی آخری منزل صبر ہے،ہم صبرکریں اوراللہ رب العزت سے ان کے نعم البدل کیلئے دعائیں کریں ،اس تعزیتی نشست میں اساتذہ وطلبائے جامعہ کےعلاوہ ائمہ مساجد ومضافات کے علماءوحفاظ ودانشوران ملت نےشرکت کی اورحضرت مفتی عبدالقادرقاسمی کی دعاءپر نشست اختتام پذیر ہوئی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے