پیدائشی مسلمان اور نو مسلم کا فرق

کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو انٹریو دیکھا تھا۔ ایک غیر مسلم خاتون تین ایسی خواتین کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ جنہیں اسلام قبول کئے دس دس سال سے زائد عرصہ ہوچکا تھا۔ دوران انٹرویو اس نے ایک بہت ہی اہم سوال یہ کیا

"ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ نو مسلم مساجد کی سطح تک تو پیدائشی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل لیتے ہیں لیکن کمیونٹی کی سطح پر ان سے کنی کتراتے ہیں۔ ان کے ساتھ دوستیاں نہیں رکھتے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟”

کسی جگہ تین خواتین بیٹھی ہوں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی اپنی باری پر بولیں۔ خواتین کی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کو لقمہ دے رہی ہوتی ہیں۔ یوں اختلاف ہو تو کنفیوژن پھیل جاتی ہے۔ اور اتفاق ہو تو ایک مشترکہ موقف سامنے آجاتا ہے۔ ان خواتین نے مل جل کر جو جواب دیا وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ اور ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے

"جی ہاں ایسا ہی ہے۔ اور اس کی بہت گہری وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ان کا اسلام باپ سے ملی میراث کی طرح ہے لھذا انہیں اس کی قدر ہی نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی عیسائی تھا تو کوئی ملحد۔ نو مسلموں میں سے کسی نے بھی آنکھیں بند کرکے اسلام قبول نہیں کیا۔ کم سے کم بھی دو سال تک اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد یہاں مغرب میں لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان کا پہلا مطالعہ قرآن مجید اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ہوتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں لوگ صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاکہ دیکھ سکیں کہ آخر وہ جماعت کیسی تھی جسے رسول اللہ ﷺ کی براہ راست صحبت اور تعلیم میسر آئی۔ چنانچہ اسلام قبول کرنے والا نو مسلم جب یہ دیکھتا ہے کہ جو اسلام ہم نے قرآن مجید ، سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زندگیوں میں دیکھا ہے وہ تو ان پیدائشی مسلمانوں میں دور دور تک نظر نہیں آتا تو یہ فورا سمجھ جاتے ہیں کہ اسلام پر زوال کیوں آیا ہوا ہے۔

ہم نو مسلموں میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے ہالیووڈ کی فلم انڈسٹری ، میوزک اور فیشن انڈسٹری کے کیریئر کو اسلام پر قربان کیا ہے۔ کیونکہ ہم اس کے کلچر اور آمدنی دنوں کو حرام سمجھتے ہیں مگر یہ پیدائشی مسلمان تو یہاں مغرب میں نائٹ کلبوں میں ناچ رہے ہیں۔ یہ کیسی مسلمانی ہے ؟ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی نو مسلم کا قرآن مجید سے متعلق انٹریو کر سکتی ہیں۔ وہ آپ کو بتا دے گا کہ قرآن مجید کے کن کن مقامات اور تعلیمات نے دوران مطالعہ سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ آپ کسی بھی موضوع پر اس سے سوال کریں گی کہ اس بارے میں قرآن مجید کیا کہتا ہے ؟ تو وہ آپ کو بتا دے گا کہ یہ کہتا ہے۔ لیکن یہی انٹریو آپ کسی عام پیدائشی مسلمان کا نہیں کرسکتیں۔ کیونکہ اس نے پوری زندگی میں کبھی قرآن کھول کر اس کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔

ان کا تو آسان سا شارٹ کٹ ہے کہ کوئی مسئلہ پیش آگیا تو مولوی سے جا کر پوچھ لیا۔ خود دین سیکھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ پھر مولوی خود ایک مسئلہ ہیں۔ ان میں سے جو عرب علماء ہیں یہ تو ٹھیک ہیں۔ ان سے آپ جب بھی دین کے حوالے سے بات کریں گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے سے بات شروع کریں گے۔ آپ اس آیت یا حدیث کے حوالے سے کوئی پیچیدہ سوال پوچھیں گے تو تب وہ آپ کو یہ بتائیں گے کہ مفسرین، محدثین اور فقہاء اس کی کیا تشریح کرتے ہیں۔ لیکن بات شروع قرآن و حدیث سے ہی ہوگی۔ اس کے برخلاف ایشین مولویوں کا سارا زور اپنی کچھ شخصیات پر رہتا ہے۔ آپ کوئی بھی سوال کر دیجئے وہ کہیں گے

"ہمارے حضرت فرماتے ہیں۔۔۔۔”

ارے بھئی ہم نے آپ کے حضرت کا کیا کرنا ہے، ہمیں تو یہ بتاؤ کہ اللہ اور اس کا رسول کیا کہتا ہے ؟ سو ہم ان پیدائشی مسلمانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ اسلام سے متنفر ہوتے ہیں۔ اور درست طور پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو عیاشیاں ہم مغربی نو مسلموں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر قربان کردی ہیں۔ وہ تمام عیاشیاں یہ پیدائشی مسلمان یہاں مغرب میں کر رہے ہیں۔ شراب یہ پیتے ہیں، زنا یہ کرتے ہیں، دھوکے یہ دیتے ہیں، بارز اور نائٹ کلبوں میں یہ نظر آتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہو اور یہ کرتے نہ ہوں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ان سے تعلق رکھیں گے تو یہ ہمیں دین سے دور کردیں گے”

پھر ان میں سے ایک نے کہا

"کیا آپ یقین کریں گی کہ ایک پیدائشی مسلمان کولیگ نے مجھے یہ سمجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ اسلام میں چہرہ چھپانا ضروری نہیں لھذا تم نقاب نہ لیا کرو ؟”

انٹرویو کرنے والی نے پوچھا

"کیا چہرہ چھپانا ضروری ہے ؟”

وہ بولیں

"دیکھئے اس سوال کا سورس ڈھونڈنا چاہئے۔ آپ جب اس کی تلاش میں نکلیں گی تو چلتے چلتے یا تو آپ لندن پہنچ جائیں گی یا واشنگٹن۔ مسلم معاشروں میں ایسے سوال مغرب نے انجیکٹ کئے ہیں۔ آپ کو یہ بات بالکل صاف نظر آجائے گی کہ مسلم معاشروں میں اس طرح کے سوالات تب پیدا ہوئے جب کسی مغربی ملک نے ان پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح کے سولات سے مسلم معاشروں کو تو کنفیوز کیا جاسکتا ہے مگر ہم مغربی مسلمانوں کو نہیں۔ہم چیزوں کا جائزہ سائنٹفک بنیادوں پر لیتے ہیں”

"آپ کے خیال میں سائنٹفک بنیاد پر نقاب کو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے ؟”

"دیکھئے، ہمیں رسول اللہ ﷺ کے رخ انور کی ایک ایک تفصیل مل جاتی ہے کہ آپ ﷺ دکھتے کیسے تھے۔ خلفائے راشدین اور بڑے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی مل جاتی ہیں۔ کیا ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی دستیاب ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں کی شکل و صورت کیسی تھی ؟ اس کا ڈیٹا کہیں دستیاب ہے ؟۔ نہیں ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ چہرے چھپاتی تھیں۔ مرد صحابہ نے دیکھا نہیں، اور خواتین صحابہ نے اس لئے بیان نہیں کیا کہ جس چیز کو نقاب میں چھپانے کا حکم تھا، اسے کتاب میں کیسے ظاہر کیا جا سکتا تھا ؟”

"مگر بہت سی نو مسلم خواتین بھی تو چہرہ نہیں چھپاتیں؟”

"یہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ ہم کسی کی پرسنل لائف میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتے”

ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ نو مسلم لوگ ہدایت یافتہ لوگوں کی جماعت ہے۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی طرح حق کی تلاش میں نکلے اور اسلام تک پہنچے سو ان کی کمٹمنٹ بھی پھر کچھ اور ہی لیول کی ہے۔ اور ہم پیدائشی مسلمان تو واقعی باپ کی میراث پر اترا رہے ہیں، اپنی ذاتی "دینی کمائی” کوئی نہیں !

  • رعیات اللہ فاروقی صاحب کی قلم سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے