اردو، اردو، اردو

تحریر: سید ارشاد آرزو (کولکتہ)

بچپن سےسنتا آ رہا ہوں کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام ہے.اور یہ قول صد فی صد درست بھی ہے.
لیکن موجودہ زمانےمیں وہ تہذیب کہاں گم ہوگئی ہے؟اس تہذیب کا گلا کون گھونٹ رہا ہے.؟
میرا جواب ہے:
میں ،
آپ ،
ہم سب !
معاف کیجیے گا:
ہم آج بھی کسی اردو محافظ تحریک کے منتظر ہیں،سرکاری مراعات کی آس لگائے بیٹھے ہیں، لیکن……
خود اپنےگھروں سے اس زبان اور تہذیب کو کب کے رخصت کر چکے ہیں.
آج ہمارے یہاں شادیوں کے کارڈ انگریزی میں چھپتے ہیں.مسجدوں، خانقاہوں. مدرسوں، قبرستانوں کے بورڈز ہندی میں ہوتے ہیں( الا ماشاءاللہ کہیں کہیں اردو میں لکھے بورڈ آج بھی اپنی آخری سانس لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں.) اب تو سر پیٹنے کے دن آ گئے ہیں کہ اردو مشاعروں، سیمیناروں اور دیگر تقریبات کے بینرز ہندی اور انگریزی رسم الخط میں بنائے اور لگائے جا رہے ہیں.
میہی نہیں، آج ہم ایسے نازک دور سے گزر رہے ہیں کہ مشاعروں میں وہ شعرا و شاعرات بلائے جا رہے ہیں جو اردو سے قطعی نا بلد ہیں. وہ ہندی اور رومن انگریزی میں لکھ کر( در حقیقت نقل کر کے) لاتے ہیں.اب ایسے ناظم مشاعرہ اور نقیب محفل بنائے جا رہے ہیں جو غیر ضروری گفتگو، لطیفے اور غیر معیاری جملے سناسناکر سامعین کو گونگا بنارہے ہیں اور تالیاں بجانے کی غلط روایت کو فروغ دے رہے ہیں. جس کی وجہ سے زبان و ادب کا معیار و تہذیب رو بہ زوال ہے. حد تو یہ ہے کہ اب اردو کی تنظیمیں ان کے ہاتھوں میں ہیں جو ایسے ہی شعراءکو بلا رہے ہیں جن کااردوزبان وادب سے کوئی واسطہ نہیں۔ حتی کہ اکثر اردو اکاڈمیاں اور سرکاری ونیم سرکاری اردوادارے بھی اسی ڈگر پہ چل پڑے ہیں. اب ذرا سوچیں کہ یہ اردو کی خدمت کر رہے ہیں یا گلا گھونٹ رہے ہیں؟
میں نے ایک مشاعرے میں تالیاں بجائے پر اعتراض کیا تو ناظم نے کہا کہ اب قدریں بدل رہی ہیں.سوال یہ ہے کہ زبان و ادب کی قدیم روایات واقدارکو تبدیل کرنے کی اجازت کس نے دی؟اساتذہ فن نے؟ زبان و ادب کے ماہرین نے؟یا خود ساختہ شعرا و ادباء نے؟ ستم بالائے ستم یہ کہ ہم ایسے خودساختہ شاعروں اورادیبوں کو اردوکا محافظ سمجھ بیٹھےہیں.
ظاہر ہے جو اردو زبان سے ناواقف ہوگا وہ اس کی تہذیب سےکیوں کر آشنا ہوگا.؟
آج ہم اپنےبچوں کوانگریزی اوردیگرعلاقائی زبانوں کےحوالے سےتعلیم دلوارہے ہیں.اردو میں نہیں.
ہاں،جب انگریزی میڈیم کےڈونیشن اور دیگرفیس ادا کرنےکی استطاعت نہیں ہوتی یا ان کی اوقات سے باہر ہو جاتی ہے تب ان کو اردو میڈیم اسکول نظر آتے ہیں۔
نتیجہ یہ کہ بچہ نہ انگریزی کاہوپاتا ہے نہ اردوکا.
شروع سے کوئی اردو میڈیم میں بچے کو ڈالتا ہے تو ہمارا معاشرہ اسے احساس کمتری میں مبتلاکرنےمیں کوئی کسرنہیں اٹھارکھتا۔ .
نتیجہ یہ کہ معتدبہ تعداد میں اسکولوں اور کالجوں سے اردو کا شعبہ اس لئےختم کردیا جاتاہے کہ بچے موجود نہیں. اب ذرا سوچئیے کہ شعبہ بند ہونے سے کتنا اور کس کا نقصان ہوا؟ہم ایک طرف اردوکوروزگار سےجوڑنے کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنے ہاتھوں سےاردو گلا بھی گھونٹ رہے ہیں.غور طلب یہ ہےکہ شعبہ کے بند ہونےسےاردو اساتذہ کی بحالی اورتقرری پر روک لگادی جاتی ہے.جب اردوپڑھنےوالےبچےہی نہیں ہیں تواردوشعبہ کی ضرورت ہی کیاہے۔اس کی صدہا مثالیں موجود ہیں کہ کالجوں میں پہلے اردوشعبےتھےلیکن طلباء کی عدم موجودگی کےسبب انھیں بندکرناپڑا۔اردوکے تعلق سے بار بار کہاجاتا ہےکہ روزگارسےجوڑےبغیراس کی بقاء اور تحفظ ممکن نہیں۔اردو والوں کا حال یہ ہےکہ جہاں وہ روزگار سےجڑی ہوئی ہے وہاں بھی وہ اس رشتہ کوتوڑرہےہیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کہ اس زبان کوسرکاری سطح پر جوحق ملناچاہئےوہ نہیں مل پارہا ہے.وجہ یہ کہ ہے صوبوں کی سرکاروں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ خود اردو والے اپنی زبان کے وفادار نہیں۔ایسے میں آسانی سے اردو کاکام تمام کیاجا سکتا ہے.
صورت حال یہ ہے کہ اب ہمارے اندر قوت احتجاج باقی ہے نہ قوت مدافعت۔ خودغرضی اور ذاتی منفعت بخشی کی اس سےبدتر مثال کیاہوگی۔انھیں الزام دیتےتھےقصوراپنانکل آیا۔
اردو کے سلسلے میں کتنا کچھ ہوا اور ہو رہا ہےلیکن آپ اور ہم ذرا غور کریں کہ کس حد تک ہم احتجاج کر پا رہے ہیں. ایک بار پھر معذرت کے ساتھ عرض کرتےچلیں کہ احتجاج وہی کرے گا جو اپنی زبان سے عشق کرے گا. کیوں کہ عشق میں ہی کھونے کا خدشہ اور ملال رہتا ہے. جب عشق ہی نہیں تو نہ کھونے کا ڈراورنہ آبائی وراثت کی پامالی کا دکھ۔!
"عشق جس نے کبھی کیا ہی نہیں
ہجر کا درد کیسے سمجھے گا”

  ہم نے اردو سے عشق کرنا کب کا ترک کر دیا ہے. 

یہ تو خیرِ منائیے اردو کے جینوین شاعروں اورادیبوں کا کہ آج بھی اردو کے کاز میں، ترقی و ترویج میں ہمہ تن مصروف ہیں. جن کے دم سے اردو کے کچھ رسالے اور اخبارات زندہ ہیں.اور کہیں نہ کہیں ان کے گھروں میں زبان و تہذیب سانس لے رہی ہے.لیکن ہمارا وہ معاشرہ جواردوسےنابلد ہے،ہم شاعروں اور ادیبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ لوگ تو صرف مشاعرہ اور سیمینارہی جانتے ہیں اور کچھ بھی نہیں.(یہ گانے بجانےوالے لوگ ہیں)
ایسا کیوں؟؟؟
ایسا اس لئے ہے کہ جو اردو سے ناواقف ہوں گے بھلا وہ اس کی تہذیب سے کیسے جڑیں گے.؟
سوالات اور بھی ہیں، لیکن مختصر طور یہ سمجھ لیجیے کہ تمام سوالوں کا حل صرف ایک ہی ہے:اور وہ یہ کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں اردو کو زندگی بخشیں. بچوں کو کسی بھی میڈیم سے پڑھائیں، ہمیں کوئی شکایت نہیں، لیکن اردو کو ایک اختیاری سبجکٹ کے طورپرضرورپڑھائیں،اسے فراموش نہ کریں۔ یادرکھئیےکہ اردو زبان ہماری قومی وراثت ہے۔ اس کا تحفظ اوربقا ہماری ذمہ داری ہے۔جہاں اسکولوں میں اردوتعلیم کی گنجائش نہیں ہے وہاں گھروں میں اردو پڑھائیں.
یقین جانیے جب ہمارے بچے اردو پڑھیں گے تو اردو سے عشق بھی کریی گے.جب عشق کریں تواس کےحقوق کے لیے احتجاج بھی کریں گے.بازیافت بھی کریں گے۔احتجاج انقلاب کی خشت اول ہے.انقلاب آئے گا تو حل بھی نکلیں گے۔۔۔ذرانم ہوتویہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔۔۔یاد رکھیں:

” تاریخ مٹا دیتی ہے اس قوم کی پہچان
جواپنی زباں کی بھی حفاظت نہیں کرتی”

تحریر: سید ارشاد آرزو
دار التحریر/قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن
سکرا ول،اردوبازار،ٹانڈہ۔امبیڈکرنگر(یو،پی) 9681575052

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے