میراروڈ جماعت اسلامی کی طرف منعقدہ بین المذاہب مکالمہ میں سارے مذاہبِ کی ممتاز شخصیات کی شرکت

میراروڈ ( ساجد محمود شیخ )
بروز اتوار ۲۵ جون ۲۰۲۳ کو جماعت اسلامی میراروڈ کی جانب سے لیو ان ریلیشن شپ اور اس کے خاندان پر پڑنے والے اثرات عنوان کے تحت ایک بین المذاہب مکالمہ کا انعقاد کیا گیا اس پروگرام میں مختلف مذاہب کی مذہبی شخصیات نے اپنے اپنے مذہبی تعلیمات کی روشنی میں لیو ان ریلیشن شپ کے نقصانات اور مذہب میں خاندانی نظام کی وکالت کی بات کی ۔اس پروگرام میں اسلام ،ہندومذہب ،عیسائی مذہب ،جین مذہب اور بدھ مذہب کے پیروکار شریک تھے ۔یہ پروگرام جماعت اسلامی نے سدھ بھاونا منچ اور سابلا ناری منچ کے اشتراک سے کیا ۔پروگرام کا عرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا ایڈوکیٹ الکا آج لیو ان ریلیشن شپ کے بڑھتے ہوئے معاملات اور اس کے نتیجے میں خواتین کے خلاف جرائم کو اجاگر کرتے ہوئے بین المذاھب مکالمہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔مبلغ اسلام ڈاکٹر پرویز مانڈوی والا نے کہا آج جنسی انارکی پھیل رہی ہے ہم مسئلہ بیان کرتے ہیں مگر مسئلہ کے حل کی تلاش نہیں جاتے انہوں نے کہا ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے اپنے خالق سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے قرآن میں عبادات سے زیادہ خاندانی نظام پر بات ہوئی ہے لیو ان ریلیشن شپ میں ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے نکاح سے بیوی اور بچوں کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں لیو ان ریلیشن شپ کے نتیجے میں سنگل مدر اور سنگل پیرنٹس کے معاملات سامنے آتے ہیں جو کہ سنگین نا انصافی ہے خاندانی نظام کی خرابی سے معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ہرے راما ہرے کرشنا اور بھکتی ویدانتا اسپتال سے وابستہ راجش کدم نے کہا آزادی اور خواہشات کی غلامی میں فرق ہے لیو ان ریلیشن شپ مغرب کی دین ہے گلوبلائزیشن کے نتیجے میں ہمارے ملک میں یہ وباء آ گئی ہے آج ان کا معاشرہ نقصان سے دوچار ہےاور وہ لوگ روحانیت کی تلاش میں ہیں جبکہ ہم ان کی تقلید کرکے نقصان اٹھانے جا رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ آج لوگ شادی کر رہے ہیں مگر شادی کے مقصد سے ناواقف ہیں وہ صرف خواہشات کی تکمیل کیلئے شادی کرنا چاہتے ہیں اسی لئے بہت سے لوگ شادی کی بجائے لیو ان ریلیشن شپ میں رہنا گوارا کر رہے ہیں ۔فادر پیٹر نے لیو ان ریلیشن شپ کے بجائے شادی اور خاندانی نظام پر زور دیا ۔اشوک جین نے جین مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع وقت کی ضرورت ہے ہم بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں انہوں نے کہا لیو ان ریلیشن شپ ہماری تہذیب کا حصہ نہیں ہے سماج اور اقدار دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں اقدار اور روایات کو توڑنے والی بچیاں جرائم کا شکار ہوتے ہیں ۔
ایڈوکیٹ امر چافے نے بدھ مذہب کی تعلیم کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہر مذہب کی اچھی باتیں ہوتیں ہیں ان کا ہمیں علم ہونا چاہئے انہوں نے عورت کے مقام ومرتبہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا سارے مذاہب کی اہم شخصیات ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہے کوئی بھی مذہب بیٹیوں کو مارنے کی تعلیم نہیں دیتا یہ وحشی خیال ہے آج بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں ماں بہنوں میں احساس کمتری پیدا ہوا ہے ہمیں لڑکے اور لڑکیوں میں امتیاز نہیں کر کرنا چاہیئے لیو ان ریلیشن شپ میں پارٹنر ایک دوسرے کے ذمہ دار نہیں ہوتے بلکہ یہ رشتہ سراسر ہوس پر مبنی ہوتا ہے ہمیں ہوس سے بچنا چاہیئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے