عید کے موقع پر اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیے!

فتنہ ارتداد کے تناظر میں

تحریر: خالد سیف اللہ صدیقی

عید کا موقع بڑی خوشیوں ، مسرتوں اور گہماگہمیوں کا ہوتا ہے۔ اس موقع پر گھر کے دیگر افراد کے علاوہ گھر کی لڑکیاں ، بہنیں اور بیٹیاں بھی کپڑے ، جوڑے ، چپل ، جوتے اور زیورات وغیرہ کی خریداری کے لیے بازاروں اور مارکیٹوں میں اکثر جاتی ہیں۔ کبھی تو گھر کے مردوں کے ساتھ جاتی ہیں ، اور کبھی اکیلی چلی جاتی ہیں۔
یاد رکھیے کہ اس خوشی ، گہماگہمی اور ہماہمی کے موقع پر گھر کی لڑکیوں اور بچیوں کا اس طرح اکیلے خریداری وغیرہ کے لیے بازار اور ماکیٹ جانا انتہائی سخت اور خطرے کی بات ہے۔ وہ اگر چند مل کر بھی جائیں ، تب بھی خطرے سے خالی نہیں۔
بہتر ؛ بلکہ لازم ہے کہ اگر واقعی گھر کی لڑکیوں اور بہن بیٹیوں کے لیے اس موقع پر بازار جانا ضروری ہو جائے ، تو پورے پردے کے اہتمام کے ساتھ گھر کے مرد(باپ ، بھائی یا شوہر وغیرہ) انہیں بازار لے جائیں!
دوسری بات عید کے روز سے متعلق ہے۔ عید کا دن بڑی گہماگہمی ، چہل پہل اور مصروفیتوں کا ہوتا ہے۔ اس دن ہر کوئی اپنے آپ کو انتہائی آزاد اور کھلا محسوس کرتا ہے۔ ایسے موقع پر اپنی بہن بیٹیوں پر اور ان کے آنے جانے اور ان کی دوستوں اور ملاقاتیوں پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ عید کی خوشیوں ، مسرتوں اور مصروفیتوں میں پھنس کر آپ اپنے گھر کی لڑکیوں اور بہن بیٹیوں سے بالکل غافل ہو جائیں!
یہ باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں ؛ کیوں کہ ابھی عید الفطر کے موقع پر یہ اندوہ ناک واقعہ پیش آیا ہے کہ بعض علاقوں سے خاص عید کے دن لڑکیوں کے اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ جانے اور بھاگنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
ایک بات سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اس خاص موقع پر سازشی لوگوں اور بد نیتوں اور بد نظروں کی نظریں ہماری بہن بیٹیوں پر زیادہ ہو سکتی ہیں۔ وہ اس خاص موقع کی آزادیوں ، ہماری مصروفیتوں اور گہماگہمیوں کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؛ لہذا اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے غیر مسلموں ؛ خصوصا جن غیر مسلم دکان داروں وغیرہ سے اس موقع پر اپنی بہن بیٹیوں کی خریداری وغیرہ کا واسطہ پڑ رہا ہو ، ان سب پر بھی کڑی نظر رکھی جائے! ان سے بلا ضرورت گفتگو اور بات چیت کا ہرگز موقع نہ دیا جائے!
بس خلاصہ یہ ہے کہ ایسے خاص مواقع پر اپنی لڑکیوں اور بہن بیٹیوں پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ خوشی اور تہوار کی رنگینیوں ، مستیوں اور گہماگہمیوں میں پھنس کر ہم اپنی بہن بیٹیوں سے غافل نہ ہو جائیں! بلا وجہ اور خواہ مخواہ ان پر زیادہ اعتماد اور بھروسہ بھی نہ کریں!
دعا ہے ، اللہ تعالے ہمارے اعمال کو قبول فرمائے! اس عید کو ہمارے لیے اور تمام عالم کے مسلمانوں کے لیے باعث خیر و رحمت و مسرت بنائے ، اور بار بار اسی طرح ہمیں یہ خوشیوں اور مسرتوں بھری عیدیں نصیب فرمائے۔ (آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے