ہمیں جذبۂ بندگی و ایثار سکھاتی ہے عید قرباں

تحریر: شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی
اب تو یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

مذہب اسلام نے دنیا میں امن وامان قائم کردیا اور وہ مساوات پیدا کر دی جو اقوامِ عالم کو ترقی کی معراج پر پہنچا دینے کے لئے کافی ہے اس مساوات کو اور مذاہب میں ٹٹولنا اپنا وقت فضول ضائع کرنا ہے کون نہیں جانتا کہ عیسائیوں میں کالے گورے کا قبرستان تک الگ ہے کسے خبر نہیں کہ پروٹسٹ اور رومن کیتھولک ، عیسائی و غیر مذاہب والوں کی طرح آپس میں امتیاز رکھتے ہیں ہندوؤں کے چار ورن کس سے مخفی ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کسی عرب کو غیر عرب پر کسی عجمی کو غیر عجمی پر کوئی بزرگی اور برتری فضیلت و عزت نہیں تم سب حضرت آدم کی اولاد ہو اس حیثیت سے آپس میں سب برابر ہو ذاتی اور قومی فخر کوئی چیز نہیں اور چونکہ خود حضرت آدم مٹی سے پیدا شدہ ہیں اس لئے اور بھی تمہیں فخر و غرور سے یکسو رہنا چاہیے پھر مذہب تم سب کو آپس میں بھائی بھائی قرار دیتا ہے ہر ایک مسلمان خواہ وہ کسی قوم کا ہو مسلمان ہو کر تمہارا بھائی ہو جاتا ہے خواہ تم کسی برادری کے کیوں نہ ہو بلکہ اسلام تو تمہیں مساوات کا سبق اس طرح بھی سکھاتا ہے کہ اپنے غلاموں پر بھی حقارت کی نگاہ سے ان پر اپنی برتری سمجھ کر انہیں گرانہ دینا ان کا پورا خیال رکھو ان کا ہر دم پاس و لحاظ رہے جو تم کھاؤ انہیں بھی اس میں سے کھلاؤ اور جو تم پہنو انہیں بھی اس میں سے پہناؤ ۔
جہاں تک نظر ڈالی جاتی ہے اسلام کے کل احکام اسلام کے جملہ اصول حکمت اور اتفاق و اتحاد کی جیتی جاگتی عملی تصویر نظر آتے ہیں عید اور بقرہ عید کے دن کو ہی دیکھو حکم ہوا کہ اس دن نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن کر صبح ہی صبح شہر سے باہر جنگل میں ایک جگہ جمع ہو جاؤ تاکہ تمہاری جاہ و حشمت کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھے پھر ایک کو آگے کر کے سب اس کی اقتدا میں خدا کے سامنے جھکو تاکہ تمہارا اتحاد واتفاق ظاہر ہو ۔جاؤ تو تکبیریں کہتے ہوئے نماز پڑھو تو تکبیریں کہتے ہوئے واپس آؤ تو تکبیریں کہتے ہوئے تاکہ تمہاری خدا پرستی کا اظہار ہو۔اللہ اللہ یہ جمعیت، یہ جماعت، یہ یکجائی، یہ یکجہتی، یہ ہم آہنگی، یہ اتحاد مقصد، یہ اتفاق روحانی و جسمانی، کیا وہ چیزیں نہیں؟ جو تمہارے دشمنوں پر سانپ بن کر لوٹیں اور ان کا کلیجہ پھٹ نہ جائے ۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کر دو، اور عید الاضحی کی نماز کے بعد قربانی کے گوشت کا ایک حصہ غرباء ومساکین میں تقسیم کردو تاکہ تمہاری غمخواری اور ہمدردی ظاہر ہو جہاں تم اپنی ضروریات پر سیکڑوں خرچ کرتے ہو وہاں غرباء کی بھی خبر لو جو تم جیسے ہاتھ پاؤں رکھتے ہیں مگر قدرت نے انہیں تمہارا دست نگر بنا رکھا ہے۔ اپنی رانڈوں یتیموں بیکسوں کی بھی خبر لیا کرو تم نے اپنے بچوں کی ہٹ اور ضد پوری کردی ان کے لیے نئے اور عمدہ کپڑے بنوائے لیکن ایک یتیم بچہ آہ کر کے رہ گیا یہ کس کے سامنے ہٹ کرے کون اس کی ضد پوری کرے گا اس کا باپ ہوتا تو وہ بھی اپنے نور نظر لختِ جگر کے نہ جانے کیا کیا ارمان پورے کرتا تم نے اپنی بیویوں کے کپڑے لتے جوتی زیور وغیرہ کا انتظام کر لیا انہوں نے تم سے لڑ جھگڑ کر، کہہ سن کر، بن بگڑ کر، اپنی اپنی چاہت کے مطابق اپنی فرمائش پوری کرائی لیکن ان غریب رانڈ عورتوں کی ناز برداری کرنے ان کی امنگوں کو پورا کرنے والا کون ہے وہ کس پر دباؤ ڈالیں گی وہ کس کا پلہ تھامیں گی وہ کہاں سے اچھے اچھے کپڑے وغیرہ لائیں گی جنہیں پیٹ پالنے کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں۔ امیرو تم اپنے مال سے گلچھرے اڑاؤ کیا خدا کے مسکین بندوں کا حق بھول جاؤ اپنے نبی ﷺ کی سخاوت اور غرباء نوازی کیا تم فراموش کرگئے جن کی زبان مبارک سے کبھی کسی سائل نے انکار کا لفظ تک نہیں سنا۔
غرض اس فرمان نے گلزار اتفاق میں بادِ بہاری کا کام کیا پھر حکم ہوتا ہے نماز کے بعد سب مل کر ذکر اللہ یعنی خطبہ سنو جس میں اسلام کی اگلی شان و شوکت کا نقشہ تمہارے اسلام کے بہترین جوش و خروش کے نمونے ان کی سچی جاں نثاریاں تمہاری ترقیوں کی گزشتہ داستانیں تمہارے کانوں میں پڑیں اور تمہارے برف سے زیادہ منجمد اور سرد دلوں میں پھر ایک مرتبہ گرمی پہنچے کچھ خیال بند ھے اور پھر ولولہ پیدا ہو حکم ہوا اب واپس آؤ تو راستہ بدل کر دوسری راہ سے آؤ تاکہ اس طرف بھی تکبیر کا غلغلہ بلند ہو ادھر بھی شان اسلام نمایاں ہو ادھر بھی توحید کا چرچا ہو ۔
بقرہ عید کا دن ہے رسولِ اکرم ﷺ ڈیرھ لاکھ مسلمانوں کے ساتھ ارکانِ حج ادا کر رہے ہیں اونٹنی پر سوار ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی نکیل تھامے ہوئے ہیں دفعتاً حضور ﷺ سوال کرتے ہیں بتلاؤ یہ کونسا دن ہے لیکن ادب داں مزاج شناس صحابہ یہ جانتے ہوئے کہ آج عید کا دن ہے پھر بھی خاموش رہتے ہیں کہ شاید حضور اس کا کوئی نیا نام رکھیں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سرور انبیاء رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں کیا یہ قربانی کی عید کا دن نہیں ہے ہم نے کہا بے شک یہی دن ہے آپ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ اس نام کے علاوہ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے کہا بیشک ہے آپ نے فرمایا بتلاؤ یہ کون سا شہر ہے ہم نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ عالم ہیں آپ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ اس کا کچھ اور ہی نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( یعنی مکہ) نہیں ہے ہم نے کہا بے شک آپ نے فرمایا اب سنو تمہارے خون تمہارے مال عزت تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں بتلاؤ کیا میں تمہیں خدا کا یہ حکم پہنچا چکا سب نے کہ ا ہاں بے شک آپ نے کہا الہی تو گواہ رہ پھر فرمایا جو موجود ہیں ان پر فرض ہے کہ جو موجود نہیں انہیں پہنچا دیں بہت سے جو پہنچائے جائیں گے سننے والوں سے بھی زیادہ یاد رکھنے والے اور محفوظ رکھنے والے ہوں گے ۔
یاد رکھو کبھی وہ قوم پنپ نہیں سکتی جس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ نہ دلوایا جائے جس کے بڑے چھوٹوں کو نگل جائیں اور دوسرے کھڑے تماشا دیکھا کریں ۔وہ جماعت جماعت کہلانے کی اور زندہ رہنے کی حقدار نہیں جس میں دو لڑنے والوں کے درمیان تیسرا کوئی فیصلہ کرنے والا نہ ہو دو مسلمانوں کے درمیان ناچاقی دیکھو فوراً اٹھ کھڑے ہو جاؤ اور حسنِ تدبیر سے انہیں گلے ملا دو یہ نہ کہو کہ ہمیں کیا؟ آج اس کی باری ہے کل تمہاری ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اگر خدانخواستہ یہ بھنور میں آئی تو نہ ان کی خیر ہے نہ ہم پر مہر۔ سب سے بڑی نیکی آپس کی اصلاح ہے اور سب سے بڑی بدی آپس کا فساد ہے نفس کو مارنا مل جل کر رہنا آپ دکھ سہہ لینا لیکن دوسروں کو رنج نہ پہنچانا اصل اسلام یہی ہے ۔
الہی تو ہمیں آپس میں اتفاق دے، محبت دے ، بغض، عداوت، غرور، کبر، خودی اور خود پسندی، کو ہم سے دور فرما دے، ہمارے دل ملا دے ، ہمیں ترقیاں دے،تنزل سے بچالے، بری عادتیں ہم سے دور کر دے اور ہم پر اپنا فضل و کرم لطف و رحم نازل فرمادے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے