ابراہیم علیہ السلام کی استقامت

اکلوتے بیٹے کا بوڑھا باپ بیٹے کی گردن پر چھری رکھ کر اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ذبح کر رہا ہے۔ مگر چھری بھی تو اسی ذات کے اختیار میں ہے جس کے اختیار میں آگ تھی۔ چھری سے ذبح کرنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے اور آسمان سے آواز آتی ہے:

’’ابراہیم! بس اب امتحان پورا ہو چکا ہے۔ آپ کی قربانی کی یاد قیامت تک ہر سال زندہ کی جاتی رہے گی۔ آپ کے حقیقی پیروکار ہر سال آپ کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے موٹے تازے جانوروں کا خون اللہ کی رضا کے لیے بہاتے رہیں گے۔‘‘

یہ ہے ایک ہلکا سا منظر اس عظیم و جلیل پیغمبر کی عزیمت و استقامت کا جسے اللہ تعالیٰ نے اولوالعزم رسولوں میں شمار کیا ہے اور ’’خلیل اللہ‘‘ جیسا پیارا خطاب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی تو نہیں فرمایا کہ

’’اور جب ابراہیمؑ کو اس نے بہت سی باتوں میں آزمایا تو وہ بھی پورا اترا۔ پھر رب نے کہا میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے