اے ہربرٹ! ہم تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں

ازقلم: تابش سحر

"ہربرٹ بیٹوابابو” ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل تھے جنہیں گروپ ایڈمن نے تکنیکی اختیارات کا استعمال کرتے ہوے محفل سے بےدخل کردیا۔ ہربرٹ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور فاضل جج نے "منتظمِ محفل” سے درخواست کی کہ انہیں دوبارہ محفل میں شامل کیا جائے۔ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوے منتظم نے انہیں دوبارہ شامل بھی کیا اور مزید عنایت کرتے ہوے انہیں بھی منتظمِ محفل بنادیا۔ اب راوی چین لکھنے ہی والا تھا کہ اراکینِ محفل یکے بعد دیگرے رخصتی کے آداب پڑھنے لگے اور بیچارے ہربرٹ بالکل اس طرح تنہا رہ گئے جس طرح قیس’ اکیلا ہے جنگل میں! ہربرٹ ایک مرتبہ پھرجمعیت کی روِش پر چل پڑے اور عدالت سے گزارش کی کہ دوبارہ تمام اراکین کو محفل میں شامل ہونے کا فیصلہ صادر فرمائے! معاملہ ابھی زیرِ التوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یوگانڈا کے علاقے بوانجا میں کچھ افراد جمع ہوے، انہوں نے خدمتِ خلق کا بیڑہ اٹھایا، ایک تنظیم کی بنیاد رکھی اور رکنیت پر پیسہ بھی جمع کیا۔ ہربرٹ نے بھی رکنیت کے لیے جیب ڈھیلی کی اور تنظیم کے سرگرم رکن بن گئے پھر جب تنظیم کے اجلے دامن پر بدعنوانی کے داغ نظر آنے لگے تو ہربرٹ نے سمیع اللہ خان، تابش سحر، سلیمان شاہین وغیرہ بن کر آواز اٹھائی۔ پہلے پہلے تو انہیں نقّار خانے کا طوطی سمجھا گیا پھر جب ان کی آواز مزید بلند ہوی توحکمت و دانائی کے بلند مقام پر فائز صدرِ تنظیم نے انہیں واٹس ایپ گروپ سے ریمود کردیا۔ معلوم ہوا کہ یوگانڈا کی تنظیموں کا بھی یہی حال ہے جیسے ہندوستان کی، وہاں بھی اجلے دامنوں پر داغ نمایاں ہیں اور یہاں بھی، وہاں بھی حق کی آواز دبائی جاتی ہے اور یہاں بھی۔۔۔۔۔ ہم تو سمجھے تھے ہندوستان سب سے الگ ہیں لیکن آہ یوگانڈا بھی ہم سے پیچھے نہیں، "اے ہربرٹ! ہم تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے