یونیفارم سول کوڈ: تعارف و تعاقب کچھ اہم نکات

ازقلم: محمد فیضان الحق

مجھے آج جس موضوع پر اظہار خیال کرنا ہے یہ کوئی حالیہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ گزشتہ پانچ چھ دہائیوں سے یہ مسئلہ مسلم سماج کو مسلم معاشرے کو وقتاً فوقتاً پریشان کرتا رہا ہے۔
سن 1972ء میں سب سے پہلے ملکی سطح پر "یکساں سول کوڈ” مسلمانوں کی پریشانی کا باعث اس وقت بنا جب حکومت وقت یعنی "اندرا گاندھی” نے متبنی بل (adoption act) پارلیمنٹ میں پیش کیا، اور اسکو نافذ کرنا چاہا، اس بل میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی بھی مذہب کے بچے کو گود لیا جائے گا/ لے پالک بنایا جائے گا، تو اسکی حیثیت حقیقی اولاد کی رہے گی، اور وراثت وغیرہ میں اسکو وہی حق حاصل ہوگا جو حقیقی اولاد کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت مسلمانوں کی جانب سے شدید رد عمل اور احتجاج کا مظاہرہ پیش کیا گیا، پھر ملکی سطح پر تمام مسالک اور مکاتب فکر کے ذمہ داران ممبئی میں جمع ہوۓ، ایک بڑی کانفرنس ہوئی، ( اسی وقت مسلم پرسنل لا کا قیام عمل میں آیا تھا ) اور اسکی مخالفت کی گئی، مسلمانوں کی متفقہ اور مشترکہ مخالفت کی وجہ سے اس وقت کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ یونیفارم سول کوڈ نہیں لاۓ گی، واضح ہو کہ بورڈ ہی کی تحریک کی وجہ سے حکومت نے اس بل کو واپس لیا تھا، پھر جب سن 1980ء میں دوبارہ اس بل کو لایا گیا تو مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ معاملہ دب تو گیا تھا لیکن تھما نہیں تھا، اسکے بعد بھی مختلف عنوانات کے تحت "یکساں کوڈ” کو زیر بحث لایا گیا، اور اسکا بھرپور مطالبہ کیا گیا۔
لیکن حکومت یہ جان چکی تھی وہ سیدھے طور سے اس بل کو مسلط نہیں کرسکتے اس لیے انہوں نے عدالت کا باۓ پاس چنا اور مسلمانوں کو چیلینج کیا، اسی کی ایک کڑی/ گزشتہ میں تین طلاق کے معاملے کو اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ مسلمانوں کے ہاں قانون ہے کہ ایک ہی نشست میں ایک ساتھ تین طلاق دی جائے تو زوجین کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے، اسکے علاوہ طلاق کا حق بھی یک طرفہ ہے جو صرف مرد کو حاصل ہے، اور یہ عورت سماج کے ساتھ صریح نا انصافی ہے۔ کورٹ میں مذکور الذکر معاملہ پر کئی مہینوں تک کافی بحثیں چلی، جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ کورٹ نے اسکو منظور کرلیا، اور اس کا متبادل پیش کرنے کی حکومت سے اپیل کی۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ؛ مسلمانوں کے یہاں بھی ایک مسلک تو تھا کہ، ایک نشست میں تین طلاق دینے سے تین طلاق شمار کی جاۓ گی، اور دوسرا مسلک یہ ہے کہ ایک طلاق شمار کی جاۓ گی، ہونا تو یہ چاہے تھا کہ حکومت کو اس میں اگر عورت کے ساتھ نا انصافی معلوم ہوئی، تو کم سے کم ایک طلاق پکڑی جاۓ، لیکن سپریم کورٹ کے مطالبہ پر حکومت نے اسکا جو بدل پیش کیا وہ شریعت کے ساتھ بھدا مذاق ہے، حکومت نے جو بل پیش کیا اس میں کہا گیا کہ "تین طلاق اگر ایک نشست میں دی گئی تو وہ طلاق ہی اِن ویلیڈ ہوگی (یعنی ایک بھی طلاق نہیں پکڑی جاۓ گی) اور اگر کوئی ایسے کرتا ہے یعنی تین طلاق ایک ساتھ دیتا ہے تو اسکو تین سال کی جیل ہوگی، عورت کا نان و نفقہ بھی اس درمیان پورا کرنا ہوگا، اور جیل سے رہائی کے بعد اسکا رشتہ علی حالہ باقی رہے گا، اس وقت پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی جانب سے اپنی اپنی راۓ بھی لاء کمیشن کو بھیجی گئی، جسکا فائدہ آپکے سامنے ہے۔
اس طرح کے سینکڑوں مسائل بتدریج سامنے آئیں۔
لیکن اب بڑی شدت کے ساتھ میں اس مسئلہ پر آواز اٹھائی جارہی ہے۔
ابھی حال ہی میں ہندوستان کے وزیر اعظم ( نریند مودی جی ) نے بھوپال کے ایک اجلاس میں بی جے پی کارکنوں سے ایک میٹنگ میں خطاب کرتے ہوۓ یکساں سول کوڈ لانے کی وکالت کی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد انڈیا میں اسکے مخالفین نے شدید رد عمل ظاہر کیا، اور اپوزیشن پارٹیوں نے اسکو ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ خیر اس کے پیچھے کوئی بھی سازش کار فرما ہو، اسکے نفاذ میں بظاہر کچھ مفاد نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ
ہمارا ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا گہوارہ ہے، الگ الگ تہذیب کلچر اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے، سینکڑوں اقوام اس میں بستی ہیں، یہاں ہر دو کلو میٹر پر زبان تبدیل ہوتی ہے، ہزاروں ذات کے لوگ یہاں پائیں جاتیں ہیں، الغرض رنگا رنگ تہذیب ہی اس ملک کا ایسا وصف ہے جو اسے دیگر ممالک سے نمایاں کرتا ہے، اسی وجہ سے آزادی و خودمختاری کے ساتھ ہر کسی کو اپنے مذہب و کلچر پر عمل آوری کی اجازت ملک کا آئین بھی دیتا ہے، کسی بھی فرد کو اسکے دین و مذہب پر عمل کرنے سے کسی کو مزاحمت کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کوئی کسی کو اسکے دھرم جاتی کے نام پر پریشان کرتا ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کیے جانے کا حق دار ہوگا۔
لیکن سنگھی حکومت آۓ دن نت نئے طریقوں سے مسلمانوں کے شرعی مسائل میں مداخلت کرتے نہیں شرماتی۔
ایک مسئلہ ختم ہوا نہیں کہ دوسرا مسئلہ دردِ سر بن کر جنم لے لیتا ہے، ایک مسئلہ کا حل ملا نہیں کہ یہ دوسرا مسئلہ سر بام لاکر کھڑا کردیتے ہیں، اور مسلمانوں کا رہا سہا چین و سکون بھی چھن جاتا ہے۔

یونیفارم نافذ کرنے سے کسے فائدہ؟

دیگر مسائل سے مسلمان کیا کم دوچار تھے؟ کہ اب حکومت کی طرف سے "یکساں سول کوڈ” نافذ کرنے کا مطالبہ طول پکڑ رہا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی صدا بنیادی طور پر "آر ایس ایس” جیسی ہندوتوا تنظیم کی طرف سے ہی بلند کی جاتی رہی ہے، اور یہ کوئی حال کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ گزشتہ پانچ چھ دہائیوں سے اس جن نے بارہا بوتل کے باہر آنے کی ناکام کوشش کی ہے، اور سعی لا حاصل میں ناکام ہی رہا ہے۔ لیکن فی الحال 24 کے الیکشن بالکل قریب آتے جارہے ہیں، ایسے میں "یو سی سی” کو نافذ کرکے بی جے پی بڑی پیش قدمی کرنا چاہتی ہے، اور اسکو نافذ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حربہ بھی اسکو نظر نہیں آتا، کیونکہ جس طرح کرناٹک میں وہ صفر ہوئی ہے دیگر ریاستوں میں بھی صفر ہونے کے امکان ہے۔
گزشتہ میں جب گجرات کے انتخابات تھے (اکتوبر) کے شروع میں اسی وقت مودی حکومت نے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے لیے سپرم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا ؛لیکن سپرم کورٹ نے اس اپیل کو خارج کردیا تھا۔

ملک کے نظام کو جمہوری بنایا گیا

ہمارا ملک تقریبا ساڑھے تین سو سال تک انگریزوں کا غلام رہا ہے، پھر جب ہمارے اکابر اور دیگر مجاہدین آزادی کی دن رات کی محنتوں اور جہد مسلسل کے نتیجہ میں ہمارا دیش آزاد ہوا، تو بڑے بڑے لوگوں کے اتفاق سے یہ طے پایا کہ ملک کے نظام کو جمہوری بنایا جاۓ، اسکے لیے ایک مسلسل اور باضابطہ قانون درکار تھا، فلہذا 284 ارکان کی ایک ٹیم بنائی گئی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈ’ نے جسکی کمان سنبھالی، اور دوسال کی کڑی محنت سے ایک ایک "ایکٹ” پر بحث و مباحثہ کرکے 1949/ 26 نومبر کو اس پر دستخط کئے گئے اور اسکو تسلیم کیا گیا۔
جسمیں تمہید کے طور پر ہی یہ الفاظ لکھے ہوئیں ہیں” ہم بھارت کے عوام متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سماج وادی غیر مذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں، اور اسکے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں، انصاف سماجی، معاشی اور سیاسی، آزادی خیال، اظہار عقیدہ، دین اور عبادت، مساوات باعتبار حیثیت و موقع۔ اور ان سب میں اخوت کو ترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اور قوم کے اتحاد اور سالمیت کا تیقن ہو؛ اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج چھبیس نومبر، 1949ء کو یہ آئین ذریعہ ہذا اختیار کرتے ہیں، وضع کرتے ہیں، اور اپنے آپ پر نافذ کرتے ہیں۔ اتنی صاف تمہید کے بعد کسی قسم کے وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

یونیفارم سول کوڈ کیا ہے؟ کب کس نے اور کیوں بنایا؟

جب آئین ہند کو بنایا جارہا تھا اسی دوران "ڈاکٹر بی آر امبیڈکر” نے یکساں سول کوڈ کی تشکیل دی تھی، اور اسوقت کے دستور ساز ممبران اسمبلی وغیرہ نے اس ایکٹ کی بھرپور مخالفت بھی کی تھی، اور کہا تھا کہ یا تو اس قانون کو ختم کیا جاۓ، یا مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے، اس وقت کہا گیا تھا کہ کسی بھی حکومت کو مسلمانوں کی مرضی کے بغیر اسکو نافذ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ دستور کے دفعہ 44کے ایک پہلو کے تحت یہ قانون آتا ہے، لیکن اس وقت وہ رضاکارانہ ہی تھا، اور کہا گیا تھا کہ یہ تب نافذ کیا جائے گا جب قوم اسکو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگی۔
یکساں سول کوڈ کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے ہر باشندے کے لیے ایک جیسا قانون ہوگا، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا ذات سے متعلق کیوں نہ ہو۔ حالانکہ ملک کے دستور میں ہر مذہب کے پرسنل لاءس(عائلی قوانین) موجود ہے، اور کسی کو انکے پرسنل لا میں مداخلت یا چھیڑ چھاڑ کا حق نہیں ہے۔

اس کو نافذ کرنے کے غلط اثرات

اگر سنگھی حکومت یہ قانون نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو صرف مسلمان نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی اس سے خاصے متاثر ہونگے، کیونکہ ہر مذہب کے اپنے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، جسکے تحت وہ گزر بسر کرتے ہیں، لیکن "یو سی سی” شہریوں سے ان کے مذہبی قوانین پر عمل آوری کے حقوق چھین لے گا، اور ملک کے تمام افراد کو ایک قانون کے تحت چلنا ہوگا، چاہے شادی ہو، یا طلاق، یا خلع، یا وراثت، یا وصیت ہو یا تبنّیت وغیرہ ۔

ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

اسلیے اب مصلحت کوشی کی بجائے سب کو ملکر کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔
یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت میں مسلمانوں کو دفاعی پوزیشن میں آنے سے بچنا چاہیے، اور اس سے خوف و ہراس میں آنے کی بجائے ہندوستان میں بسنے والے سینکڑوں مذاہب کا مسئلہ بنانے کی حکمت عملی درکار ہے، کیونکہ یونیفارم سول کوڈ بنیادی طور پر لوگوں کے مذہبی رشتے اور شرعی اصول و ضوابط کو توڑنے کا کام کرےگا، اور سبھی اس سے خاصے متاثر ہوں گے۔
اسلئے مسلمان اس لڑائی میں تبھی جیت سکتے ہیں اور انکی محنتیں کار آمد ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ہماری لیڈرشپ اور متحدہ تنظیمیں اس مسئلہ کو تمام اقوام کا مسئلہ بنانے میں کامیاب ہوں گی۔
یہ کام صرف لیٹر پیڈ جاری کرنے، اور لمبے لمبے بیانات کرنے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے ہندوستان میں موجود ہر ہر مذہب کے رہنماؤں اور ملی قیادتوں سے جاکر اعلی سطحی طور پر ملنا ہوگا اور اسکے خلاف انکی ذہن سازی کرنی ہوگی۔
اور یہ تدبیریں بھی اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب ان خطرات کو سنجیدگی سے لیا جاۓ۔

یونیفارم سول کوڈ کیوں مناسب نہیں؟

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اپنی ایک لمبی تحریر میں رقمطراز ہے، جسکا خلاصہ یہ ہے کہ؛ یونیفارم سول کوڈ مختلف وجوہ سے ہمارے ملک کے لئے نامناسب اور نقصان دہ ہے، ١) اس سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق متاثر ہوں گے، اور یہ دستور کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ ٢) تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون ایسے ملک کے لئے تو مناسب ہوسکتا ہے جس میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے اور ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں، لیکن ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل اور کثیر المذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں، کثرت میں وحدت ہی اس کا اصل حسن اور اس کی پہچان ہے، ایسے ملک کے لئے یکساں عائلی قوانین قابل عمل نہیں ہیں۔
٣) مذہب سے انسان کی وابستگی بہت گہری ہوتی ہے ، کوئی بھی سچا مذہبی شخص اپنا نقصان تو برداشت کرسکتا ہے؛ لیکن مذہب پر آنچ کو برداشت نہیں کرسکتا، اس لئے اگر کسی طبقہ کے مذہبی قوانین پر خط نسخ پھیرنے اوراس پر خود ساختہ قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے مایوسی کے احساسات اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوں گے اور یہ ملک کی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے۔

ہماری مخالفت

بہر حال! رہی ہماری بات تو جان لو کہ مسلمان اپنے دین و شریعت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، ہمارے نزدیک جتنی اہمیت عبادات کی ہے اتنی ہی اہمیت ہمارے عائلی احکام و قوانین کی بھی ہے ہم کسی بھی صورت "یکساں سول کوڈ” قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، ہم اپنی شریعت سے دست بردار نہیں ہوسکتے، چاہے اسکے لیے ہمیں کٹ مرنا ہی کیوں نہ پڑیں،
یقینا یہ حکومت کا دستورِ ہند کے خلاف انتہائی تشویشناک آمرانہ جبر ہے، ہم مکمل طور پر اسکی مخالفت کرتے ہے۔

sf356605@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے