سیکولرازم کا فراڈ اور جمہوریت کا قبیح چہرہ پھر سے طشت از بام

  • اس میں غور و فکر اور تدبر کرنے والے مسلمانوں کے لئے نشانیاں ہیں
  • مہاراشٹر کی جمہوری سیاست میں زبردست سیاسی اتھل پتھل لیکن اس میں مسلمانوں کیلیے نقصان کم اور سبق زیادہ ہے

آج مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا طوفان برپا ہو گیا جب بھارت کی سیاست میں چانکیہ اور جادوگر کہے جانے والے شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار نے چاچا کی ساری جادوئی دستیاں واشنگ مشین میں ڈال دیں اور بھاجپا سے ہاتھ ملا کر دوسرے نائب وزیر اعلی بن گئے اور بےوقت کمل کو کھلا دیا۔ ذرائع کے مطابق ۳۰ اراکینِ اسمبلی اجیت پوار کے ساتھ ہیں اور انہوں نے سیکولر کردار کو چھوڑ کر ہندتوا کے زعفرانی پرچم تلے خود کو سرینڈر کردیا ہے۔

بھارت کی سیکولر جمہوری سیاست میں منتخب ارکان اسمبلی کا اپنی پارٹی سے بغاوت اور دوسری پارٹی خصوصا بی جے کے ذریعے انکی خرید و فروخت کے سلسلے میں اپنی نوعیت کا یہ کوئی انوکھا نرالا واقعہ نہیں ہے اور پچھلے چند سالوں سے تو منتخب ارکان اسمبلی کا Market Commodity بن کر اپنے ووٹروں کو منہہ چڑھانا ایک عام سی بات ہو گئی ہے کیونکہ بھاجپا ہر چار چھے ماہ میں یہ کام کرتی ہی ہے اور اب تو منتخب ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کا یہ بزنس معمول کا واقعہ بن کر دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے-

مگر مسلمانوں کیلیے اس میں نقصان کم اور سبق زیادہ ہے۔ نقصان اس لیے کم ہے کہ ویسے بھی مہاراشٹر میں بھاجپا ہی کی سرکار ہے اس لیے پھر شندے آئے یا پوار کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ چلے گی تو فڑنویس کی ہی۔ مسلمانوں کیلیے سبق یہ ہیکہ جن نیتاؤں کو مسلمان سیکولر سمجھتے ہیں اور پچھلے ستر سالوں سے جنہوں نے سیکولرازم کے نام پہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے ہیں، اب ان نیتاؤں کی نہیں بلکہ اس ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کی پول کھل رہی ہے۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ لوگ سیکولرازم کے علمبردار نہیں بلکہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ اگر اقتدار سیکولرازم کے خیمے میں ہوگا تو یہ سیکولر بن جائیں گے اور اگر اقتدار ہندوتوا کے زعفرانی پرچم میں ہوگا تو یہ سیکولرازم کا لبادہ ایسے اتار پھینکیں گے جیسے کبھی اس سے کوئی واسطہ تھا ہی نہیں۔

نام نہاد سیکولر جمہوریت میں آئے دن مچنے والی سیاسی ہلچل میں مسلمانوں کیلیے بڑا سبق یہ بھی ہے کہ سیکولرازم اور جمہوریت میں لیڈران (جو درحقیقت نیتا کہے جانے کے زیادہ حقدار ہیں) کے نزدیک سیاسی اقدار کوئی معنی نہیں رکھتیں، اس نظام میں یہ نیتا اقتدار کے ننگے بھوکے ہوتے ہیں اور اقتدار کیلیے اتنے لالچی ہوتے ہیں کہ ہر صورت میں اور ہر ممکن و غیر ممکن طریقے سے اقتدار کا حصول ان کے لئے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس فراڈیہ نظام میں ان نیتاؤں کو سیکولر سے بھگوائی بننے میں ذرا سی دیر نہیں لگتی بس کوئی کرپٹ پارٹی مناسب قیمت لگانے والی ہونی چاہیے۔ اس کی مثال صرف اجیت پوار، چھگن بھوجبل یا این سی پی کے موجودہ اراکین اسمبلی ہی نہیں ہیں بلکہ اس پہلے بھی انگنت نیتاؤں نے اسکی نظیریں قائم کی ہیں۔ جیسے پنجاب کے کیپٹن امریندر سنگھ، یہ شخص کانگریس کا سالوں تک وزیرِ اعلٰی رہا مگر جیسے ہی کرسی کھسکی لمحہ گنوائے بغیر بھاجپا میں چلا گیا۔ اسی طرح مدھیہ پردیش کے جیوتی رادتیہ سندھیا نے بھی پرفریب سیکولرازم کے نام پر خوب شہرت کمائی اور اقتدار بٹورا مگر جیسے ہی اقتدار پلٹا مہاراج کی نیت بھی پلٹ گئی اور سارا سیکولر نظریہ ردی کی ٹوکری میں پھینک کر بھاجپا میں ہوائی جہاز اڑانے کو تیار ہوگئے۔ اسی طرح گجرات کے ہاردک پٹیل نے بھی سیکولرازم کا چولا پھینکنے میں ذرا سی دیر نہیں لگائی اور لمحہ گنوائے بغیر ستتا کی ناؤ میں سوار ہوگئے۔

ذرا سوچیے کہ کتنے بودے، بوسیدہ اور ڈھکوسلے نظریات ہیں ان سیکولر نیتاؤں کے کہ شام تک تو یہ ایسے سیکولر رہتے ہیں گویا کہ سیکولرازم کے رنگ میں سر سے پاؤں تک رنگے ہوئے ہیں لیکن صبح ہوتے ہوتے ایسے بھگوائی بن جاتے ہیں کہ گویا کبھی سیکولرازم کا لفظ ہی نہ سنا ہو۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ سیکولر جمہوری نظام حکومت میں سیکولرزم اور جمہوریت کا نعرہ ایک ڈھکوسلے سے زیادہ اور کچھ نہیں، سب اقتدار کے بھوکے ہوتے ہیں، مسلمانوں نے پچھلے ستر پچھتر سالوں میں سیکولر کہی جانے والی تمام پارٹیوں کو ایک ایک کر کے اور آزما آزما کر دیکھ لیا ہے لیکن سبھی نے مسلمانوں کو استعمال کرنے کے بعد صرف دھوکہ ہی دیا ہے- کیا مسلمان اس جدید جاہلی نظام سے ہٹ کر شرعی بنیادوں پر غور و فکر کرنے کا آغاز کریں گے!!!

إن فی ذلک لذکری لاولی الألباب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے