افسانہ: کالی کوکھ کا دکھ

اب مجھے دیکھو۔ میرا باپ کیسا حرامی تھا۔ میری ماں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کے اور جھوٹی شادی کا وعدہ کرکے ہیرا لال کے حرامی پن سےمجھے پیدا ہونا پڑا۔ حالانکہ میری ماں نے اس حرامی ہیرا لال سے کہا بھی تھا کہ میں پیٹ سے ہوں اور جلد از جلد مجھ سے شادی کر لو۔ مگر ھیرالال بھی شاطر تھا گویا شیطان کا بھائی! میری ماں کو حاملہ کرکے پاس ہی گاؤں سے ایک اور لڑکی کو بھگا کر لانے میں جب کامیاب ہوا, تب میری ماں کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا اور اس صورت میں وہ اپنا حمل بھی نہیں گرا سکتی تھی!

وہ منحوس دن تھا جب پڑوس میں رہنے والا کرشن میری ماں کو ہسپتال لے کر گیا۔ کرشن بھی میری ماں کے جسم کا عاشق تھا اور میری ماں کے اکیلے پن اور اس کے گورے بدن کا خوب فائدہ اٹھایا کرتا تھا۔ میری ماں مجبور تھی، اکیلی تھی، ہیرا لال کی بے وفائی نے اس کے ارمان مٹی میں ملا دیئے تھے۔ وہ بے سہارا تھی اور اوپر سے حاملہ تھی۔ کرشن کے حرامی پن کو جھیلنا اس کی ایک مجبوری تھی۔

دن کے ٹھیک بارہ بجے میں نے اس حرامی دنیا میں قدم رکھا۔ جس کی نظر میں ایک ناجائز بچے کا جنم ہوا تھا۔ ہسپتال کے ریکارڈ میں میری ماں نے ھیرالال کا نام تو لکھوایا تھا، مگر میں عمر بھر ناجائز اور حرامی ہی کہلائی گئی۔ ایک باپ کے بغیر بچے کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ بھلے میری ماں اور ہیرا لال کی شادی نہیں ہوئی تھی لیکن وہ حرامی ہیرا لال پھر میری ماں کے ساتھ سویا ہی کیوں تھا؟ میری ایک ہی پہچان تھی اور وہ تھی "حرام کی اولاد”۔۔

سبھی مجھے حرامی ہی کہہ کر پکارتے رہے حالانکہ حرامی تو میرا باپ ہیرا لال تھا جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام کی زندگی بسر کررہا تھا۔ کرشن حرامی بھی شادی شدہ ہو کر میری ماں سے جھوٹی شادی کے وعدے کرتا رہا اور میری ماں بھی اس کے آگے بے بس تھی۔ وہ شراب پی کر آتا اور گھر میں ہنگامہ کھڑا کرتا۔ اس کی زبان پر ہمیشہ یہی الفاظ رہتے تھے کہ اگلے ہفتے وہ اپنی کالی سانڈ جیسی بیوی کو طلاق دے گا اور میری ماں سے شادی کرے گا۔ میری ماں کو کرشن سے کوئی امید نہیں تھی لیکن وہ مجبور تھی۔ کیونکہ میرے اور میری رنڈی ماں کے اخراجات پورے کرنے میں کرشن کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ میں اسی ماحول میں بڑی ہوتی گئی۔

لوگ میری ماں کو رانڈ کہہ کر پکارتے تھے۔ سماج میں جینا ہمارے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ مجھے یاد ہے جب اس دن میری ماں نے کہا کہ بیٹی اب تم جوانی کی دہلیز پر ہو اور تم اپنا خیال خود رکھ سکتی ہو۔ میری عمر کچھ بارہ سال کے آس پاس تھی۔ میری ماں بازار تو گئی لیکن وہاں سے واپس نہ۔لوٹ آئی۔ میں نےکرشن چاچا سے مدد مانگی جو بہت بھیانک انداز میں میرے بدن کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہیں مجھے یہ نوچ نوچ کر نہ کھا جائے۔ اس نے مجھے گلے لگانے کی ایک بے سود کوشش کی۔ میں ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ گئی۔ میں بالکل اکیلی رہ گئی تھی۔ میری ماں شیتل رانڈ غائب ہو چکی تھی۔ مجھے ایسا بھی لگا کہ کہیں وہ اپنے کسی یارکے ساتھ بھاگ تو نہیں گئی؟ میں نے اپنی ماں کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ تین دن بعد خبر آئی کہ پولیس کو شیتل رانڈ کی لاش دریا کنارے ملی۔ اس کی موت کا راز ایک پہیلی بن کے رہ گئی جس کو سلجھانے میں پولیس ناکام رہی۔ ویسے بھی ایک رنڈی کے قاتل کا پتا کرنا بھی کیا ضروری تھا۔ گند ہی تو صاف ہوئی تھی۔

ماں کے مر نے کے بعد میں ایک دم تنہا رہ گئی تھی۔ کرشن چاچا نے اسی خواہش میں گھر میں آنا جانا جاری رکھا کہ میں کسی طرح اس کے چنگل میں پھنس جاؤ لیکن میں نے بغیر دیر کیے ہوئے ماں کے رنڈی خانے کو چھوڈ دیا اور دوسرے شہر آگئی۔

میں نے اس نئے شہر میں کام ڈھونڈنے کی بے انتہا کوشش کی۔ بالآخر شہر میں مقیم ایک ساٹھ سالہ امجد نے مجھے اپنے گھر میں صاف صفائی اور کھانا بنانے کا کام سونپا اور اس کے عوض مجھے معقول تنخواہ دینے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں ایک کمرہ رہنے کے لیے میسر کر دیا۔ امجد دن میں اخبارپڑھتا تھا اور مجھے قصے کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مجھے بھی امجد کے پاس کام کرنے میں بڑا سکون ملتا تھا۔ پہلے دس پندرہ دن ایسے ہی چلتا رہا اور مجھے لگا کہ شاید بھگوان کی نظر میں میرے نام سے حرامی داغ مٹ چکا ہے اور اس شہر میں مجھے عزت کی زندگی بسر کرنے کو ملے گی۔ مگر ایسا ایک خواب ہی تھا۔

ایک رات امجد چاچا نے مجھے اس کے کمرے میں پانی لانے کو کہا۔ جیسے میں پانی لے کر امجد چاچا کے کمرے میں چلی گئی تو امجد نے فوراً دروازے کی کنڈی بند کر دی اور مجھے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا اور مجھے بے تحاشا چومنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بڑھاپے میں شاید وہ پاگل ہو چکا ہے۔ میری عمر کا اس کو کوئی خیال نہ تھا۔ وہ میرے کپڑے پھاڑنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس کی وحشت طاری ہو چکی تھی۔ میں نے امجد کو روکنے کی بہت کوشش کی اور میں نے میز پر پڑا گلدستہ اس کے سر پر بڑے زور سے مارا اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ میرے جسم کے ساتھ میری روح تک کانپ رہی تھی۔ میں وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی اور پاس ہی ایک مندر کے صحن میں آسمان کے سائے میں وہ رات بسر کی۔

صبح ہوتے ہی میں نے مندر کے پجاری سے فریاد کی اور وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور اس کا بیٹا شنکر رہتا تھا۔ پجاری نے اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا آج کے بعد اپنی بہن کا خیال رکھنا اور اس کو مذہبی تعلیم سے آراستہ کرانا تمہاری ذمہ داری ہے۔ میں گھر میں کام کے ساتھ ساتھ شنکر کے ساتھ اپنا وقت صرف کرتی تھی۔ حالانکہ میں اس کو اپنا بھائی مانتی تھی لیکن مجھے اس کی نیت میں کھوٹ صاف صاف نظر آرہی تھی۔ وہ کسی نہ کسی بہانے مجھے چھوتا تھا اور ہمیشہ مجھے ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتا رہتا تھا اور موقع ملنے پر شنکر نے بھی بڑے وحشیانہ انداز میں میری عزت کو لوٹنے کی ایک ناکام کوشش کی۔ پنڈت کا بیٹا بھی حرامی نکلا۔

میں نے بھاگ کر شہر کے ایک گرجا گرمیں پناہ لی۔ میری حالت خراب تھی۔ حرامی شنکر نے میری قمیض اور شلوار پھاڑ ڈالی تھی اور گرجا گر میں ایک نیک سیرت پادری نے میری حالت پر ترس کھا کر میرے لیے نئے کپڑوں کا بندوبست کیا۔ میں نے چند دن اسی گرجا گر میں قیام کیا۔ میں دو سال سے بھٹک رہی تھی۔ میری زندگی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ میری زبان پر ہمیشہ اپنے حرامی باپ ہیرا لال کے لیے بد دعا رہتی تھی۔ ایسی بد دعاجو میری طرح آوارہ تھی۔ وہ بھی میری طرح شاید زمین و آسمان کے بیج اٹک جاتی تھی۔ پادری نے میری داستان سننے میں کافی دلچسپی دکھائی اور وہ کافی متاثر ہوا۔ اس نے مجھے کافی نصیحت آمیز باتوں سے متاثر کیا اور مجھے شادی کرنے کی صلاح دی۔

اگلے دن پادری اپنے ساتھ جیکب کو لایا جسکی بیوی مر چکی تھی۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں اور بڑی بیٹی کی عمر بارہ سال تھی۔ پادری نے مجھے جیکب سے شادی کرنے کا مشورہ دیا۔ جیکب کی عمر کچھ پنتالیس سال رہی ہو گی۔ گویا اس کی اور میری عمر میں تیس سال کا فرق تھا جو کہ اندھے پادری کی نظروں میں زیادہ نہیں تھا۔ جیکب نے پادری کو اس کام کے لیے پچاس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا اور میرے انکار کے بعد مجھے اس گرجا گر سے ذلیل و خوارکر کے نکال دیا گیا۔ جیکب اور پادری کی نسل کا بھی پتا چل گیا مجھے۔

گرجے سے نکل کر میں شہر کے میں بھیک مانگنے لگی لیکن دوسرے دن مجھے بھیک مانگنے سے روکا گیا کیونکہ بھیک مانگنے کے لیے بھکاریوں کے ٹھیکیدار سے اجازت درکار تھی۔ مجھے ٹھیکے دار کی خدمت میں طلب کر لیا گیا۔ ٹھیکیدار کوئی اور نہیں بلکہ میرا حرامی باپ ھیرالال تھا۔ وہ مجھے پہچانتا نہیں تھا جبکہ میں اس حرامی کو بڑے اچھے سے جانتی تھی۔ وہ میری خوبصورتی دیکھ کر چونک گیا اور مجھ سے بھیک مانگنے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے اس کی باتوں کو ٹال دیا لیکن ہیرالال مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ اس شہر میں وہ کرائے کے مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ میں نے اس کے ساتھ رہنے سے صاف صاف منع کردیا حالانکہ اس نے مجھے اپنی بیٹی کہہ کر پکارا تھا لیکن اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ عیاں تھی۔ میں نے اپنی ماں شیتل کا نام ہیرالال کے سامنے لیا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا اور اس نے شیتل کو جاننے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ میرا خون گرم ہو رہا تھا، میری آنکھیں لال ہو رہی تھی، ایک انسان حرامی ہو سکتا ہے مگر اتنا حرامی کیسے ہو سکتا ہے؟ دو سال تک اس نے میری ماں کے جسم کو نوچ کر کھایا تھا اور آج یہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے؟ میں اصلی حرامی ہیرا لال کے حرام خانے سے بھی نکلی۔

اس شہر میں بھی میرے لئے اب کوئی جگہ نہیں بچی تھی اور میں دربدر بھٹک رہی تھی۔ مجھے کام دینے کے لیے بہت لوگ تیار تو تھے لیکن ان سب کی نظر میرے جسم پر تھی۔ ہر کسی کو کام سے زیادہ میرے جسم سے لگاؤ تھا۔ کیا پتا حرام زادوں کے جسموں میں کوئی کشش ہو۔

میں یہ سب نہیں چاہتی تھی۔ میں اپنی رنڈی ماں کی غلطی تھی اور مجھے اس چیز کے قریب جانے سے بھی ایک ڈر سا لگتا تھا۔ میں زندگی سے ہار گئی تھی۔ مجھے اپنے جینے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ میرے پاس دو راستے تھے یا تو خود کشی کر کے اپنا کام تمام کر لوں یا پھر کسی حرامی بازار کی زینت بن کر حرام فروشی میں گذارہ کرلوں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ جسم فروشی سے زیادہ بہتر خودکشی تھی۔ ہر پل مرنے سے بہتر ایک پل میں مر جانا ہے۔

میں سڑک کے کنارے اسی سوچ میں ڈوبی تھی کہ اچانک میرے سر پر کسی بزرگ آدمی نے اپنا ہاتھ رکھا۔ اس کی سفید لمبی داڑھی تھی اور ماتھے پر لال رنگ کا ٹیکا تھا۔ اس نے میری تنہائی کی وجہ پوچھی اور میں نے رو رو کر اپنی داستان بیان کی۔ وہ مجھے اناتھ آشرم لے کر گیا۔ وہ ستیا بابا کے نام سے مشہور تھا۔ آشرم میں میری جیسی بہت سی لڑکیاں تھی۔ مجھے پہلی مرتبہ زندگی میں ایک خوشی کا احساس ہوا۔ رات کو مجھے نہلایا گیا اور سفید کپڑے کا ایک خوبصورت جوڑا پہنایا گیا اور مجھے باباجی کی خدمت میں جانے کو کہا گیا۔ بابا جی مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر دیا گیا اور میں نے ساری رات بابا جی کے ساتھ گزاری۔ یہاں سے بھاگنا بالکل ناممکن تھا۔ یہ حرامیوں کی اصل جنت تھی۔ اور ہمارے لئے ایک خوبصورت جہنم۔

میں اپنی ماں کے نقش قدم پر نکل چکی تھی۔ میرے پاس اب کچھ نہیں تھا۔ جس چیز کا مجھے ہر وقت ڈر تھا۔ اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود میں حرامیوں کے کھیل کا حصہ بن گئی۔ سوچا صبح ہوتے ہی پولیس سٹیشن میں باباجی کے خلاف اپنی عرضی ڈالوں گی لیکن بابا جی نے صبح کا ناشتہ ایک پولیس آفیسر کے ساتھ کیا۔ اور معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ علاقے کے ڈی۔ایس۔پی صاحب ہیں اور ناشتہ اور کھانا وغیرہ آشرم میں ہی کرتے ہیں اور بابا جی سے ہر طرح کا آشرواد لیتے رہتے ہیں۔

میں اب بابا جی کے حرام خانے میں روز بابا جی اور اس کے قریبی ساتھیوں کی داسی بنی رہتی ہوں۔ میرا ضمیر مر چکا ہے۔ میں بس ایک زندہ لاش کی مانند اپنی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ مجھے اپنی ماں کی یاد بہت ستاتی ہے, جس نے مجھ حرامی کو جنما تھا۔ لیکن میں اور یہاں بے شمار داسیاں اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے پیٹوں سے حرامی بچے پیدا نہیں ہونگے, کیونکہ یہاں اس بات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہیرا لال, کرشن, امجد, شنکر, پادری, جتنے بھی حرامی تھے, ان سب کا باپ باباجی تھا۔ بابا جی سب سے بڑے حرامی تھے۔ میری نظر میں ساری دنیا ہی حرامی ہے۔

افسانہ نگار : فاضل شفیع بٹ
اکنگام انت ناگ (کشمیر)
رابطہ: 9971444589

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے