مفکر اسلامؒ کے چندادھورے خواب …! (دوسری قسط)

ازقلم: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ بیگو سرائے

(گزشتہ سے پیوستہ سطور میں حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی طرف سے شروع کی گئیں بطور خاص دو سمت کا تذکرہ میں نے کیا تھا ،جس کو منزل تک پہنچانے اور کاندھا دینے کی عام درخواست کی گئی تھی ۔ایک کشن گنج میں رحمانی فاؤنڈیشن کی زمین پر مستقبل میں قائم ہونے والے +2 اسکول کے سلسلے میں پیش رفت کے حوالے سے ۔اس سلسلے میں جب حضرت سے پوچھا گیا توایک سوال کے جواب میں حضرت نے فرمایا تھا کہ : ” اصل میں رحمانی تھرٹی کا پورا تخیل مدرسہ کے نظام تعلیم کی اچھی نقل ہے ،مدرسہ کے نظام کو جو کچھ میں نے پڑھا ،سمجھا اور تجربہ کیا ،اس کو میں نے اسکول کے طلباء پر استعمال کیا اور کامیابی ملی ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدرسہ میں جو نظم تعلیم ہے وہ آج بھی اتنا تازہ ،مستحکم اور نتیجہ خیز ہے کہ اس کے تجربات سے پورا فایدہ ہورہا ہے ،ان تجربات اور طریقوں کو اور پھیلانے کی ضرورت ہے اور اسکول کی ابتدائی تعلیم سے اس طریقے کو رائج کرنے کی ضرورت ہے ،اللہ نے موقع دیا تو اس تجربے کو اور وسعت دی جائے گی اور یہ کام بڑے پیمانے پر کشن گنج میں ہوگا ،جہاں بہت بڑی اراضی اسی کام کے لئے حاصل کی گئی ہے”
اور دوسری امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اثر امارت پبلک اسکول کے قیام کی سمت تھی جس کے لئے تحریک کو قوت فراہم کر اس میں تیزی لانے کی طرف دردمندانہ توجہ دلائی گئی تھی ،اس کا اظہار بھی حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ نے امیر شریعت بننے کے کچھ ہی ماہ بعد زوردار انداز میں کیا تھا اور اس کے لئے وہ مسلسل کوشاں بھی رہے ،یہاں تک کہ اجل کا فیصلہ بھی اسی راہ میں آیا)

(2)……….آپ کے علم میں یہ جہت بھی رہنی چاہئے کہ حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک جہاں دیدہ انسان تھے اور تقریبا 39/ ملکوں کا سفر انہوں نے اپنی حیات میں مختلف تقاضوں سے کیا تھا ،ان کے ذہن میں ملت کے اجتماعی مفاد کے رخ میں جہاں کئی نقشے تھے ،وہیں ایک بڑا نقشہ آئز ہاسپیٹل کا بھی تھا ،جس کو وہ اعلی پیمانے پر قائم کرنا چاہتے تھے ،جو تمام تر جدید سہولیات سے آراستہ ہو ،تاکہ غریب عوام کا پیسہ اور وقت دونوں بچ سکے ،غریب مزدور انسانوں کو بہتر اور سستا علاج فراہم کیا جا سکے ،بہت سے لوگ لانبے سفر اور مہنگے علاج کی صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی دونوں آنکھیں گنواں بیٹھتے ہیں ،مولانا رحمانی چاہتے تھے کہ ایسے ضرورت مندوں کے لئے مونگیر شہر میں رحمانی فاؤنڈیشن کے احاطے میں جدید ٹکنالوجی سے مربوط ایشیا سطح پر آئز ہوسپیٹل قائم کیا جائےجس میں آنکھوں سے متعلق بڑی بڑی بیماریوں کی تشخیص کر کفایتی اور ضروری علاج فراہم کیا جائے۔
افسوس کہ زندگی میں جد وجہد اور پلاننگ وتیاری کے باوجود یہ خواب ادھورہ رہ گیا ۔اپنا احساس یہ ہے کہ حضرت رحمہ اللہ کے حقیقی ،علمی ،روحانی اور سچے جانشین اس اہم رخ پر بھی نظر فرمائیں گے اور حضرت کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر فرماکر ان کی روح کو شاداں وفرحاں کریں گے ۔

(3)………عصر حاضر میں دین کی بے وقعتی عام ہے ،اچھے اچھوں کے ذاتی احوال غیر اطمینان بخش ہیں ،بالخصوص نوجوان نسلوں اور نئی پیڑھیوں میں بے دینی اور اپنے دین ومذہب کی موٹی موٹی باتوں سے عدم واقفیت افسوسناک حد تک بڑھتی جارہی ہے ،تبلیغی جماعت اور مدارس کے سوا باقی کوئی مضبوط نظام دینی ماحول سازی کے لئے اس وقت ہمارے سامنے نہیں ہے ،مگر یہ نظام بھی ایسا ہے جن سے چند مخصوص افراد ہی جڑتے ہیں اور جڑے رہتے ہیں انہیں خارجی ماحول سے اس درجہ واسطہ نہیں رہا کرتا جس درجے میں %80 فیصد ی مسلمانوں کا عام احوال وافراد سے رابطہ رہا کرتا ہے ،ایسی صورت میں ملک کی بڑی اکثریت کے نظرئیے کو نکار کر اپنے پرسنل لا پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا آسان نہیں ہے ،ہماری نسلیں اپنے دین ومذہب پر ثابت قدم تب رہ سکتی ہیں جب ان کے پاس اسلامک کلچر وروایات کی بنیادی جانکاری ہوگی ۔ اپنا ذہن یہ کہتا ہے کہ کام کی یہ جہت جتنی اہم ہے ،اس سے غفلت کہیں زیادہ برتی جارہی ہے ،حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ اس کے لئے بھی بے چین رہا کرتے تھے ،اپنے اجتماعی پروگراموں میں بھی اس پہلو کو وضاحت کے ساتھ رکھتے تھے ،اپنے فکر ومزاج سے ہم آہنگ لوگوں سے نوجوان خاص کر اسکول وکالج کے بچے بچیوں کی دینی تربیت کے لئے خصوصی اجتماع منعقد کراتے تھے ،تاکہ وہ اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین سے نامانوس نہ رہیں۔ان کے پاس دین کی اتنی ضروری معلومات ہونی چاہئیں کہ جس پر عمل کر کے یہ بچے ہمارے بعد بھی دیندار بن کر جی سکیں۔
ایک موقع پر نئی نسل کو دین کی راہ سے کیسے جوڑا جائے اور ان میں دینداری لانے کی شکلوں کے حوالے سے جب مولانا رحمانی سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سال میں دس پندرہ دنوں کا ایک اسلامک ریفریشر کورس شروع کیا جائے ؟تو اس پرحضرت صاحب کا جواب تھا کہ یہ کام ضرور ہونا چاہئے ،اس کا فایدہ ہوگا … ان طریقوں کو اپنانا چاہئے”انہوں نے مزید یہ بھی فرمایا کہ” نوجوانوں کی تربیت بہت بڑی ضرورت ہے ،ابھی نہ اچھی تعلیم کا نظم ہے اور نہ تربیت کا کوئی اہتمام ہے ،جس نے نوجوانوں میں ذہنی انارکی اور مزاجاً بے لگامی کو بڑھا وادیاں ہے ،جو ملک کے لئے نقصان دہ ہے ،اعلی قدروں کی بحالی کے لئے والدین اور اساتذہ کو آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ تعلیم اور تربیت کا اہتمام کریں اور انہیں اعلی قدروں اور اخلاقیات سے روشناس کرائیں”
ضرورت ہے کہ” تفہیم شریعت ” کے عنوان سے حضرت کے اس فکر کوبھی منظم طریقے پرپلاننگ وے میں کیا جائے ،امارت شرعیہ ،خانقاہ رحمانی ،مدارس اسلامیہ اور حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب سے وابستہ احباب وائمہ حضرات اس جانب بھی توجہ کریں تاکہ حضرت کی اس فکری ودینی سلسلے کو بھی فروغ مل سکے۔

(جاری )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے