پسند کی وہ بھی شادی

اماں نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا، ابا الگ منہ دیے بیٹھے ہیں اور اوپر سے آپا کی تڑ تڑ چلتی زبان نے اور رفتار پکڑ لی ہے۔ پورے گھر میں سوگ پسرا ہے، سبھی ملے ماتم منع رہے ہیں، ویسے یہ سوگ بنتا بھی ہے، گھر کی اکلوتی اولاد نے جو پسند کی شادی کا اظہار کرکے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پشتیں گزر گئیں ان کی لیکن ان کے خاندان میں کبھی کسی کی اپنے بڑوں کے خلاف جانے کی جرأت نہ ہوئی۔ جہاں ماں باپ نے رشتہ طے کر دیا، وہاں سر جھکا کے، قبول ہے، قبول ہے، کہہ دیا۔ ان کے خاندان میں تو پسند کی شادی کی بات کرنا تو دور، ذہن میں خیال لانا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ چوری، بے ایمانی، رشوت، جھوٹ، فریب، دغا بازی جیسے گناہ ایک طرف اور پسند کی شادی کا گناہ ایک طرف۔ بھئ ان کی خاندانی غیرت کا سوال جو ہے۔ دنیا ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر ہو سکتی ہے، لیکن اس با عزت گھرانے میں پسند کی شادی نہیں ہو سکتی، اسی لیے تو اماں کھانا پانی چھوڑے، دالان میں بیٹھ کر مسلسل اپنے آنکھوں کے تارے کو اپنی لعنت ملامت سے نواز رہی ہیں۔ پانی پی پی کر اپنے کیے احسانات گنوا رہی ہیں۔ "کوئی اس بے غیرت کو تو دیکھے، کتنی آسانی سے باپ کے منہ پر کہہ دیا کہ شادی تو اپنی مرضی سے ہی کرے گا، ہو چاہے جو کچھ۔ اللہ ایسی بے شرم، بے حیا اولاد کسی کو نا دے، یہ دن دیکھنے سے بہتر تھا کہ ہم مر جاتے یا یہ مر جاتا، بدذات کہیں کا۔ آخر اس کے لیے ہم نے کیا نہیں کیا۔ ارے ہم اس کے لیے جلتی دھوپ میں ننگے پاوں چلے ہیں، اس کی زندگی کی بھیک کہاں کہاں نہیں مانگی، کسی پیر اولیا کا در نہیں بچا، کیسے پھولوں کی طرح پرورش کی، کبھی کانٹا بھی چبھنے نا دیا، اپنا خون پسینہ ایک کر کے اس نا مراد کو پڑھایا لکھایا، اس لیے کی یہ ہمیں یہ دن دکھا سکے۔ بیڑا غرق ہو اس کا، خاندان میں اور بھی تو بیٹے ہیں، اب اس کے چچا زاد کو ہی دیکھ لو، مجال ہے کہ باپ کے آگے اونچی آواز میں بات کرے اور ایک یہ ہے جس نے گھر والوں کو کہیں کا نا رہنے دیا۔ اوپر سے دیکھو تو زرا زبان گز بھر کی ہوئی ہے۔، شرم حیا تو بیچ کھائ ہے، کہتا ہے کہ پسند کی شادی کا حق اسلام نے دیا ہے، ہوں بڑا آیا ہمیں دین اسلام سکھانے والا، ہمیں تو جیسے کچھ پتہ ہی نا ہو، ہاں بھئی خون پلا پلا کر ہم نے تو اسی دن کے لیے جوان کیا تھا نہ کہ جب سر پر سہرا سجانے کا وقت آئے تو پورے زمانے کے سامنے ہمیں یہ رسوا کر دے، خبردار نائلہ کے ابا! یہ بات گھر سے باہر کسی قیمت پر نہیں نکلنی چاہیے، ورنہ پورا خاندان ہمارے سر پر جوتا لیکر سوار ہو جائے گا، ہاے ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی، نا جانے کس اماں کی باتوں میں آگیا ہے میرا معصوم بیٹا۔ اسے تو بوڑھے باپ کے سفید بالوں کا بھی خیال نہ رہا اور نا ہی ماں کے آنسوں کا ہوش رہا۔ اللہ پوچھے گا اس کرم جلی کو جس کی وجہ سے ہمارا بیٹا ہم سے بغاوت پر اتر آیا ہے۔ نا خاندان کا پتہ، نا ذات برادری کا پتہ، نا جانے میرے بیٹے کے سامنے کون سا دانہ ڈالا ہے اس نے، ہو نہ ہو ضرور کالا عمل کیا گیا ہے۔ میرے بچے پر یہ اماں کا درد ہے جو ان کی جلی کٹی باتوں سے ٹپک رہا ہے۔ باقی ابا کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے، وہ تو کہو بات سگی اوپر سے اکلوتی اولاد کی ہے، ورنہ وہ تو سزائے موت سنا دیتے۔ بھلا کل کے لڑکے کی اتنی مجال کہ وہ ان کی تنی ہوئی مونچھوں کے سامنے آ کھڑا ہو۔ بس ایک پیر سے گھر کے اندر باہر ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی بیگم صاحبہ کو دلاسہ بھی دلا رہے ہیں ارے اعظم کی اماں تم پریشان کیوں ہوتی ہو، چار ہی ڈنڈوں میں پسند کی شادی کا بھوت سر سے نا اتار دیا تو کہنا، آخر باپ ہوں اس کا، سمجھ کیا لیا ہے اسنے، یہ میری عزت کا سوال ہے، ہوگا تو وہی جو ہم چاہتے ہیں، پھر چاہے اسے جائداد سے بے دخل ہی نا کرنا پڑ جائے، بڑا آیا ایک ہی دن در در کی ٹھوکریں کھانے سے عقل ٹھکانے نا آگئ تو تم کہنا، پسند کی شادی کرے گا، اپنی من مانیاں کرتا پھرے گا، برخوردار کو آج گھر تو آنے دو، دیکھو کیسا نشہ دور کرتا ہوں، وہ تو وہ اس کی سات نسلیں پسند کی شادی کا اظہار تو دور، خیال تک دل میں نا لائیں گیں۔
ساتھ ہی نائلہ آپا کو جس دن یہ بات اماں نے فون پر رو رو کر بتائی ہے، اسی شام وہ بوری بستر لیے ابا کے سر پر آ بیٹھی ہیں اور اپنا پورا پورا حق ادا کر رہی ہیں، بھئ جلتی آگ کو ہوا دینے کا کام انہی کا تو کیا ہوا ہے، تبھی تو شولے بھڑکے ہیں، ابا کان کھول کر سن لیں اگر اس کی شادی اس کی مرضی سے کر دی تو اچھا نہیں ہوگا، ایک بار اگر آپ نے اس کی بات مان لی تو خاندان کے سارے چھوٹوں کے پر نکل آئیں گے، جب کسی کو اپنی مرضی چلانی ہوگی وہ اسی بدبخت کا حوالہ دے گا۔ ابا میری مانیں تو جلد از جلد اس کا نکاح خاندان کی ہی کسی لڑکی سے کروا دیں، ورنہ پچھتائیں گے، آپ میری بات سن تو رہے ہیں، ارے میں تو کہتی ہوں کہ جمعہ کے دن ہی نکاح کی تقریب رکھ دیتے ہیں، ورنہ اگر اس نے کچھ الٹا سیدھا کر لیا تو جانتے ہیں آپ کتنی بے عزتی ہوگی، لوگ خوب یاد رکھتے ہیں، آنے والی نسلوں پر بھی لوگ لعن طعن کرنے سے باز نہیں آیں گے، باہر والے تو دور خاندان والے بھی باتیں بناتے پھریں گے۔ وہ پڑوس والی چاچی ہیں نا، فائق کی امی۔ نا جانے کہاں سے انہوں نے اماں کو روتے پیٹتے دیکھ لیا اور شام کو ہی آگئیں پتہ لگانے، وہ تو میں نے کسی طرح بات سنبھال لی، ورنہ اب تک اس خبر کو پورے محلے میں حلوے کی طرح بانٹ چکی ہوتیں۔ آپ لوگ میری بات سمجھ رہے ہیں میں کیا کہہ رہی ہوں؟ سختی سے کام لیجیے گا، ایسا نہ ہو کہ بیٹے کی محبت آپ کو پگھلا دے اور پوری زندگی بدنامی کا داغ لیے سر پر گھومتے رہیں اور پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نا آئے۔ ارے ابا یہ سب آپ کی دی ہوئی چھوٹ کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ اس پر نظر رکھتے تو یہ اس طرح آپ کے مد مقابل نا کھڑا ہو جاتا۔ بڑا ناز تھا نا آپ کو، دیکھ لیجیے کس حال تک اس نے آپ لوگوں کو پہنچا دیا ہے۔
آپا نے تو اماں ابا کے اتنے کان بھر دیے ہیں کہ جو ایک فیصد امید دولہے میاں کو تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے، ساتھ ہی آپا کا دیا ہوا جلد از جلد شادی کا مشورہ ابا کو سمجھ بھی آگیا ہے۔ وہ شام کو ہی اپنی عزیز بہن کے گھر ان کی بیٹی کا رشتہ مانگنے جا رہے ہیں،
اور پھپھو وہ تو نا جانے کب سے اس دن کا انتظار کر رہی تھیں، آج تو ان کی دلی مراد پوری ہوگئی ہے۔ سب کا منہ بھی میٹھا کروا دیا گیا ہے، آنے والے جمعہ کو نکاح کی تاریخ بھی طے کر دی گئی ہے۔ خیر اچانک نکاح کی خبر سن کر پھوپھو کی صاحبزادی کی آنکھوں کے نیچے اندھیرا سا تو ضرور چھا گیا تھا، لیکن منہ کھول کر، "اماں وہ مجھے اچھا نہیں لگتا، میں نہیں کر رہی اس سے شادی” اتنا کہنا ہی تھا کی اماں نے وراثت میں ملے ایسے خاندانی آنسو بہائے اور ایسی ایسی ملامتیں کیں کہ بیچاری کے پاس سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی راستہ ہی نا بچا۔ ادھر ابا کے صاحبزادے کا بھی، "مرتے نا تو کرتے کیا” والا حال ہوا، بھئی کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی چادر اور باپ کی پگڑی کا واسطہ دے گی تو اولاد مرے گی نہیں تو کرے گی کیا۔
خیر اللہ اللہ کرکے جمعہ کے دن حق مہر کے ساتھ نکاح ہو ہی گیا، اور ابا کی مونچھ تنی کی تنی رہ گئی۔ اب بھلے دولہا اور دولہن پوری زندگی زبردستی رشتوں کا بوجھ لے کر گھومتے رہیں، اب یہ گھر والوں کا مسئلہ تھوڑی ہے۔
باقی اللہ کے کرم سے سبھی بہت خوش ہیں، سوائے ان کے، جنہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، لیکن اپنی خوشی اور انا میں کسی کو ان کے مرجھائے چہرے اور مردہ دل کہاں دکھائی دے رہے ہیں۔
خیر! یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے، لیکن کہے کون؟ سنے کون؟
آخر لوگ تو ہم مشرقی ہیں ناں، یہی تو ہماری شان ہے، جان جائے تو جائے پر شان نا جائے۔
خیر چھوڑیے، جانے دیجیے، ہمیں کیا، بھئ ہم بھی تو اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، اسی لیے تو خموش ہیں، ہمیں بھی تو مستقبل میں یہی کرنا ہے، تو پھر چلیں، مل کر یہیں پر پردہ ڈال دیتے ہیں، او بھائی زرا ادھر کھیچنا، ادھر سے حقیقت دکھائی دے رہی ہے۔

ازقلم: صدف جمال (محمودآباد بارہ بنکی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے