مسلمان ہی کیوں جلد بازی کرے؟

سوشل میڈیا پر, اخباروں کے صفحات پر اور عوام کی زبان پر ایک بات بہت تیزی کے ساتھ گشت کر رہی ہے کہ حکومت یونیفارم سول کوڈ لانا چاہ رہی ہے،، یونیفارم سول کوڈ کیا چیز ہے،، مسلمانوں کے بہت بڑے طبقے میں ایک پریشانی اور ہیجان لوگوں نے پیدا کر دیا ہےکہ کیا ہو گا کیسے ہوگا تو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ یہ سب کام آجکل کر رہے ہیں وہ اپنے ملک کے لیے بہت ایماندار نہیں ہیں بڑی نیک نیتی اور سچائی کے ساتھ یہ کام نہیں ہو رہا ہے آجکل جو بھی کام ملک میں کیا جاتا ہے وہ صرف اور صرف سیاسی مفاد کے لیے کیا جاتا ہے یعنی کیسے ہم کسی کام سے سیاسی فائدہ اٹھا سکیں یہ پہلا مقصد ہوتا ہے دکھایا یہ جاتا ہے کہ ہم عوام کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں لیکن یہ مصنوعی بات ہوتی ہے،، کیوں ہم ایسا کہہ رہے ہیں یہ بھی جان لیں کوئی یہ کہے کہ یونیفارم سول کوڈ کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے سب لوگوں کے لیے قانون ایک ہوگا تو مجھے تو ہنسی بھی آتی ہے کہ کیا آج دو ہے،، ہم مقدمہ کریں گے تو میری عدالت الگ ہے، کوئی غیر مسلم ہم پر مقدمہ کرے گا تو اس کی عدالت الگ ہے، مسلمان کے لیے قانون الگ ہے، ہندو کے لیے قانون الگ ہے، عیسائی کے لیے قانون الگ ہے؟؟ کیا بات کر رہے ہو تھانہ ایک، پولیس ایک، منصف ایک، مجسٹریٹ ایک، سول کورٹ ایک، ہائی کورٹ ایک، سپریم کورٹ ایک، قانون تو سب ایک ہے، راشن کارڈ سب کا ایک ہے، ہم اگر جاتے ہیں لائن لگا تے ہیں اپنے سرکاری سستے غلے کی دکان پر تو کیا مسلمان دیکھ کر کارڈ دوسرا بنتا ہے؟ کووڈ 19 کے نتیجے میں لوگ مرے، لوگ پریشان ہوئے مرنے والوں میں ہر مذہب و ذات برادری کے لوگ تھے کووڈ سے بچانے کے لئے جو ویکسین تیار کی گئی تو کیا وہ الگ الگ ذات برادری و مذہب کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے نہیں ہرگز نہیں بلکہ سب کے لئے ایک قسم کی ویکسین تیار کی گئی ہے-
ابھی حال ہی میں بقرعید کا تہوار گزرا ہے سب لوگ اپنے طریقے سے کپڑے پہن کر عیدگاہ و مساجد پہنچے،، ٹوپیاں بھی مختلف قسم کی، کرتا پائجامہ بھی مختلف ڈیزائن کا کیونکہ اس کا تعلق قانون سے نہیں ہے اس کا تعلق آپ کی ذاتی پسند سے ہے اب اس میں کوئی رخنہ اندازی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دماغ کھسک گیا ہے-
اب یہ ہنگامہ مچانا کہ یونیفارم سول کوڈ یہ ایسا ہے کہ سب کو ایک کر دیا جائیگا،، یہ دراصل دو مقصد سے کیا گیا وہ مقصد کو جان لیں پہلا مقصد یہ ہے کہ آپ بے چین ہو جائیں کہ اب کیا ہوگا،، اب کیا کریں،، تو کچھ لوگ لگ جائیں گے کہ ایسے موبائل کا استعمال کرو ایسے فلاں کام کرو ،،یہاں پر جمع ہو جاؤ،، یہاں پر کھڑے ہو جاؤ ،،یہاں پہ یہ بولو،، یہ سب پریشان کرنے کی ایک صورت ہے،، دوسرا مقصد کیا ہے کسی کو خوش کیا جائے کہ ان لوگوں کو بہت کچھ مل رہا تھا ہم ہی ہیں جو ان کا کاٹ کر رہے ہیں،، ہم ہی ہیں جو ان کی پہچان کیے ہوئے ہیں ،ان کو ہم پریشان کئے ہوئے ہیں تو دوسرا آدمی اکٹھا ہو گیا سارے لوگ پولرائز ہو گئے کہ یہ تو بہت اچھا کر رہا ہے مسلمانوں کو بہت فائدہ تھا اگر کوئی پوچھتا ہے کہ مسلمانوں کو کیا فائدہ تھا تو سب سے پہلی بات یہ بتائی گئی کہ مسلمان چار چار شادیاں کرتا ہے ان کے مذہب میں چار شادی کرنے کی اجازت ہے اگر یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ہو جائے گا تو ان کی چار شادی پر پابندی عائد ہو جائے گی نہیں تو پھر مسلمان ایسے ہی چار چار شادیاں کرتے رہیں گے یہ ہوا بنائی گئی یہ ایک ماحول بنایا گیا ہے جبکہ اس ماحول اور ہوا میں کوئی سچائی نہیں ہے مذہب اسلام نے چار شادی کی اجازت دی ہے تو اس میں شرائط بھی رکھی ہے صرف لذت اندوزی کے لئے چار شادی کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ لذت اندوزی کی بنیاد پر تو ایک ہی شادی کوئی کرتا ہے تو اسے بھی حرام قرار دیا گیا ہے،، کہیں ہزاروں مسلمان جمع ہیں تو ذرا پوچھ تو لیجئے کہ کتنے آدمی نے چار چار شادی کی ہے کتنے لوگوں نے دو دو شادی کی ہے تو ساری پول کھل جائے گی اور یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ پروپیگنڈا کے علاوہ کچھ نہیں ہے یہ جو کہا جاتا ہے مسلمانوں کے بارے میں یہ فضول باتیں ہیں ان سب چیزوں کو اسی طرح سے بڑھایا جا رہا ہے اب آئیے ایک طبقہ کہہ رہا ہے کہ ہم چار شادی تو کرنے نہیں دیں گے اور دوسرا طبقہ کہہ رہا ہے کہ ہم کر کے رہیں گے حالانکہ دیکھا جائے تو حقیقت سے دونوں ناواقف ہیں بس جذبات کی رو میں بہنا جانتے ہیں،، بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے

ایک چیز ہمیشہ یاد رکھیے کہ جب بھی کسی چیز پر رد عمل آپ کا اتا ہے یعنی کسی عمل کے نتیجے میں آپ رد عمل ظاہر کرتے ہیں کسی ایکشن کے نتیجے میں آپ اپنا ایکشن دکھاتے ہیں ہے تو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے پروگرام کا حصہ نہ بنیں کیونکہ انہوں نے کچھ سوچ کر ایکشن لیا ہے انہوں نے کچھ سوچ کر ہی فتنہ چھوڑا ہے انہوں نے کچھ سوچ کر پلیتا لگایا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو سوچ کر کام کیا ہے اسی کام میں ہم بھی لگ جائیں اور وہ ہنس کے کہے کہ ہم تو جانتے تھے کہ ایسا ہی ہوگا ،، آج سارے مسلمان پریشان ہیں اور کچھ لوگ پریشانی میں مزید اضافہ کررہے ہیں جبکہ ہر شخص کو یہ جانکاری ہونا چاہئے کہ ہندوستان کا ائین کیا کہتا آئین کا ایک ارٹیکل ہے 44 اس میں ایک بات کہی گئی ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں کے لیے ایک جیسا قانون ہوگا ایک جیسا قانون ہونا چاہیے اور سب سے خاص بات یہ ہےکہ اس سے کون انکار کرتا ہے مسئلہ بات سے پیدا نہیں ہوتا بات کی غلط تشریحات سے پیدا ہوتا ہے جیسے ہم اس بات کو لیتے ہیں اور اس بات سے کیا سمجھتے ہیں اس سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے اگر کوئی کہے کہ اس پورے ملک میں ایک طرح کے قانون سے کیا برا ئی ہے ،، بھائی بڑی اچھی بات ہے کالا، گورا، ناٹا لمبا، موٹا دبلا، غریب امیر سب کے ساتھ ایک اخلاق ہونا چاہیے، سب کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے یہ تو اچھی بات ہے کون مخالف ہے،، آرٹیکل 44 کا حوالہ دیکر اکثر وبیشتر لوگ عوام کو الجھاتے رہتے ہیں بلکہ مذکورہ آرٹیکل کا یہ مطلب ہے کہ ہندوستان میں سب کے لئے اپنی مرضی کے مطابق کھانے پینے، اوڑھنے پہننے کی آزادی ہے ،، یہ ہر ہندوستانی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے مطابق کپڑا پہنیں اپنی طبیعت کے مطابق لباس اختیار کرے حیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں جہاں ہر چار کلو میٹر پر بولی بدل جاتی ہے، ہر چار کوس پر پرتھا بدل جاتی ہے، رسم بدل جاتی ہے رواج بدل جاتا ہے وہاں یونیفارم سول کوڈ کی بات اگر کی جا رہی ہے تو ہم ہی کیوں پریشان ہیں سب لوگ پریشان ہوں گے جب ہو گا تو دیکھا جائے گا مسلمان سب سے پہلے کیوں پریشان ہو جائے مسلمان سب سے پہلے لائن کیوں لگائے،، یہ جو آج ہمارے مسلم سیاستدان جو اپنے اپ کو مسلم لیڈر کہتے ہیں وہ مسلمانوں کو جھونک رہے ہیں کہ سب سے پہلے تم کھڑے ہو جاؤ جب کہ سب سے پہلے تو وہ کھڑا ہوگا جس کا ہر تھوڑی دیر میں بہت کچھ طور طریقہ بدلتا رہتا ہے یہاں کون ہے جو ایک طریقہ سے پوجا پاٹ، کرتا ہے،، بہار اور یوپی میں چھٹھ ہوتا ہے یوپی بہار سے باہر کا رہنے والا چھٹھ نہیں کرتا جو بہار اور یوپی کا نہیں ہے وہ چھٹھ جانتا بھی نہیں پتہ نہیں کتنے قسم کا کیلنڈر ہے ان کے یہاں بھی ہے،، ان کے یہاں بھی پوجا کے الگ الگ انداز ہیں چلے جائیے جنوبی ریاستوں میں وہاں کا کھانا پینا پہننا اوڑھنا بولنا ہنسنا رونا سب الگ ہے شمال میں آجائیے سب الگ ہے ان کو بھی تو فکر ہوگی آپ ہی کیوں فکر مند ہوں آپ ٹھہرو دیگر لوگوں کو آگے بڑھنے دو،، دوسری بات کسی چیز پر ردعمل دینے کے لیے کسی چیز پر تنقید کرنے کے لیے وہ چیز سامنے ہونی چاہیے ابھی تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کامن سول کوڈ کا خاکہ کیا ہوگا کیسا قانون ہوگا بے مقصد کی بحث شروع کردی گئی سارے طبقے کو پریشان حال بنا دیا گیا ،، مطمئن رہیے اپنا ری ایکشن دینے میں جلد بازی نہ کیجئے اپنے اپ کو محفوظ رکھیے اور گھبرانے کی بات نہیں ہے وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا کہ کیا وہ کرتے ہیں کیسے وہ کرتے ہیں ان کے ہاں بھی بہت سے اختلافات ہیں ان اختلافات کو وہ کیسے ایک کرتے ہیں اور سب مل کر کیسے مان لیتے ہیں جیسے آپ کے ہاں وراثت کا قانون ہے ویسے ہی ان کے ہاں بھی وراثت کا قانون ہے وہ بھی اپنی وراثت کے سلسلے میں اپنا قانون رکھتے ہیں عیسائی کا اپنا قانون ہندوؤں کا اپنا قانون سکھوں کا اپنا قانون بدھسٹ کا اپنا قانون پارسیوں کا اپنا قانون مسلمانوں کا اپنا قانون جب اس مسئلے میں کوئی نقشہ صاف ہوگا تب ہم لوگ ری ایکٹ کریں گے اور ہم لوگ اس سلسلے میں سوچیں گے ابھی بہت زیادہ پریشان ہونا اپنی حرارت بڑھا لینا پریشان ہونا کہ ہم کو کیا کرنا ہے ارے یہ ووٹنگ نہیں ہے کہ ہر آدمی جا کر ووٹ دے آئے گا ریفرنڈم نہیں ہے کہ ہر آدمی جا کر اپنی رائے درج کرا آئے گا،، اطمینان سے بیٹھیے کچھ انتظار کیجئے یہاں تو ہر مسلمان کو مسجد میں جانے کی اجازت ہے، عبادت کرنے کی اجازت بھی ہے اور حکم بھی ہے اور وہاں تو پتہ نہیں حکم ہے کہ نہیں مگر مندر میں جانے کی سب کو اجازت نہیں ہے، شادی بیاہ میں منتر پڑھنے کی سب کو اجازت نہیں ہے پھر گھبراہٹ کیسی جب یونیفارم سول کوڈ سچ میں نافذ ہوگا تو زد میں اور لوگ بھی آئیں گے پھر تو یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ اب ذات برادری نہیں ہوگی انسان فقط انسان رہے گا-

تحریر: جاوید اختر بھارتی
سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین, محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے