دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار مدرسہ کے معلّم کو جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) نے قانونی امداد فراہم کی

ہاؤڑا(مغربی بنگال)8/ جولائی2023
مغربی بنگال کے پرولیا ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی مدرسہ کے معلم امیرالدین شمس الدین کو گذشتہ سال 15/ مارچ کو مغربی بنگال پولس نے دہشت گردی جیسی سنگین الزامات کے تحت گرفتار کرلیا تھا، گرفتاری کے بعد سے ہی ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے۔ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے مبینہ بنگلہ دیشی دہشت گردوں کو پناہ دی تھی جن کا تعلق القاعدہ، غزوۃ الہند اور انصار اللہ بانگلہ ٹیم جیسی ممنوع دہشت گرد تنظیموں سے ہے جو ہندوستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینا چاہتے تھے۔ ملزم حافظ امیر الدین پر تعزیرات ہند کی دفعات 120B, 121, 121A, 124A, 125,468, 471، یو اے پی اے قانون کی دفعات 16,17,18,18B,19,20, 38 اور فارینرز ایکٹ قانون کی دفعہ 14C کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس مقدمہ میں امیر الدین کے علاوہ معین الدین طرفدار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ملزم حافظ ا میر الدین کی گرفتاری کے بعد اس کی رہائی کے لیئے فکر مند جمعیۃ علماء پرولیا کا ایک وفد ممبئی جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم(قانونی مشیر) سے ملاقات کی تھی اور ملزم کو قانونی امداد دیئے جانے کی گذارش کی تھی، وفد میں شامل مفتی خورشید، مولانا احتشام الحق، مولانا اعجاز اور مولانا محمد ہاشم نے گلزار اعظمی کو بتایا تھا کہ حافظ امیر الدین ہاؤڑا کے ایک مکتب میں پڑھاتے ہیں اور وہ بے قصور، پولس نے انہیں دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت جھوٹے مقدمہ میں ماخوز کیا ہے نیز ملزم کے اہل خانہ کی مالی کیفیت ایسی نہیں ہے کہ وہ وکیل کی فیس ادا کرسکیں، گرفتاری کے بعد امیرالدین کو سرکاری لیگل ایڈ کمیٹی کی جانب سے جو وکیل مہیا کرایا گیا ہے اس کی کارکردگی مشکوک ہے لہذا جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے کسی قابل وکیل کی تقرری کی جائے تاکہ ملزم امیر الدین کے مقدمہ کی موثر طریقے سے پیروی کی جاسکے۔
چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزم ا میر الدین انصاری کو قانونی امداد یئے جانے کا فیصلہ کیا اور ملزم کے دفاع میں ایڈوکیٹ ذاکر حسین اور ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان کو مقرر کیا ہے۔
گذشتہ سماعت پر ملزم حافظ امیر الدین کے مقدمہ کی پیروکاری کرنے والے احباب نے ایڈوکیٹ ذاکرحسین سے ہاؤڑا سیشن عدالت کے احاطہ میں ملاقات کی تھی اور انہیں چارج شیٹ اور مقدمہ کے متعلق دوسرے ضروری دستاویزت ان کے سپرد کیئے تھے۔ مقدمہ کی اگلی سماعت پر دفاعی وکلاء خصوصی سیشن عدالت میں وکالت نامہ داخل کردیں گے اور باقاعدہ ملزم کے مقدمہ کی پیروی کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے