الہدیٰ اکیڈمی کمہرولی کے سابق صدر مدرس جناب خلیل الرحمٰن کا انتقال پر ملال

تعزیتی نشست کا کیا گیا اہتمام

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
ایک برائی ہے بس یہ کے مر جاتے ہیں۔

کمہرولی/جالے: مقامی معروف الہدیٰ اکیڈمی کمہرولی میں اساتذہ و طلباء اور متوسلین کی موجودگی میں ادارہ ہذا کے سابق صدر مدرس جناب خلیل الرحمٰن کا انتقال پر ملال پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں موصوف کی حیات و خدمات کا ذکر کیا گیا۔ اس نشست میں ادارہ کے استاد مولانا عمران ندوی نے بتایا کہ موصوف کی ولادت با سعادت 1949-01 -01 دربھنگہ ضلع کی مشہور بستی کمہرولی میں ہوئی۔ موصوف کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مشہور ادارہ درسگاہ اسلامی کمہرولی میں درجہ اطفال سے درجہ ششم تک حاصل کی۔ اس کے بعد کمتول ہائی اسکول میں میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے ضلع دربھنگہ شہر کے ملت کالج میں انٹر اور بی اے کی تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے۔ موصوف ایم اے کی حصول تعلیم کیلئے بہار یونیورسیٹی مظفر پور تشریف لے گئے وہاں بھی اچھے نمبرات حاصل کرنے کے بعد اپنے گاؤں کے مشہور ادارہ درسگاہ اسلامی (جو اب الہدیٰ اکیڈمی کے نام سے جانا جاتا ہے) 1978 میں بحیثیت معلم بحال ہوئے۔ یہاں موصوف 1987 تک بحسن خوبی اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1988 سے درسگاہ اسلامی کمہرولی میں صدر مدرس کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 15 مئی 2022 تک پوری امانت و دیانت داری کے ساتھ اپنی صلاحیت سے اپنے علاقے کے نو نہالوں کی علمی پیاس کو بجھاتے رہے ریٹائرمنٹ کے بعد تقریباً چھ مہینے تک بحیثیت سرپرست مقرر ہوئے لیکن طویل علالت کی وجہ سے آگے کی خدمات انجام دینے سے قاصر رہے۔ جیسے ہی 5 جولائی 2023 بروز بدھ کو صبح آٹھ بجے انتقال کی خبر ملی سنتے ہی پورا علاقہ سوگوار ہو گیا ان کی نماز جنازہ بعد نماز عشاء الہدی اکیڈی کمہرولی کے احاطے میں ہزاروں کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ اللہ تعالٰی ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اُن کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)

اس تعزیتی نشست میں اظہار تاسف کرنے والوں میں صدر مدرس جناب مسعود الرحمن صاحب، مولانا عمران ندوی، مولانا محفوظ قاسمی صاحب، حافظ عبد الستار صاحب، محبوب بیگ صاحب، سی۔کے روندر سر، فضل اللہ صاحب، نسیم اختر، اقبال نسیم اور شاد منظر کے علاوہ خاتون اساتذہ و غیر تدریسی عملے شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے