مفکر اسلام کے چند ادھورے خواب …..! (چھٹی قسط)

(گزشتہ سے پیوستہ قسط میں "اردو کارواں ” سے متعلق حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کے بعض عزائم پر گفتگو کی گئی تھی،انہوں نے اپنی عمر کے آخری دنوں میں زبان اردو کے فروغ اور اس کی بقاء وتحفظ کے لئے "اردو کارواں” کے نام سےانتہائی دور رس مقاصد کے تحت مثالی اور مضبوط قدم اٹھایا تھا ،بعد کے دنوں میں بھی کارواں ، تیز گامی کے ساتھ اردو اور اردو آبادی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھے اور جدید قومی تعلیمی پالیسی کے نتیجے میں قومی سطح پر اردو کو نظر انداز کئے جانے کے باوجود ،اردو پھل پھول دیتی رہے ،ماقبل کی سطروں میں اسی جانب ذمہ داران” اردو کارواں "کی دور اندیشانہ توجہ مبذول کرانے کی ناتمام کوشش کی گئی تھی)

8…….ہر مسجد، مکاتب دینیہ کا مرکز ہو ۔
مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت کی طرف سےنئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا مسودہ سامنے آنے کے بعد سے مولانا بہت دور تک سوچنے لگے اور انہیں اس نئی قومی تعلیمی پالیسی میں جہاں بہت سی مثبت جہتیں نظر آئیں ،وہیں کچھ منفی رخ بھی نظروں میں گھومنے لگے ۔ مگر یہ منفی جہات اس تعلیمی مسودے میں خوبیوں پر بھاری نظر آئے ،چنانچہ اس مسودہ کے پیچھے کے رجحانات سامنے آنے کے بعد مولانا رحمانی نہ خود چین سے بیٹھے اور نہ اپنے حلقہ اثر کو سکون سے جینے دیا ۔ مولانا کا مزاج تھا کہ وہ جس سمت کو قبلہ بنالیتے تھے ،اس رخ پہ وہ آخری دم تک چلتے ،تا آں کہ منزل نہ مل جاتی ،جس مسئلے کو وہ ٹارگیٹ کرتے ،حوصلہ ہمت ،تحمل ،فراست وپامردی اور علمی وفنی باریکیوں کے ساتھ اس کا تعاقب کرتے رہتے تھے :

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کو پوجنا
چھوڑے نہ خلق، گو مجھے کافر کہے بغیر

مولانا رحمانی نے ایسا ہی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے معاملے میں بھی رخ کو اپنا یا اور تعلیمی پالیسی کے مسودے کی کاپی نکلوا کرہونہار بروا سے اس کا ترجمہ کروایا ،بااثر فہم وفراست ، علم وفن اور قانونی داؤ پیچ رکھنے والوں کو امارت شرعیہ میں جمع کیا اوران سے تفصیلی بات چیت کے بعد جو بھی قانونی ودستوری راستہ نکل سکتا تھا اس کی نشاندھی فرمائی ۔اگلے مرحلے میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کے منفی اثرات سے ملت اسلامیہ ہندیہ کے ایمان وعقائد ،عبادات ومعاملات،نیز اسلامی تہذیب وتمدن کو تحفظ فراہم کرنے اور مذہبی تشخص کو زندہ وتابندہ رکھنے کے تعلق سے آپ نے مکاتب دینیہ کے قیام اور اس کے فروغ کے لئے مساجد کو مرکز بناکر بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے اور نئی نسل کو بد دینی کی راہ پر چلنے سے بچانے کے لئے امارت شرعیہ کی پوری ٹیم کو زمین پر اتار دیا ،جنہوں نے پورے ایک مہینہ تک ریاستوں میں تعلیمی کمیٹی بنا کر خود کفیل مکاتب دینیہ کے نظام کو رفتار دینے کا کام کیا۔
ضلع سطحی کمیٹیوں کی تشکیل میں اس پہلو پر واضح نظر رکھی گئی تھی کہ ضلع کے تمام سب ڈویژن سے افراد کو لئے جائیں ،تاکہ مرکزی کمیٹی کی نمائندگی سے پورے ضلع میں بلاک سمیت گاؤں اور محلے کی مساجد کو مرکز بناکر بنیادی دینی تعلیم سے سماج کے ایک ایک بچے بچیوں کو جوڑدیا جائے ۔بنیادی دینی تعلیم کے نظام کو اتنا تناور بناکر پھیلا دیا جائے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے منفی اثر ات سے ہماری نسل ،آنے والے دنوں میں محفوظ رہ سکے ،مولانا کا احساس تھا کہ حکومت اگر اپنا کام کرنا ذمہ داری سمجھتی ہے تو کچھ ذمہ داری پبلک کی بھی ہے جو اسے حدود میں رہ کرکرنا چاہئے ،مولانا رحمانی چاہتے تھے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی جب اپنا کام کرے گی تب کرے گی ،اس سے قبل قبل ہمیں اس دینی بیداری کی تحریک کو پھیلادینا چاہئے اور متبادل تلاش کر کام میں ابھی سے لگ جانا چاہئے ،تاکہ اگر خدا نے پوچھ لیا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی جیسے منکرات سے نسلوں کے ایمان وعقائد کے تحفظ کے لئے تم نے کس حد تک بچنے بچانے کی کوشش کی تو ہم خدا کے سامنے جواب دے سکیں کہ مکاتب دینیہ کے قیام کی راہ میں ہمارا کارواں اپنی صحت وصلاحیت کے بقدر سرگرم عمل رہا ۔

غبار راہ سے کہہ دو سنبھالے نقش قدم
زمانہ ڈھونڈے گا پھر ان کو رہبری کے لئے

اقامت دین کے لئے مولانا کی قربانیاں مستقل ایک موضوع ہے ،مگر نئی قومی تعلیمی پالیسی کے نتیجے میں آپ نے جس طرح تحفظ دین وایماں کے لئے حل ڈھونڈا تھا ،وہ ایک مثال اور تاریخ ہے ۔تقریبا تمام اکابرین علماء دیوبند نے مکاتب کے قیام پر زور دیا ہے ،مگر کام کی جو ترتیب آپ نے بنائی اور مکاتب کی ضرورت واہمیت کا جو احساس آپ نے امت کے دلوں جاگزیں کی اس کی روایت ماضی قریب میں نہیں ملتی :

اوروں کا پیام اور ہے، میرا پیام اور ہے
عشق کے دردمند کا طرز کلام ا و ر ہے

مولانا محمد ولی رحمانی کا عزم تھا کہ بہار ،اڑیسہ وجھارکھنڈ کے تینوں صوبوں میں بالترتیب کام کو زمینی حقیقتوں پر پھیلادیاجائے ،مضبوطی اور رہنمائی کے لئے مختصر وقت میں مکاتب دینیہ کے لئے عصری ودینی مواد پر مشتمل مرتب شدہ ایک نصابی خاکہ بھی امارت کی طرف سے شائع کروایا اور اسے ریاست بھر میں پہنچایاگیا،تاکہ کام کو معیار واطوار بخشا جائے ،بعد کے دنوں میں ہمارے بچوں کو کوئی مکتب سے گھسیٹ کر لے جانے کی جرئت نہ کرسکے۔اس سلسلے میں وہ آہنی عزم وکردار کے مالک تھے ۔

ہزاروں رحمتیں ہوں اے میر کارواں تجھ پر
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری

اخیرا ! کمیٹی کے ان تمام افراد سے گذارش ہے ،جنہوں نے حضرت کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانے کا عزمصمم کیا تھا ،جنہوں نے مکاتب دینیہ کے قیام کے لئے مساجد کو مرکز بناکر نسلوں کے ایمان وعقائد کے تحفظ کے لئے تاحیات جد وجہد کی قسمیں کھائی تھیں ،اب مولانا محمد ولی رحمانی نہیں رہے ،مگر ان کی شروع کی گئیں تحریکات کی ملک کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ،اس لئے اپنی اپنی سطح سے امت کی نسلوں کی اصلاح اوران کے ایمان وعقائد کو سنوارنے کاکام جاری رکھئے ،اور بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مکاتب کو منظم کیجئے ،اس سلسلے میں امارت شرعیہ جو ہم سب کامتحدہ ،مضبوط پلیٹ فارم ہے،جو مصیبت کی ہر گھڑی میں ہمارے لئے کھڑی رہتی ہے اور جو ہمارے درد کا درماں ہے ،آپ اس عظیم ادارے کے دردمندوں سے مشورہ کرتے ہوئے مکاتب دینیہ کو منظم کرنے کے حوالے سے حضرت صاحب کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کیجئے ،تاکہ نسلوں کو آپ کے احسانات یاد رہیں۔ (جاری)

تحریر:عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ ،بیگوسرائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے