قرآن کی بےحرمتی احتجاج کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

عیدالاضحیٰ کے دن پوری دنیا کے مسلمان جذبہ ایمانی کے ساتھ سنت ابراہیمی ادا کرنے میں میں مصروف عمل تھے ۔ اسی دن یورپی ملک سویڈن میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے تمام عالم انسانی کو بالعموم اور عالم اسلام کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا ۔ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر ایک مشتعل نوجوان آیا اور اس نے سیکڑوں مسلمان نمازیوں کے سامنے قرآن حکیم کا ایک نسخہ نذر آتش کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے یہ دنیا کو شرمسار کردینے والی حرکت سویڈن کے قوانین کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کیا ۔ جس کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے ذریعے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس پر سعودی عرب نے سویڈن کے سفیر کو طلب کیا تھا جبکہ عراق میں اس کے خلاف مشتعل ہجوم نے سویڈن کے سفارت خانے کا گھیراؤ کر لیا تھا ۔ سب سے بڑا احتجاج مراقش نے کیا اور اس نے اپنا سفیر واپس بلا لیا ۔ قرآن کریم کی بےحرمتی کے خلاف برہمی کا پہلا اور سخت لفظوں کا اظہار روسی صدر پوتن کی طرف سے سامنے آیا ۔ انہوں نے سویڈن کی حکومت پر اس شرمناک واقعہ کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے فرقے کا دل دکھایا جائے ۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف فورمز سے بھی اس شرمناک اقدام کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے ۔ اس واقعہ نے ایک اور موقع فراہم کیا ہے کہ مسلمان قرآن مجید کا عملی نمونہ بنے اور قرآن کریم کے پیغام کو ساری دنیا کے ممالک میں ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کا کام انجام دے ۔ اس واقعہ سے لوگ قرآن مجید کی مطالعہ کی طرف متوجہ ہورہے ہیں ۔ کویت نے منفرد انداز میں احتجاج کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سویڈش زبان میں ترجمہ والا ایک لاکھ قرآن پاک شائع کرے گا اور وہاں کے لوگوں تک پہنچائے گا۔

ازقلم: محمد خالد داروگر، سانتا کروز ، ممبئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے