یقین محکم عمل پیہم اور صبر و استقامت کی ضرورت ہے

اہم اور ضروری نتائج حاصل کرنے کے لئے خدا تعالٰیٰ کی طرف سے قانون، نظام اور ضابطہ یہ ہے ، کہ اس کے لئے مسلسل کوشش،جدوجہد دوڑبھاگ،اور تگ و دو کرنی پڑتی ہے، تخریب، فساد اور بگاڑ کے کاموں میں زیادہ وقت نہیں لگتا، اس میں دقت اور دشواری نہیں ہوتی ۔ لیکن تعمیر میں کافی وقت لگتا ہے، اس لئے ضروری ہے، کہ انسان کے اندر،صبر،تحمل،کی طاقت،برداشت کی صلاحیت، انتظار کی قوت، اور جہد مسلسل کی عادت ہو ۔ آپ اور ہم اس کو اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں ،کہ درخت دو گھنٹے میں کاٹا جاسکتا ،لیکن بیج سے پودا اور پودے سے تناور درخت بننے میں سالہا سال لگتے ہیں ۔ یہی حال ایک مکان کی تعمیر کا ہے کہ اس کے بنانے میں سالہا سال لگتے ہیں ،لیکن اگر اس کو گرانا اور منہدم کرنا ہو تو بلڈوز کی مدد سے چند گھنٹوں میں پوری عمارت کو زمیں بوس کرنا کچھ مشکل اور دشوارنہیں ہوتا،ایک بچہ جب ماں کے شکم سے پیدا ہوتا ہے، تو اس کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بچہ پھلے پھولے، پروان چھڑے، تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرکے، شادی کی عمر تک پہنچنے اور وہ صاحب اولاد ہو جائے، بڑھاپے میں اس کے لئے معاون و مددگار بنے، لیکن اس منزل اور مقام تک آنے میں برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، صبر و برداشت کے بعد ہی اس کی یہ دیرینہ تمنا، چاہت ،خواب اور خواہش پوری ہوتی ہے ،اگر کوئی چیخ و پکار کرکے اور وقتی جذبات اور ہنگامہ کے ذریعہ بعجلت اپنی اس خوشی اور خواہش کو پورا کرنا چاہے تو یہ دیوانہ کا خواب ہی ہوگا ،لوگ ایسے شخص کو بیوقوف،دیوانہ اور کم فہم ہی سمجھیں گے ۔ یہ بات جس طرح مادی نتائج کے حصول کے لیے ضروری ہے، اسی طرح سماج و معاشرہ اور سوسائٹی میں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے اور بدخواہوں اور مخالفوں کو کیفر کرادر تک پہنچانے کے لیے بھی ضروری ہے، کہ ہم اس کے لئے دیر تک جدوجہد جاری رکھیں، مسلسل کوشش کرتے رہیں، قانونی چارہ جوئی کرتے رہیں ،ہماری کوشش اور رفتار میں کبھی کمی نہ آئے، انقطاع نہ ہو ۔سستی و کاہلی پیدا نہ ہو، ہم قانونی مساعی اور جد و جہد جاری رکھیں، کیونکہ اس کی وجہ سے ہی مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کا تحفظ ملک میں یقینی ہوگا، اور حکومت کے جو غیر قانونی اور غیر منصفانہ فیصلے ہوں گے، حکومت ان کو واپس لینے پر مجبور ہوگی ۔( مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی ایک طویل تحریر سے مستفاد)
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت ہندوستانی مسلمان اور دیگر اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں، انہیں رسوائی اور ذلت کا سامنا ہے، انہیں اپنے وجود کے مٹنے کا خطرہ ہے، ان پر زمین تنگ ہے ۔ ذرائع ابلاغ اور میڈیا کا رول انتہائی منافقانہ ہے، ذرائع ابلاغ اور میڈیا مسلمانوں اور اقلیتوں پر جور و ستم ڈھانے والے افراد اور اداروں کی پیٹھ تھپکتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، فسطائی طاقتیں پورے طور پر سینہ زوری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی جاری ہے، جان بوجھ کر ایسے منافرت والے بیانات دئیے جارہے ہیں تاکہ ملک کا امن و امان خطرے میں پڑے اور ہندو مسلم منافرت بڑھے اور اس زعفرانی پارٹی کو سیاسی فائدہ ہو، حیدر آباد میں کسی راجہ کا بدبختانہ بیان اسی کا ایک حصہ ہے۔
اس وقت ہم سب کو بہت سنبھل کر حالات کے رخ کو بدلنے کی ضرورت ہے، مخالفین تو چاہتے ہی ہیں کہ ہم طیش میں آجائیں اور ان کا کام بن جائے۔ پیارے رسول ﷺ کے خلاف بیان آنا اور پیارے آقا ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرنا یہ بتا رہا ہے کہ اس کے پیچھے بہت بڑا گیم ہے، کچھ مسلم نوجوان غصہ میں کچھ کردیں اور ان کو موقع ہاتھ آجائے۔ اس لیے اس وقت جذبات پر قابو رکھ کر ہوشمندی کے ساتھ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف ہم مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم آخری امت ہیں، خیر امت ہیں،ہمیں مٹانے کی بھرپور کوشش ہوگی، ہم سے دشمنی میں باطل اندھے بہرے ہوجائیں گے، لیکن اس سے گھبرانے اور ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ جو کچھ ہورہا ہے پہلی بار نہیں ہورہا ہے، یہ پرانا ہے اور برابر ہوتا آرہا ہے، ہم سب کو احساس کمتری اور شکست خوردگی کے نفسیاتی احساس سے باہر نکلنا پڑے گا، بغیر اس احساس شکست اور خوف و دہشت سے نجات پائے ہم حالات حاضرہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے، جو طاقتیں ملک میں انارکی اور بدامنی پھیلانے اور ہمارے تشخص کو مٹانے بلکہ ہم کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے پر آمادہ ہے، ہم کو ان سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یاد رکھیں!!!یہ وقت گھبرانے، ہمت ہارنے اور حوصلہ شکنی کا مظاہرہ کرنے کا قطعا نہیں ہے۔ ہم بے سہارا نہیں ہیں، ہمارا سہارا اللہ تھا ، ہے اور رہے گا وہ ہمارا ہر وقت حامی اور ناصر ہے، شرط یہ ہے کہ ہم اس کی غلامی میں اپنے کو ڈال دیں، اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی بنا لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں دو ایک اور باتیں ہیں جو موجودہ وقت میں بہت ضروری ہیں ،اس کی جانب اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ، ایک تو ثابت قدمی اور صبر و استقلال اور دوسری دانشمندی مندی کے ساتھ جہد مسلسل اور سعی پیہم ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
اوپر ہم نے اس کا تذکرہ کیا تھا، کہ کسی اہم کام کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے صبر و استقامت، حوصلہ اور انتظار کی قوت ضروری ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے کہ بار الہا! مجھے ہر کام ثابت قدمی عطا فرما ۔ اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر الخ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام جو انجام دیتے تھے وہ تسلسل اور دوام کے ساتھ ہوتا تھا ۔ قرآن مجید نے بھی مسلمانوں کو جو دعا سکھائی ہے اس میں ثابت قدمی کا تذکرہ ہے و ثبت اقدامنا ۔ مسلمانوں کو بار بار باور کرایا گی ا ہے اور یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ صبر و مصابرہ سے کام لیں اور اس بات کی کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کے بارے میں ہمیشہ چوکنا رہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے ۔ یا ایھا اللذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا علماء نے لکھا ہے کہ مصابرہ کے معنی کسی چیز پر پابندی کے ساتھ جمے رہنے کے ہیں اور رابطوا کا اصل مقصد مسلمانوں کی حفاظت ہے، چاہے وہ کہیں کا مسلمان ہو ۔ یہ آیت کریمہ ہمارے لئے آج کے حالات میں خاص طور پر گائڈ لائن ہیں ۔ ان کی روشنی میں عمل اور اقدام کی ضرورت ہے ۔
دوستو! جاتے جاتے دو ایک باتیں اور کہہ دوں لیکن ذرا کان کو قریب کیجئیے نا! بڑوں نے اور اہل دانا و بینا نےسمجھایا ہے وہ امانت آپ سب تک پہنچانا فرض اور ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت عیش پسندی، آرام طلبی اور راحت کوشی و افرنگی صوفے اور آرام دہ گدے کو قربان کرنا پڑے گا، طاؤس و رباب کی محفلیں ختم کرنی پڑھیں گی، اور اس حقیقت کو ذھن نشین کرنا ہوگا کہ جب کوئی قوم رفعت و عظمت ۔ ترقی و عروج اور اقبال و فتح کا سفر طے کرتی ہے تو وہ تلواروں اور نیزوں سے مزین ہوتی ہے، وہ مشکل اور ناگفتہ بہ حالات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے وہ عیش و عشرت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی بجائے جد و جہد کے میدان میں آگے بڑھتی ہے اور جب قوموں کے زوال و انحطاط اور پستی و تنزلی کا زمانہ آتا ہے تو وہ عیش و عشرت کے نقشے بنانے لگتی ہے اور رقص وسرور اور طاؤس و رباب سے اپنے دل کو بہلانے کی عادی ہوجاتی ہے ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فی زمانا نیزوں اور تلواروں کی جگہ وقتی طور پر قرطاس و قلم زبان و بیان تقریر و تحریر قانون اور آئین اور علم و ٹکنالوجی، میڈیا و ذرائع ابلاغ اور تحقیق و ریسرچ نے لے لیا ہے ،ضرورت ہے کہ ہم ان تمام ذرائع کے ذریعے دین و ملت قوم و ملک اور سماج و سوسائیٹی کی خدمت کریں، اپنی صلاحیتوں کو انسانیت اور مانوتا کے احیاءکے لئے وقف کردیں ،اپنی قوم کی اولادوں کو ان تمام ہنروں اور صلاحیتوں سے آراستہ کردیں، جن سے آج میدان کو جیتا جاتا ہے، اپنے حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے، اپنے مستقبل کو روشن اور تابناک کیا جاتا ہے، اور ہر طرح کے خطرات مضرات اور اندیشوں اور غفلتوں سے بچا جاتا ہے، امید کہ ہم سب اس کے لئے کوشاں ہوں گے ،دنیا میں امن شانتی پریم و محبت کے داعی بنیں گے اور امت مسلمہ کی ذمہ داری اور فرض منصبی کو نبھائیں گے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق بخشے آمین ۔

تحریر: محمد قمرالزماں ندوی، مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے