عاصی بیاروی کے اعزاز میں بزم اربابِ ادب کی شعری نشست

معروف ومشہور شاعر جناب صبغت اللہ عاصی بیاروی صاحب کی اٹوا،تشریف آوری پر ان کےاعزاز میں ایک ادبی ،شعری نشست جناب جمال قدوسی صاحب کی نظامت میں ان کے آشیانے پر منعقدکی گٸی جس کی صدارت مہمان گرامی جناب عاصی بیاروی صاحب نےفرماٸی ، سیدعزیزالرحمٰن عاجز نےنعتیہ کلام پیش کیا اس سےقبل جمال قدوسی صاحب نےدورانِ نظامت عاصی بیاروی صاحب کا تعارف پیش کرتے ہوۓ فرمایا کہ” دنیائے اردو ادب میں عاصی بیاروی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہےجو ملک اور بیرون ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

عروض پر آپ کی سخت پکڑ ہے فارسی میں آپ کی تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں ملکِ ایران نےآپ کی فارسی کتب خود شاٸع کی ہے ، آپ کی تعریف میں کچھ کہنا سورج کو روشنی دیکھانا ہے“
بعدہ شعرآ ٕ کرام نےاپناکلام پیش کیا، چنندہ اشعار باذوق قارئین کی نذرہیں۔

مری سرگزشتِ ہنر وہی جوتھی آبِ زر سے لکھی ہوٸی
اسے زندگی کی کتاب سے کوٸی حرف حرف مٹاگیا
تھاچہارسو مِرا تذکرہ کبھی میں بھی وقت کا شاہ تھا
مگرایک سکہ بھی قوم کا کبھی جیب میں نہ رکھاگیا
عاصی بیاروی
لباسِ ظلمت بدوش منظر سیاہی اوڑھےہوۓ ہےگھرگھر
نہ کوٸی جگنو نہ کوٸی اختر فصیلِ شب کی اجارہ داری
جمال قدوسی
قربان ہوکےجس نےوطن کوبچالیا
اس سےہی پوچھتےہیں بتاٶ کہاں کےہیں
نور صدیقی

دین ووطن پہ جان ہےقربان ہم نشیں
خوں راٸیگاں ظہیر نہ ہوگا شہیدکا
ظہیررحمانی

شعروسخن کا شاہ ہےعاصی بیاروی
جیسے کوٸی کلاہ ہےعاصی بیاروی
روشن ہےاس کی ذات سےمینارہ ٕ ادب
بےتاج بادشاہ ہے عاصی بیاروی
سیدعزیزالرحمٰن عاجز

خوب دیتاہوں جب دلاسہ میں
تب کہیں جاکے مانتا ہے دل
جمال اجمل

مالی کہیں یہ پیار کا گلشن نہ بیچ دے
چڑھتی ہوٸی کلی پہ جوانی ہے ان دنوں
ارشداقبال

غیرتِ دین رہے،شرم وحیاآنکھوں میں
کہیں بدنام نہ ہوجاۓتوکردار کےساتھ
شکیل ضاغط

اس موقع پر جرنلسٹ ، بےباک صحافی جناب محمدشفیق صاحب بھی شریکِ بزم رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے