ان زریں نصیحتوں کو ضرور یاد رکھیں

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ کو مختصر نصیحت کریں،آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرو تو دنیا کو چھوڑنے والے کی طرح نماز پڑھا کرو،اور کوئی ایسی بات نہ کرو کہ جس پر تمہیں آئندہ معذرت خواہی کرنی پڑے اور جو کچھ مال و دولت لوگوں کے پاس موجود ہے، تم اس سے پورے طور پر نا امید ہو جاو ۔ (مسند احمد/ مشکوة)
اس حدیث میں جو تین مختصر زریں اور قیمتی نصیحتیں ہیں ، وہ آب زر اور سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ ہمیں ان قیمتی نصیحتوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور ان پر عمل کرتے رہنا چاہیے ۔
پہلی نصیحت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس کی تلقین کی کہ اپنی نماز کو زندگی کی آخری نماز سمجھ کر پڑھو ،یعنی احسان کی کیفیت کے ساتھ خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کا لحاظ کرتے ہوئے نماز ادا کرو ۔
احسان کی صفت اور کیفیت یہ ہے کہ جب تم خدا کی عبادت کرو تو یہ خیال کرو کہ تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ خیال ضرور ہو کہ تمہارا خدا تم کو دیکھ رہا ہے ۔
افسوس کہ یہ عبادت جتنی اہم ہے اس کی طرف سے اتنی ہی غفلت اور لاپرواہی ہمارے اندر پائی جاتی ہے ۔ ہماری نمازیں اپنا اثر کھو بیٹھی ہیں ۔ اور نماز کا وہ اثر جس کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ نماز فحش باتوں اور گناہوں سے روکتی ہے ،وہ ناپید ہوتا نظر آرہا ہے ۔ نمازوں کے غیر موثر ہونے کی اہم وجہ، نماز کی اہمیت اور اس کے مسائل سے ناواقفیت، اور ذھنی انتشار اور تناؤ ہے ،ہم نماز پڑھتے ہیں، لیکن ہمارا ذہن اور دل و دماغ کہیں اور رہتا ہے ۔ الٹے سیدھے خیالات میں الجھا رہتا ہے ۔ علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا :

جو تو سربسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

اس لئے ضرورت ہے کہ ہم نماز کے مسائل بھی جانیں اور خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کے ساتھ اس کو ادا کرنے کی کوشش بھی کریں ۔ اور اسلاف کے ذوق عبادت اور خشوع و خضوع و اہتمام کو معلوم کریں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری اہم اور وقیع نصیحت یہ فرمائی کہ تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو املک علیک لسانک ۔ یعنی نپی تلی گفتگو کرو ۔ وقت موقع محل کی رعایت کرتے ہوئے لب کھولو ۔ زبان سے ہرگز ایسی گفتگو نہ کرو ۔ ایسا بیان نہ دو کہ جس کی وجہ سے کل کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور بار بار معذرت خواہ ہونا پڑے ۔
آج اس معاملہ میں بڑی بے احتیاطی پائی جاتی ہے ،جس کو دیکھو بغیر سوچے سمجھے بیانات دے رہے ہیں ۔ لوگ جوش میں آکر اس طرح نقد و تبصرہ کر رہے ہیں اور اتنی سخت تحریریں لکھ رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔
اس قیمتی نصیحت کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم نپی تلی گفتگو کریں اور موقع و محل کی رعایت کرنے ہوئے، حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے لب کھولیں جذبات اور بے قابو ہو کر اناپ شناپ گفتگو نہ کریں ۔
زبان کے غلط استعمال سے جو فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے ،اس کی قیامت خیزی سے کون انکار کرسکتا ہے ۔ہر فقرہ بلکہ ہر لفظ جو زبان سے نکلتا اور ادا ہوتاہے،اپنی تاثیر کے لحاظ سے شہد بھی ہے اور زہر بھی ، اس کا انحصار درحقیقت اس شخص پر ہے جو زبان سے الفاظ ادا کرتا ہے ۔اس لئے آدمی کو زبان کے معاملے میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہی الفاظ ہیں جو دلوں کو جوڑتے بھی ہیں اور دلوں کو توڑتے بھی ہیں ، انسانوں کو ملانے کا کام بھی کرتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے دور اور متنفر بھی کرتے ہیں۔یہ رلاتے بھی ہیں اور ہنساتے بھی ہیں۔اس سے جذبات کو مشتعل کرنے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے اور یہ جذبات کو سرد بھی کر سکتے ہیں ۔

ہماری زبان ہمارے باطن کی سب سے بڑی عکاس ہے ۔ہمارے الفاظ بتاتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا معیار و کردار کیسا ہے؟ ۔ایک فقرہ جو بے خیالی میں بھی زبان پر آتا ہے وہ ہمارے شعور یا تحت الشعور کا ترجمان ہوتا ہے ۔
نیپولین نے کہا ہے کہ اگر سلاطین ،،بوربن ،، فرانس کے طاقت ور اہل قلم کو قابو میں رکھتے تو دولت ،،بوربن،، کا ایسا عبرت ناک حشر ہرگز نہ ہوتا ۔
الفاظ کا اثر مسلم ہے ،خواہ زبان سے ادا ہوں یا قلم کے زریعہ سے صفحئہ قرطاس پر نمایاں ہوں۔ الفاظ کا غلط استعمال کسی بھی ستم سے کم نہیں ہے ۔اس سے بڑا مجرم کون ہے جو خدا کی عطا کردہ قوت کو منشائے خداوندی کے خلاف استعمال کرکے مخلوقِ خدا کو کسی فتنہ میں ڈال دے اور اصلاح کے بجائے انسانی معاشرہ کو فساد اور بگاڑ سے بھردے ۔(مستفاد کلام نبوت دوم از محمد فاروق خان مرحوم،ص، 384)
تیسری نصیحت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم سکون و اطمینان اور قلبی راحت چاہتے ہو ،تو جو کچھ اللہ تعالی نے تم کو دیا ہے اور جتنے سے نوازا ہے، اس پر صبر،اور قناعت کرو اور کبھی لالچ،طمع اور حرص کو اپنے سے قریب آنے نہ دو ۔ جو تم کو ملا ہے اس پر قانع ،صابر اور خوش رہو اور اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ اور ہرگز دوسرے کے مال و متاع ، دولت و ثروت اور روپئے پیسے پر نظر مت رکھو ۔
اس قیمتی نصیحت اور اصول کو بھی ہمیشہ ذھن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ مالداری یہ نہیں ہے کہ انسان کے پاس مال و دولت اسباب و آلات خوب ہو ،بلکہ اصل مالداری اور استغنا یہ ہے کہ انسان کو ذھنی اور قلبی سکون نصیب ہو اس کا دل چین و سکون سے لبریز ہو ۔
آج ہر آدمی پریشان،بے سکون اور بے چین نظر آرہا ہے، وجہ یہ ہے، کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ اس پر قانع، صابر و شاکر اور مطمئن نہیں ہے ۔ وہ دوسروں کی طرف، ان کے مال و اسباب کی طرف، اور ان کے عہدے اور کرسی کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بے حد پریشان اور بے قل ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی بے سکونی اور بے اطمینانی کا علاج یہ بتایا کہ جو کچھ مال و دولت لوگوں کے پاس موجود ہے ،تم اس سے پورے طور پر ناامید ہو جاو خواہ مخواہ دوسروں سے زیادہ آس و امید لگا کر نہ بیٹھو کے مبادا اگر تمہاری امید پوری نہ ہوئی تو تم نربھس اور پریشان ہو جاؤ ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو سمجھایا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے اس پر خوش اور راضی رہو اور دوسروں کی چیزوں کی جانب آنکھ اٹھا کر مت دیکھو ۔ اس کی برکت سے اللہ تعالی تمہیں آرام و راحت، چین و سکون اور عزت و عافیت کی زندگی نصیب فرمائے گا ۔
اللہ تعالٰی ان قیمتی نبوی نصیحتوں پر ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

ازقلم: محمد قمرالزماں ندوی
استاد/ مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی

ناشر / مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 6393915491 رابطہ نمبر
واٹس ایپ نمبر 9506600725

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے