پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

یہ بات مسلمانان عالم کےلئے اظہر من الشمس ہے کہ اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، محرم الحرام یہ ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جس کا احترام سب لوگ کرتے تھے؛ چاہے وہ مسلمان ہو، مشرک ہو، یہودی ہو، عیسائی ہو، ہندو قوم ہو، سب اس کے احترام کو بجالاتے تھے، اور اس میں قتل و قتال کو جرم عظیم سمجھتے تھے، اور وہ لوگ اس میں اپنے تمام تر تعلقات ایک دوسرے سے اچھے رکھتے تھے، اختلافات چھوڑ دیتے تھے، لڑائیاں ختم کردیتے تھے، ایک دوسرے پر تلوار اٹھانے سے باز رہتے تھے، اور مزید یہ کہ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا جائز نہیں سمجھتے تھے۔

چنانچہ قرآن مجید اس کی فضیلت پر شاہد ہے ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموت و الارض منہا اربعة حرم(سورة التوبہ : آیت نمبر ٣٦) اللہ نے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو ان پر فضیلت عطا فرمائی اور ان کو اشہر حرم قرار دیا، ان کی فضیلت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ان میں برے کام کرنے سے اللہ نے روکا ہے کہ تم ان مہینوں میں لڑائی جھگڑا کرکے اپنا وقت ضائع نہ کرو؛ بلکہ ان مبارک اور فضیلت والے مہینوں سے لطف اندوز ہو، اور اپنی نیکیوں میں اضافہ کرو۔

نیز حدیث و تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ محرم اتنا احترام والا مہینہ ہے کہ اللہ نے جب آدم کا خمیر بنایا، تو وہ محرم کا ہی مہینہ تھا، جب آدم کو پیدا کیا، محرم کا مہینہ تھا، اللہ نے جب فرعون کو غرق کیا، محرم کا مہینہ تھا، نمرود جب تباہ ہوا ،محرم کا مہینہ تھا۔

علماۓ کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے اپنا سب سے پہلا نکاح خدیجة الکبریؓ سے کیا، تو یہ محرم کا مہینہ تھا، صدیق اکبرؓ کے دور میں منکرین زکوة کا جب قلع قمع ہوا، وہ محرم کا تھا، فاروق اعظمؓ کی شہادت کا مہینہ محرم کا تھا۔
( ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری 2007ء)

اس مہینے میں اتنے بابرکت کارنامے وجود میں آنے کے باوجود آج کا ہمارا مسلم معاشرہ اس کو منحوس کہتا ہیں، اگر کوئی مزاجِ شریعت سے معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی ہو تو وہ اس مہینے کی نحوست کا قائل نہیں ہوسکتا کیوں کہ شریعتِ محمدیہ سے پہلے ہی سے اس مہینے کا معزز و مکرم اور ذی شرف ہونا مشہور و معروف چلا آرہا ہے؛ حتی کہ زمانے کی ابتدا سے اب تک ہر ذیشان کام اسی مہینہ میں وقوع پذیر ہوتا ہوا آرہا ہے؛ بلکہ روایات کے مطابق تو وقوعِ قیامت کا عظیم الشان واقعہ بھی اس مہینے میں ہوگا۔
چنانچہ اتنا سب کچھ ہوتے ہوۓ اس مہینے کو نحوست والا قرار دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ (ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ10، جلد:100 ‏، محرم الحرام 1438 ہجری مطابق اکتوبر 2016)

دور حاضر میں مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی اسلامی سالِ نو کی مبارک بادی تو دیتے ہیں مگر اسلامی سال کے تقاضوں اور مطالبوں سے بالکل روگردانی کرتے ہیں، حالات کا تجزیہ کیا جاۓ تو یہ کہنا پڑے گا کہ حضرت حسینؓ کے شہادت کے وقت حالات جیسے تھے، آج بھی ان حالات میں کوئی فرق نہیں آیا؛ بلکہ اب تو فضا میں اتنا زہر بھر چکا ہے کہ سانس لینا دشوار ہوگیا ہے، حضرت حسینؓ کو مسلمانوں سے جنگ کرنا پڑا، انہیں اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں نے میدان کربلا میں آنے پر مجبور کیا، اُس وقت صرف ایک دشمن تھا، مگر اب چاروں طرف سے دشمن اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں، خارجی سطح پر یہود و نصاری اسلام کے درپے آزار ہیں، تو دوسری طرف داخلی سطح پر خود مسلمان ایک دوسرے سے دست گریباں ہیں۔

بہر کیف! محرم الحرام کا مہینہ ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے ہم اس بات سے غافل ہیں کی محرم الحرام کا پیغام اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟
میرے بھائیو! وقت نہایت برق رفتاری کے ساتھ گذرتا جا رہا ہے،نیز انسانی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی منزل کی سمت رواں دواں ہے، یہ سال کا اختتام اور نئے سال کی شروعات خوشی و مسرت کا موقع نہیں ہے بلکہ ماضی کے بداعمالیوں پر توبہ و استغفار گویا کہ احتسا بِ نفس اورموقعۀ عبرت اور فکرِآخرت کا زریں موقع ہے، کیوں کہ زندگی کے اوقات میں زیادتی نہیں؛ بلکہ کمی ہورہی ہے، آگے بڑھنے اور نئے عزم وحوصلہ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس صدہا افسوس کہ تمام حقیقتوں کوجاننے اور سمجھنے کے باوجود نئے سال کا آغاز کا جشن کی محفلوں کو سجا کر اور اخلاقیات و شرافتوں کی حدوں کو پار کرکے اور خواہشات نفسانی کا ناجائز طریقہ پر اظہارکرکے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

ہاۓ رے ہماری کم بختی کہ اس مہینے میں ہم اپنا محاسبہ کرنے کے بجاۓ اپنے کو بدلنے کے بجاۓ اور اپنے آپ کو اللہ والوں کے سپرد کرنے کے بجاۓ قہوہ خانوں میں، محفلوں میں اپنا وقت ضائع کرتے پھرتے ہیں، ہمیں اس کا کچھ بھی احساس نہیں کہ سالِ نو شروع ہوا ہے، ہماری زندگی کا ایک سال ختم ہوگیا، اور ہماری زندگی آنا فانا برف کی طرح پگھلتی جارہی ہے؛ لیکن ہمیں تو بس عیش و آرام چاہئے، ہمارے اندر نیکی کا وہ جذبہ نہیں، نماز کی وہ تڑپ نہیں، جو صحابہؓ میں تھی، ہمارے اوپر نفسانی خواہشات کا غلبہ ہوچکا ہے.

اسلامی سالِ نو کے آغاز پر ذکر ِ الٰہی کی کثرت کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی ہمت و فکر کے مطابق اپنے سالِ ماضی کا بھر پور جائزہ لے کہ اس نے ارکان ِ اسلام اور اللہ و رسول کے احکام میں کہاں کہاں کوتاہی کی ہے؟ اور کن کن نیک کاموں میں حصہ لیا ہے۔ اس طرح اپنے ماضی کے آئینہ میں جھانک کر مستقبل کے لئے بہترین پروگرام مرتب کرے، اور تجدید ِعہد کرے کہ آج سے ہی سابقہ تمام کوتاہیوں کا یکے بعد دیگرے ازالہ کرتا جاؤں گا، اور اعمالِ خیر میں بیش از پیش حِصہ لوں گا ۔
اللہ والے تو ہر رات کو سونے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں کہ آج ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟اور عام دنیا داری اصول بھی ہے کہ ہرتاجر اور کاروباری آدمی اپنی آمد و خرچ اور پروفٹ کے روزانہ و ماہانہ حساب کے ساتھ ساتھ سالانہ حساب کرکے کلوز اَپ کرتا ہے۔ اس مالی حساب کتاب کی طرح ہی ہمیں اپنے نفس کا حساب بھی کرنا چاہئے کہ اس نے نیکیاں کرکے کیا کمایا، اور برائیوں میں پڑ کر کیا گنوایا ہے، اور جس طرح تجارتی و مالی امور میں ہر نئے سال کا بجٹ تیار کیا جاتا ہے، اُسی طرح ہی سال ِ نو کے آغاز پر ہمیں اپنا روحانی و عملی بجٹ بھی تیار کرنا چاہئے۔

ماہ ِ محرم کے ساتھ ہی ہم چونکہ اپنی عمرِعزیز کے نئے سال کاآغاز کرتے ہیں، لہٰذا ہمیں اس نئے سال کا پُر جوش اور بھر پور استقبال کرنا چاہئے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سال ِ نو کا افتتاح روزے رکھ کر کیا جائے جو شکران ِ نعمت بھی ہوں گے اور مسنون طریقہ بھی یہی ہے۔
اور خاص طور پر ماہ ِ محرم کے روزوں کے بارے میں صحیح مسلم اور سنن ِ اربعہ میں ہے کہ نبی سے پوچھا گیا : ’’رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل روزے کون سےہیں ؟۔ تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے اس مہینے کے روز ے جسے تم محرم کہتے ہو ۔‘‘ اگر زیادہ نہ ہوسکیں تو کم از کم ایامِ محرم کے سر تاج دن ’’یومِ عاشوراء‘‘ کاروزہ تو ضرور ہی رکھنا چاہئے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت یہ ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھو کیوں کہ اس دن کا روزہ انبیاء کرام رکھا کرتے تھے۔
ایک موقع پر آنحضرتؐ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا اگر ماہ رمضان کے علاوہ روزہ رکھنا چاہو تو پھر محرم کا روزہ رکھا کرو۔ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں ایک دن ایسا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے پچھلے لوگوں کی توبہ قبول فرمائی، اور اسی دن آئندہ بھی لوگوں کی توبہ قبول فرمائیں گے۔ یوم عاشورہ کے موقع پر لوگوں کو سچی توبہ کی تجدید پر ابھارا کرو، اور توبہ کی قبولیت کی امید دلاؤ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس دن پہلے لوگوں کی توبہ قبول کرچکے ہیں، اسی طرح آنے والوں کی بھی توبہ قبول فرمائیں گے۔ (ترمذی) (بحوالہ دائرہ معارف اسلامیہ جلد12)

خلاصہ یہ کہ محرم الحرام سے مسلمانوں میں ایک نئی لہر دوڑے،
عمل کا ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا ہو، شعور و توانائی کا ایک نیا احساس اجاگر ہو، اور اس ماہ کی خصوصی قدر ہو.؎

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

ازقلم: محمد ریحان ورنگلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے