مذہبی یگانت اور امن و سلامتی سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے: ارشاد احمد قمر

بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری) ذات برادری ارور مذہب کے نام پر بیجا مباحثے نفرت کی وجہ ہیں ان کا خاتمہ محبت کو فروغ دیکر کیا جاۓ ورنہ ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جاۓ گی کشیدہ ماحول معاشرتی زندگی کو تباہ کر دیتی ہے مذکورہ خیالات کا اظہار آج یہاں ڈنڈیا مئو میں قمر فاٶنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس بعنوان “ معاشرتی تفريق اور ہمارا طرز عمل“ کو خطاب کرتے ہوۓ نگر پنچایت چیئرمین ارشاد احمد قمر نے کیا انہوں نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ وقت رہتے اگر ہم نہ جاگے تو بعد میں سواۓ کف افسوس ملنے کے ہم کچھ بھی نہ کر سکیں گے
اجلاس کی صدارت کر رہے سدگرو آشرم کے مہنت لکشمیندر داس نے حاضرین کو مخاطب کر سوال کیا کہ جب ہاسپٹل میں کسی اپنے کو خون دینے کی نوبت آتی ہے تب کیا ہم مذہب دیکھتے ہیں ؟ نہیں کیونکہ اس وقت ہمارے پیش نگاہ صرف مریض کی زندگی بچانا ہی ایک مقصد ہوتا ہے آج ایسے ہی کشیدہ حالات ملک کے بھی ہیں اسے نفرت کا خطرناک مرض ہوگیا ہے اسے محبت کی ویکسین دینے کی ضرورت ہے اس کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت ہر ہندوستانی کو رضا کارانہ اپنی خدمات پیش کرنی چاہئے انہوں نے قمر فاٶنڈیشن کے بانی مولانا معراج احمد قمر کی اس پہل کی تعریف کرتے ہوۓ اپیل کی کہ قمر فاٶنڈیشن کے شانہ بشانہ ہر محب وطن کو چلنا چاہئے۔
جماعت اسلامی ہند کے رکن حافظ عبدالحئ نے ذات برادری اور مذہبی سیاست کو معاشرتی خرابی کی بنیاد قرار دیتے ہوۓ اسکے خاتمے پر زور دیا انہوں نے زور دیتے ہوۓ کہا کہ جتنی جلد ممکن ہو اس فرسودہ روایت کو ختم کیا جاۓ اس کے لئے ذات برادری کے اس طوق کو اتار پھینکا جاۓ دین اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں قرآن کا واضح پیغام ہے “کہ ہم نے تم سب کو ایک ماں باپ سے پیدا کیا اور تمہیں اسلئے قبیلوں میں تقسيم کردیا کہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو” لہذا ایک دوسرے سے رشتے استوار کریں گروہی تحزب سے گریز کریں کیونکہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
مولانا منہاج عالم ندوی نے کہاکہ شرعی اصولوں کے مطابق اپنے کھریلو معاشرے کی تشکیل کریں اور نبئ کریم محمدﷺ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کو اپنا شعار بنائیں تبھی فلاح ممکن ہے ورنہ منافرت کی آگ میں سب جھلس کر خاکستر ہو جاۓ گا جس تیزی سے مذہبی نفرت پروان چڑھ رہی ہے اسے دیکھتے ہوۓ میں پوری ذمیداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں جانے والا ہے ہمارے بزرگوں نے وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے اس لئے آزاد نہیں کرایا تھا کہ ہم اسے نفرت کی آگ میں جھونک دیں انہوں نے کہا کہ قمر فاٶنڈیشن چند افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نہیں بالکہ ایک تحریک ہے ملک کو نفرت سے آزاد کرانے کی دامے درمے قدمے سخنے اس کے بانی مولانا معراج قمر کو تعاون کریں ان شاءاللہ بہتر نتائج برآمد ہونگے ملک کی گنگاجمنی تہذیب اخوت و امن کی باد نسیم پھر ہمیں شادابی کرے گی
فاٶنڈیشن کے بانی سرپرست مولانا معراج احمد قمر نے سامعین کو خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ سارے انسان بائبل، وید اور قرآن کے مطابق ایک ہی ماں باپ کی اولادیں ہیں اس رشتے سے انکار یار مفر ممکن ہی نہیں کوئی جتنا چاہے بھاگ لے ایک روز اسے اس سچ کے سامنے سرنگوں ہونا ہی پڑے کا انہوں نے کہا کہ اپنے مذہبی رہنماٶں کو ٹوٹ کر مانتے ہیں انکے نام پر انکے لئے جان لینے اور جان دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن “انکی“ نہیں مانتے یہی وجہ ہےکہ آج ہماری معاشرت تباہ ہو گئی ہے ہمارے بچے ہماری نہیں مانتے بےراہ روی نے ہمارے خانوادوں پر قابض ہے انسانیت دم توڑ رہی ہے ملک خاک و خون ہونے کے دہانے پر ہے اس کے مجرم ہم سب ہیں- مذہبی اقدارات سے کوسوں دور مذہب کے نام پر لایعنی مباحثوں نے پورے ملک کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے ایسے میں محبت کے دیئے روشن کرنا ہر ہندوستانی کا فرض ہے کیونکہ یہ ملک سب کا ہے
دیر شب تک چلنے والے اس اسیمنار کی شاندار نظامت کے فرائض احمد سعید حرف نے انجام دیۓ اس موقع پر گرام پردھان گنگولا، پردھان نندناکلاں سمیت آس پاس کے مواضعات کے عوام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے