بچوں کے لیے کہانی: آخری خواہش

جوں ہی میری آنکھ کھلی۔
میرے کانوں میں مسجد سے ہونے والے اعلان کے الفاظ گونجے۔
”اعلان سماعت فرمائیں۔ اللہ یاردرانی کے بیٹے، انعام درانی کے بھائی اور سمیع اللہ کے بھتیجے آصف درانی انتقال فرما گئے ہیں۔اُن کی نماز جنازہ شیدانی شریف کے قبرستان میں دوپہر دو بجے ادا کی جائے گی۔اہل محلہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مقررہ وقت پر نمازہ جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دراین حاصل کریں۔“
اعلان ختم ہوتے ہی میں تیزی سے بستر سے نکلا اور آصف درانی کے گھر کی طرف چل دیا۔ اس اطلاع نے میرے پاؤں تلے سے زمین ہی نکال دی تھی۔
٭٭٭٭٭
”کوئی بھی شے بذات خود بُری نہیں ہوتی ہے۔ اس کا استعمال اُسے اچھا یا پھر بُرا بناتا ہے۔ہم نے آصف کو سمجھایا تھا کہ ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے مگر جب آپ وہ حدود پار کر لیتے ہیں تو پھر نقصان کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُس نے ہماری سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی ضد کی وجہ سے جان کھو دی۔“
آصف کے والد نے آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
”مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ میں نے اُس کو جدید موبائل فون لے کر دے دیا تھا۔میرے علم میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ وہ اس موبائل فون کی وجہ سے خود پسندی کا شکار ہو جائے گا۔ُاُس کو یہ شوق ہو گیا تھا کہ وہ ہر روز اپنی نئی تصویر بنانے لگا تھا۔پھر کچھ دنوں کے بعد اسے ایک مشہور وڈیو ایپ پر وڈیوز لگا نے کی خواہش ہوئی تو پھر وہ عجیب و غریب طرح کی حرکتوں والی وڈیوز بنانے لگا۔اُس کو کئی بار منع بھی کیا تھا مگر اُس نے اپنی ضد کو برقرار رکھا۔“
ٓٓٓآصف کے والد نے پھر سے رونا شروع کر دیا تھا۔میں نے اُن کو دلاسہ دیا اور پھر چپ کرکے گھر آگیا مگر میرے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔
٭٭٭٭٭
”یار۔۔آج کچھ نیا کام کرتے ہیں۔“
آصف نے اپنے دوست سے کہا۔
”اب کیا نیا کام کرنے کا سوچ رہے ہو؟“
احسن نے کہا۔
”آج چلتی ہوئی ٹرین کے ساتھ ساتھ وڈیو شوٹ کرتے ہیں، ایسا کسی نے نہیں کیا ہے لہذا سوشل میڈیا پر ہماری واہ،واہ ہو جائے گی۔“
آصف نے مسکراتے ہوئے کہا۔

مقررہ دن پر احسن اور آصف ایک ایسے ٹریک پر آچکے تھے جس پر ٹرین کی آمدورفت زیادہ ہوتی تھی۔احسن نے ویڈیو کیمرہ اُٹھا رکھا تھا۔
آصف اپنی مرضی کی حرکتیں کر رہا تھا۔ٹرین کی آواز کے ساتھ ہی وہ ریلوئے لائن کے بالکل قریب آگیا۔
ٹرین پیچھے سے آرہی تھی اوراسی ٹریک پر کھڑے آصف نے مختلف منھ بنا کر اور ہاتھوں سے اشاروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر بازی جیتنے کی تگ و دو شروع کر دی تھی۔ اگلے ہی لمحے آصف کی زور دا ر چیخ نے احسن کو وڈیو کیمرہ پھینکنے پر مجبور کر دیا تھا۔آصف کو اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ ٹرین کے بہت قریب آچکا ہے۔
تیز رفتار ریل گاڑی کے انجن کی ایک ٹکر سے وہ قلابازی کھاتا ہوا قریبی جھاڑیوں میں جا گرا اور بے ہو ش ہو گیا۔احسن شدت غم سے خود بھی ہوش کھو بیٹھا تھا کہ چند لمحوں میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔آصف کے سر پرلگنے والی ٹکر جان لیوا ثابت ہوئی تھی۔

ہوش میں آنے کے بعد احسن نے ساری روداد بتائی تو آصف درانی کے والدین پچھتاوئے کا شکار ہو رہے تھے کہ اُس کی بروقت اصلاح کر دیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑٹا۔جوان بیٹے کی موت نے بوڑھے والد کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔
اخبارات میں اس حادثے کی خبر شہ سرخیوں میں آئی تھی۔افسوس ناک بات یہ تھی کہ اس افسوس ناک خبرکے بعد بھی مثبت اثرات دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔پھر سے کچھ نوجوان ریلوئے لائن کے پاس کھڑے تصویریں بنوا رہے تھے۔
ایک اور حادثہ رونما ہونے کو تھا۔

٭٭٭٭٭

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے