بنگلور میٹنگ کے بعد گودی میڈیا

بنگلور میں حزب اختلاف کی 26 جماعتوں کی میٹنگ کے بعد ٹی وی چینلوں کے سر تھوڑے تھوڑے بدلنے شروع ہو گئےہیں۔خاص کر حزب اختلاف نے اپنے اتحاد کا نام انڈیا رکھا تو اسی بہانے تقریباً ہر ایک چینل نے وزیر اعظم کے بلائے شو جسے خود وزیر اعظم مودی نے این ڈی اے کہا اس پر بات کرنے کے بجائے سارے چینل نہ چاہتے ہوئے انڈیا پر بات کر رہے تھے۔ بھلے کوئی بھی چینل بنگلور اعلان کی ڈرافٹ پر بات نہیں کر رہا تھا لیکن کانگریس سمیت انڈیا میں شامل مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے ترجمان بہت ہی مضبوطی سے اپنی اپنی بات رکھ رہے تھے ۔اُنھیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی سرکار کی بخیا اُدھیڑنے کا پورا پورا موقع دیا جا رہا تھا ۔زیادہ تر چینل پر بی جے پی کے نمائندہ کے ساتھ رام بلاس پاسوان کی پارٹی کا ترجمان ساتھ بیٹھے تھے جو کسی بھی طرح کانگریس،عام آدمی پارٹی اور جنتا دل یو یا ٹی ایم سی کے تیز طرار ترجمان کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے ۔اینکر محترمہ بھی حزب اختلاف کے ترجمان جب مودی پر سوال اٹھاتے تھے تب بھی اُنہیں درمیان میں روک ٹوک کرنے کی کوشش نہیں کرتی دیکھی گئیں۔بنگلور کی میٹنگ میں بی جے پی کے ساتھ گودی میڈیا کے لئے بھی ایک پیغام پوشیدہ ہے جو سمجھ رہے ہیں وہ ٹی وی چینل اپنے سر بدلتے نظر آ رہے ہیں۔دو مہینے سے منی پور جل رہا ہے لیکن منی پور میں تشدد روکنے کی صاف نیت سے کوشش ہوتی دکھائی دے نہیں رہی ہے اسکے باوجود گودی میڈیا منی پور میں تشدد جاری رہنے پر کوئی سوال کھڑا نہیں کر رہا ہے۔لیکن بنگلور میٹنگ کے بعد منی پور کی بھی خبریں اب گودی میڈیا میں شروع ہو گئی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اب بھی وزیر اعظم سے منی پور پر زبان بند رکھنے پر کوئی سوال نہیں ہو رہا ہے۔لیکن منی پور کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار پر گودی میڈیا سوال اٹھانے پر مجبور ہے۔گودی میڈیا کو احساس ہو چکا ہے یا سندیش پہنچا دیا گیا ہے کہ 2024 میں سرکار بدلنے کے بعد اس مین اسٹریم میڈیا کا حشر کیا ہوگا اس کے لیے تیار رہیں۔میڈیا کم سے کم غیر جانب دار ہو گئی تو بی جے پی کے لئے جھوٹ پھیلانا آسان نہیں ہوگا۔
اب تک وزیر اعظم مودی کے خلاف جو بھی باتیں کی جاتی رہی ہیں وہ گودی میڈیا پر حزب اختلاف کے ترجمان کے ذریعہ کی جاتی ہیں۔جب تک گودی میڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کی زبان بند کرنے کے لئے مودی جی کے پرانے ویڈیو نہیں چلایا جاتا ہے تب تک یہی مانا جائےگا کہ گودی میڈیا موجودہ حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔
پٹنہ میٹنگ کے بعد گودی میڈیا کے زیادہ تر مالکان حزب اختلاف کے ایک بڑے رہنماء سے خفیہ ملاقات کی تھی جس کی خبر کہا جاتا ہے کہ وزیر داخلہ کو لگ گئی ۔وزیر داخلہ نے اُن سبھی کو بلا کر خوب کلاس لی۔اس کا مطلب صاف ہے کہ گودی میڈیا کو احساس ہونے لگا ہے کہ سیاسی موسم بدلنے جا رہا ہے ۔ بنگلور میٹنگ کے بعد گودی میڈیا کم سے کم حزب اختلاف کی خبروں کو دیکھا تو رہا ہے ۔ممبئی میں حزب اختلاف کی میٹنگ کامیاب ہو گئی اور کامیاب ہوگی ہی تو گودی میڈیا امیت شاہ اور وزیر اعظم مودی کے خلاف بھی سوال اٹھاتے نظر آئیں گے ۔ہاں گودی میڈیا کے کچھ چینل جب تک وزیر اعظم کی کرسی سے مودی جی اُتر نہیں جاتے ہیں تب تک مودی مودی کرتے رہیں گے ۔ لیکن کچھ چینلوں کو احساس ہو چکا ہے کہ 2024 میں حکومت پلٹ سکتی ہے۔

تحریر: مشرف شمسی
میرا روڈ ،ممبئی
موبائیل 9322674787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے