ماہ "محرم” محترم ہے، احترام کریں

ماہ محرم الحرام حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اس کی حرمت،اس کا احترام ،اس کا مقدس و متبرک ہونا اس دن سے ہے جس دن اللہ تعالی آسمانوں و زمین کو پیدا کیا ارشاد ربانی ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ‌ ؕ
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
حرمت والے چار مہینوں کی تعیین حدیث نبوی میں ہے بخاری شریف کی روایت ہے
عن أبي بكرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض، السنة اثنا عشر شهرا، منها أربعة حرم، ثلاثة متواليات: ذو القعدة وذو الحجة والمحرم، ورجب مضر، الذي بين جمادى وشعبان ” (صحيح البخاري:3197)
حضرت ابوبکرؓہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’ زمانہ گردش میں ہے اس دن کی طرح جس دن اللہ تعالٰیٰ نے زمین آسمان کو پیدا کیا تھا، سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے ہیں اور وہ ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم ہیں اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے جو کہ جمادی الثانیہ اورشعبان کے درمیان آتا ہے‘‘۔
اس حدیث میں حرمت والے مہینوں کا نام لے کر بتایا گیا ہے کہ تین مہینے لگاتار ذوالقعدہ ،ذوالحجہ اور محرم الحرام ہے اور چوتھا مہینہ رجب المرجب ہے، ابھی انہیں مہینوں میں سے ایک مہینہ ماہ "محرم الحرام” ہم پر سایہ فگن ہے، اس مہینوں کی حرمت و مقدس ہونے کی حکمت کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ان مہینوں میں قتل و قتال نہیں کرنا چاہیے، اور جب قتل و قتال نہیں ہوگا تو لوگ غور و فکر کریں گے اورپھر درست راہ کو اپنائیں گے۔
صاحب لطائف المعارف نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک قول نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر چار مہینوں کو قابل احترام قرار دیا ہے اور ان کی عظمت و احترام کو بڑا عظیم قرار دیا ہے ان میں گناہ کرنے کے عذاب کواور نیک عمل کے ثواب کو بہت بڑھا دیا ہے۔ (لطائف المعارف/ص٢٢٥)
یعنی ان مہینوں میں اگر ہم کوئی نیک کام کرتے ہیں تو اس کے ثواب دوچند کردیا جاتا ہے ،وہیں اگر ہم ان مہینوں میں اعمال بد کرتے ہیں تو اس پر سخت گرفت ہوگی ، اس ماہ میں گناہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت مجرم ہوتے ہیں، اور وہ سخت سے سخت سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔
اب ہم اپنے معاشرے اور اپنے ارد گرد کا معائینہ کریں کہ اس ماہ محرم الحرام جو حرمت والا ہے اس میں کتنے مسلمان اعمال بد کے مرتکب ہوتے ہیں، یکم محرم الحرام سے لے کر دس گیارہ محرم الحرام تک عجیب عجیب قسم کی بدعات وخرافات(تعزیہ بنانا، کھچڑا پکانا، سبیل لگانا، الاؤ جلانا،دلدل وغیرہ) ہمارے ہاں رائج ہیں، ان میں بعض ایسے اعمال بد ہیں جو حرام ہیں اور یہ سب رافضیوں، شیعوں کے دیکھا دیکھی اہل سنت والجماعت بھی کرنے لگے ہیں جو بالکل درست نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو ماہ محرم الحرام کی بدعات وخرافات سے حفاظت فرمائے۔ (آمین)

ازقلم: ابومعاویہ محمد معین الدین
ادارہ تسلیم ورضا سمری دربھنگہ (بہار)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے