انڈیا ہی ہوگا بھارت کا نجات دہندہ۔ مولانا سید طارق انور

نئی دہلی:
کانگریس سمیت 26 سیاسی جماعتوں کے ذریعے تشکیل دیا نیا اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘فاشزم،من مانے حکمرانوں،معاشی حالات کو تباہ و برباد کرنے والوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے گا۔ان خیالا ت کا اظہاراسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئرمین اورمعروف سماجی و ملی رہنما مولانا سید طارق انور نے کیا۔اخبارات کو جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مرکزی اقتدار پر قابض بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوستانی معیشت کو چند لوگوں کو سونپ کر بھارتی عوام کو ایک بار پھر سے سرمایہ داروں کا غلام بنانے کی منظم سازش کی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کے دور میں سبزی تک انسانی پہنچ سے باہر ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا منی پور کو خاک و خون میں جھونکنے اور خواتین کو برہنہ کرنے والوں سے ملک عالمی سطح پر اپنی عزت کھوچکا ہے۔مرکزی اقتدار پر براجمان افراد خود کو ملک کا مالک اور عوام کو غلام سمجھ بیٹھے ہیں اسی کی وجہ سے فاشزم نے راہ پالی ہے۔ملک قدرتی آفات سے دوچار اور ہمارے وزیر اعظم غیر ملکی دوروں کا آنند لے رہے ہیں۔منی پور تین ماہ سے جل رہا ہے اور مرکزی اقتدار خاموشی کی چادر لپٹے سو رہا ہے،مہنگائی آسمان سے بھی اونچی ہوچکی ہے اور حکومت اپنی ترقی کے فرضی اعدادو شمار سے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔گھنٹوں من کی بات پر بے تکان بولنے والے ملک کے ہردلعزیز پردھان منتری منی پور کی دلدوز گھٹنا پر صرف 35 سیکنڈ ہی پر تکلف بات کہہ پائے۔نو سال میں بھارت ایک بار پھر سے غلام جیسی حالت میں پہنچ چکا ہے۔

مولانا طارق انور نے کہا کہ بھارت کی حساس سیاسی جماعتوں اور ملک کے عوام کی خاطر فکرمندا فراد کی کوششوں سے جو نیا ’انڈیا‘ معرض وجود میں آیا ہے،مجھے یقین ہے کہ یہی ملک کا نجات دہندہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہامسلم اقلیتوں اور ملی جماعتوں کو نئے انڈیا،کی تشکیل میں اپنا سرگرم تعاون دینے کے آگے آنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں مولانا سید طارق انور نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ایک حوا ہے جو کبھی نافذ العمل نہیں ہوسکتا۔یو سی سی سے ہندوؤں کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔مسلمانوں کا تو ڈیڑھ ہزار سال سے یکساں سول کوڈ ہے۔دنیا کا مسلمان توحید اوررسالت پر ایمان رکھتا ہے۔ملک کا ہر مسلمان نماز،روزہ،زکوۃ حج کو فرض مانتا ہے۔کچھ اختلافات اگر ہیں بھی تو فروعی نوعیت کے ہیں اصول سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔ہندوؤں میں الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ عقائد ہیں،کہیں رام کو بھگوان مانا جاتا ہے اور کہیں ان کے دشمن راون کو۔ہر علاقے کی پوجا پددتی بھی الگ ہے،ان سب کو ایک قانون کے تحت لانا ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔یوسی سی سے ہندوؤں میں مسلکی بغاوت پھیلنے کا اندیشہ اور یہ نکتہ مرکزی اقتدار اچھی طرح سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ پر مسلمانوں کو خاموش رہنے کی ضرورت ہے اس پر بحث و مباحثے سے فاششٹ تنظیموں کے مفادات کو تقویت ملے گی اس لئے یوسی سی پر کسی بھی ردعمل سے بچنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے