قوم عاد کی تاریخ

اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک(اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کھجور کےکھوکھلے تنے ہوں(سورہ الحاقہ۔آیت۔6۔7)

اللہ پاک نے قوم عاد کی طرف حضرت ھود علیہ السّلام کو نبی بنا کر بھیجا لیکن یہ قوم اپنی نافرمانیوں سے باز نہ آئی،تو اللہ پاک نے تیز آندھی کی صورت میں ان پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔
قومِ عاد اپنے مورث اعلیٰ عاد کے نام سے خود کو منصوب کرتے ٹھے،اللہ کی کتاب نے اسی نام سے موسوم کیا ہے۔
عاد اور ثمود دو قومیں ہیں جن کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ان پر اکثر بحث کی جاتی ہے جب اللہ پوری انسانیت کی توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کر رہا ہوتا ہے جنہوں نے اس کی نافرمانی کی اور اس کے نتیجے میں سزا دی گئی۔
ان کے وجود کے صحیح وقت کا تعین کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن ہم قرآن کی آیات سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ طوفان نوح کے بعد اور ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بھی زندہ رہے۔یہ قوم 3000 سال قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک موجود تھی۔ ان کو ہزار ستونوں والے شہر کی قوم بھی کہا جاتاہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عاد کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟عاد اِرم جو ستونوں والے تھے۔وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا
(سورہ الفجر آیت۔6۔7۔8)’’اِرم‘‘ قوم عاد کے جِد اعلی کا نام ہے، اس لئے قوم عاد کی جس شاخ کا یہاں ذکر ہے، اُس کو عاد اِرم کہا جاتا ہے۔ اور اُن کو ستونوں والا کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اُن کے قد و قامت اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھے اسی لئے آگے فرمایا گیا ہے کہ ان جیسے لوگ کہیں اور پیدا نہیں کئے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے اپنی تعمیرات میں بڑے بڑے ستون بنائے ہوئے تھے۔عاد ارم سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جسے قرآن مجید اور تاریخ عرب میں عاد اولی کا نام دیا گیا ہے ۔ سورہ نجم میں فرمایا گیا ہے کہ »وانہ اھلک عاد الاولی« ۔ ( آیت 50 ) ’’ اور یہ کہ اس نے قدیم قوم عاد کو ہلاک کیا ،‘‘ یعنی اس قوم عاد کو جس کی طرف حضرت ہود ؑ بھیجے گئے تھے اور جس پر عذاب نازل ہوا تھا ۔ اس کے مقابلہ میں تاریخ عرب اس قوم کے ان لوگوں کو جو عذاب سے بچ کر بعد میں پھلے پھولے تھے عاد اخریٰ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ قدیم قوم عاد کو عاد ارم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوح علیہ السلام سے چلی تھی ۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں تاریخ میں مشہور ہیں جن میں سے ایک ثمود ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور دوسرے آرامی ( Aramaeans ) ہیں جو ابتداءً شام کے شمالی علاقوں میں آباد تھے اور جن کی زبان آرامی ( Aramaic ) سامی زبانوں میں بڑا اہم مقام رکھتی ہے۔عاد کے لیے ذات العماد ( اونچے ستونوں والے ) کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ وہ بڑی بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور دنیا میں اونچے ستونوں پر عمارتیں کھڑی کرنے کا طریقہ سب سے پہلے انہی نے شروع کیا تھا۔سورہ الشعراء آیات 128 ۔ 129۔میں ان کی اس خصوصیت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ۔
"یہ تمارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے ‘‘

عاد اور ثمود دونوں جدید دور کے سعودی عرب کے شمال مغربی حصے میں اردن کی سرحد کے قریب واقع تھی۔
بدقسمتی سے دونوں قوموں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا۔انہوں نے نہ صرف ان کو رد کیا بلکہ ان کا مذاق اڑایا، تمسخر اڑایا اور صالح علیہ السلام کے معاملے میں انہیں قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔
یہ دونوں گروہ جدید دور کے عربوں کے آباؤ اجداد سمجھے جاتے ہیں۔سیدنا ہود اور صالح علیہ السلام کو اکثر ان چار عرب نبیوں میں سے دو سمجھا جاتا ہے جنہیں اللہ نے بنی نوع انسان کے لیے بھیجا تھا۔
دونوں قومیں یقینی طور پر جدید عربوں کے پیشرو ہیں۔
یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضرموت کے آس پاس آباد تھی۔یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے افسانے اہل عرب میں زبان زد عام تھے ۔ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا ۔ ان کی شوکت و حشمت ضرب المثل تھی ۔ پھر دنیا سے ان کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل ہو کر رہ گیا تھا ۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں ۔ جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں اور جو آباد کار نہ ہونے کی وجہ سے افتادہ پڑی ہوئی ہو ، اسے عادیُّ الارض کہا جاتا ہے ۔ قدیم عربی شاعری میں ہم کو بڑی کثرت سے اس قوم کا ذکر ملتا ہے ۔ عرب کے ماہرین انساب بھی اپنے ملک کی معدوم شدہ قوموں میں سب سے پہلے اسی قوم کا نام لیتے ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ نبی ﷺ کی خدمت میں بنی ذہل بن شیبان کے ایک صاحب آئے جو عاد کے علاقے کے رہنے والے تھے اور انہوں نے وہ قصے حضور ﷺکو سنائے جو اس قوم کے متعلق قدیم زمانوں سے ان کے علاقے کے لوگوں میں نقل ہوتے چلے آ رہے تھے ۔
قرآن کی رو سے اس قوم کا اصل مسکن اَحقاف کا علاقہ تھا جو حجاز ، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان و حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کر دیا تھا ۔ تاریخی حیثیت سے اس قوم کے آثار دنیا سے تقریباً ناپید ہو چکے ہیں ، لیکن جنوبی عرب میں کہیں کہیں کچھ پرانے کھنڈر موجود ہیں جنہیں عاد کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔ حضرموت میں ایک مقام پر حضرت ہود علیہ السلام کی قبر بھی مشہور ہے ۔ 1837 میں ایک انگریز بحری افسر ( James R. Wellested ) کو حصن غراب میں ایک پرانا کتبہ ملا تھا جس میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر موجود ہے اور عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی تحریر ہے جو شریعت ہود کے پیرو تھے۔
یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بناکر ان کی پوجا شروع کردی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے پاس پیغمبر بناکر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے، اگر اب بھی تم اپنی بد اعمالیوں سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کی بارشیں برسادے گا ؛ لیکن اس قوم پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا، اور وہ اپنے کفر وشرک میں بڑھتی چلی گئی، آخر کار ان پر ایک تیز وتند آندھی کا عذاب بھیجا گیا جو آٹھ دن تک متواتر جاری رہا، یہاں تک کہ یہ ساری قوم ہلاک ہوگئی۔
کتاب اللہ میں اس قوم کا واقعہ موجودہ سورت کے علاوہ سورۃ ہود (آیت 50 تا 89) سورۃ مومنون (آیت۔32) سورۃ شعراء(آیت۔124) سورۃ حم السجدہ۔آیت۔ 15) سورۃ احقاف (آیت۔21) سورۃ قمر (آیت۔18) سورۃ الحاقہ (آیت۔6۔7) اور سورۃ فجر (آیت۔6) میں آیا ہے۔

قوم عاد کی نافرمانیاں!
کُفر و شِرک اور بُتوں کی پُوجا۔اللہ کے رسولوں کو جھٹلانا۔سَرِ راہ بلند عمارتیں بنانا ، وہاں بیٹھ کر راہ گیروں کو پریشان کرنا ، ان کا مذاق اڑانا۔لمبی زندگی کی اُمید پر مضبوط محل بنانا۔بے دردی کے ساتھ مار دھاڑ کرنا۔طاقت و قوت پر تکبر کرنا۔انبیائے کرام کی اطاعت و اتباع سے روکنا،اور نصیحتوں پر ہَٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا۔واضح رہے کہ قوم عاد کی بُرائیاں ہمارے معاشرے میں بھی تیزی سے پھیلتی جارہی ہیں۔طاقت و قوت پر گھمنڈ ، طاقتور کا کمزوروں کو دبانا ، احترامِ مسلم کو پامال کرتے ہوئے مسلمانوں ، مسافروں ، راستے میں آتے جاتے لوگوں کو اذیت دینا ، دوسروں کا مذاق اڑانا ، نیکی و اطاعت کی راہ پر چلنے والوں کو طرح طرح کے حیلے بہانوں سے روکنا ، سنّتوں پر عمل کرنے والوں کو اپنی بےجا تنقید کا نشانہ بنانا ، اپنی موت کو بھول کر لمبی لمبی امیدیں لگائے دنیا کی لذتوں میں بدمست رہنا،کوئی سمجھائے تو اُلٹا اسی پر بَرس پڑنا۔یہ سب ہمارے معاشرے میں عام ہوچکی ہے۔

آخر میں !
انسان کا اللہ کی بندگی اور عبادت سے ہٹ کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو اللہ کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں ، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا کتاب اللہ کا مقصود ہے۔پھر اس کے ساتھ اللہ کی کتاب اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتی ہے کہ زمین کے انتظام میں اصل چیز فساد نہیں ہے جس پر صلاح عارض ہوئی ہو ، بلکہ اصل چیز صلاح ہے جس پر فساد محض انسان کی جہالت اور سرکشی سے عارض ہوتا رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر ، یہاں انسان کی زندگی کی ابتدا جہالت و وحشت اور شرک و بغاوت اور اخلاقی بدنظمی سے نہیں ہوئی ہے ، جس کو دور کرنے کے لیے بعد میں بتدریج اصلاحات کی گئی ہوں ، بلکہ فی الحقیقت انسانی زندگی کا آغاز صلاح سے ہوا ہے اور بعد میں اس درست نظام کو غلط کار انسان اپنی حماقتوں اور شرارتوں سے خراب کرتے رہے ہیں ۔ اسی فساد کو مٹانے اور نظام حیات کو ازسرنو درست کر دینے کے لیے اللہ تعالی وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے ، اور انہوں نے ہر زمانے میں انسان کو یہی دعوت دی ہے کہ زمین کا انتظام جس صلاح پر قائم کیا گیا تھا اس میں فساد برپا کرنے سے باز آؤ۔اس معاملے میں قرآن کا نقطہ نظر ان لوگوں کے نقطہ نظر سے بالکل مختلف ہے جنہوں نے ارتقاء کا ایک غلط تصور لے کر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ انسان ظلمت سے نکل کر بتدریج روشنی میں آیا ہے اور اس کی زندگی بگاڑ سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ بنی اور بنتی جا رہی ہے۔اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے انسان کو پوری روشنی میں زمین پر بسایا تھا اور ایک صالح نظام سے اس کی زندگی کی ابتدا کی تھی ۔ پھر انسان خود شیطانی رہنمائی قبول کر کے بار بار تاریکی میں جاتا رہا اور اس صالح نظام کو بگاڑتا رہا ، اور اللہ بار بار اپنے پیغمبروں کو اس غرض کے لیے بھیجتا رہا کہ اسے تاریکی سے روشنی کی طرف آنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیں۔انسان اللہ کے بجائے کسی اور کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز اور کارفرما قرار دے کر مدد کے لیے پکارتا ہے۔اصلاح اس کے سوا کسی دوسری چیز کا نام نہیں ہے کہ انسان کی اس پکار کا مرجع صرف اور صرف اللہ کی ذات ہی ہو۔
خوف بھی ہو تو اللہ سے ہو ، اور ہماری امیدیں بھی اگر کسی سے وابستہ ہوں تو صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کو پکارو تو اس احساس کے ساتھ پکارو کہ تمہاری قسمت بنا شک و شبہات کے اس کی نظر عنایت پر منحصر ہے،اکر ہم فلاح و سعادت کو پہنچ سکتے ہو تو صرف اللہ کی مدد اور رہنمائی سے ، ورنہ جہاں ہم اس کی اعانت سے محروم ہوئے ، پھر ہمارے لیے تباہی و نامرادی کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں ہے۔

ازقلم: ریاض فردوسی۔9968012976

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے