منی پور دنگا۔۔۔۔ مسلمانوں کے لئے کئی اسباق

بی بی سی اردو،انڈین ایکسپریس،دا ہندو،پربھات خبر اور دیگر ہندی اور انگریزی اخبارات کے مطابق منی پور میں ڈھائی ماہ سے جاری نسلی فسادات کے دوران ایک ہجوم کے سامنے دو بے بس خواتین کے کپڑے اتارنے اور ان پر جنسی تشدد کی ایک ویڈیو حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے جس نے بھارت کے سیاسی و سماجی حلقوں کو لرزہ براندام کرکے رکھ دیا۔ہمارے ملک بھارت کی شمال مشرقی ریاست میں تین مئی سے کمزور کوکی عیسائی اور طاقت ور ہندو میتی برادریوں کے درمیان نسلی تنازعہ جاری ہے،جو حکومت بھارت کے NRC کے ظالمانہ متنازع قانون سے معاملے شروع ہوا ہے۔ان میں کوکی طبقہ زیادہ تر غریب عیسائی ہے اور پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے،جب کہ میتی زیادہ تر امیر و کبیر ہندو ہیں۔
پُرتشدد واقعات میں اب تک 345 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 100000 ہزار شہری بے گھر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے اب تک آتشزنی کے 6000 واقعات ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں منی پور کی حکومت نے بتایا کہ پُرتشدد واقعات پر 7995 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور8745 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے،جن میں زیادہ تر کوکی برادریوں کے لوگ ہی ہیں۔
مسلمانوں کے لۓ اسباق!

(1) تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود اور ان کی اولادیں بھی اسلام کے بنیادی احکام ومسائل سے آگاہ ہوں کہ جن سے ہرمسلمان کو روز مرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے مثلاً توحید،وضو،نماز،زکوۃ،روزہ،حج وغیرہ کے احکام ومسائل سے کتابوں کے ذریعے یا کسی بھی عالم دین سے پوچھ کر خود اور اپنے گھر والوں کو اس سے آشنہ کریں۔
(2)خود کو اور اپنی نسل کو قرآن سے جوڑے،میرے بھائیوں مسلمانوں نے پہلے قرآن کریم سمجھا،پھر اپنےآپ ان کے اور ان کے اہل خانہ کے اندر دین داخل ہوگیا۔قرآن کے ذریعے ہمیں حلال وحرام میں فرق معلوم ہوتاہے۔ہماری مکمل توجہ ظاہری ڈھانچے اور فقہی مسائل پر رہتی ہے اور ان کی اصل روح، حقیقت، مقصد کو بالکل فراموش کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس ظاہری ڈھانچے پر باہمی مخالفت کا ایک طوفان برپا رہتا ہے۔فاتحہ خلف الامام، رفع یدین، آمین بالجہر اور ان جیسے متعدد مسائل پر لوگ ایک دوسرے کو کافر اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔
(3) ہم اللہ کے بندے ہیں ناکہ عبادات کے،ہم اور ہمارے بچے نمازی تو ہو گۓ ہیں،لیکن مذہبی نہیں ہوۓ ہیں۔مذہب سے ہم کوسوں دور ہیں۔دین حق میں نیکی کا وہ تصور ہے جس میں ایمان و اخلاق اورایثار ان کے تقاضوں کو اصل دینی مطالبے کی حیثیت حاصل ہے،لیکن ہمنے اپنے بچوں میں خدمت خلق اور ایثار کا جزبہ پیدا ہی نہیں کیا ہے۔
(4) اپنی اولادوں کو حرام و حلال میں فرق سمجھائیں،انہیں حاجی،نمازی بنانے سے بہتر ہے سچا پکا مسلمان بنائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو خود بھی پڑھیں اور گاہے بگاہے کسی نا کسی بہانے،پیار و محبت سے اپنے اہل وعیال کو خاندان کو مذہبی بنائیں۔متوسط طبقے اور اشرافیہ کے درمیان گہری کھائی ہے۔اسے دور کرنا ہوگا۔اپنی انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھانا چھوڑدیں اور اپنی ذاتی تربیت کو سب سے بڑا مسئلہ بنائیں۔
(5) قرآن پڑھانے کے لۓ ایسے اساتذہ رکھے جو بچوں کو مارپیٹ نہ کرتے ہو،ناجانے ہمارے مدارس اسلامیہ میں یہ بات کہاں سے آئ کہ مار پیٹ سے ہی بچہ قرآن کریم اور حفظ کرسکتاہے،تعجب کی بات ہے کہ احادیث نبوی اور کتب تاریخ کی رو سے نا نبی کریم صلی اللہ علیہ نے نا آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے شاگردوں کو قرآن کریم کے لۓ پٹائ کی ہو۔اب ہمارے محترم حفاظ اور علماء اکرام اپنے کو کس دلیل پر پیٹتے ہیں،وہ ہی جانے؟

(6) ہمیں جاہئیے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کریں۔اختلاف وانتشار،ذات و برادری کی گندگی،فرقہ بندی اور تعصب و عناد سے دوری رکھے۔
دین و سیاست میں یکجہتی، روحانیت ومادیت میں یکسانیت پیدا کریں۔میرے بھائیوں قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل مسلمانوں کے عروج کے اسباب ہیں،لیکن ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ اختلافات و انتشار، باہمی رنجش، فرقہ بندی، گروہی عصبیت، تعصب و عناد، دین و سیاست میں تصادم، روحانیت و مادیت میں کشمکش،قول وفعل میں تضاد،اغراض و اخلاق میں مزاحمت اور قرآن و سنت سے دوری مسلمانوں کی تباہی اور بربادی کی وجہ ہے۔
(7) ہم عظیم ماضی کی حامل قوم ہیں۔خلافت راشدہ کے علاوہ بنوامیہ، بنو عباس اور پھر عثمانی سلطنت قائم ہوئی اور ان میں سے ہر ایک دنیا کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ہم حاکم رہیں محکوم رہیں لیکن ہم ظالم نہیں تھے۔سماجی بانجھ پن سے قوموں کا زوال ہوتا ہے۔آج ہر جماعت مسلمان کو اپنے گروپ کا حصہ بنانا چاہتی ہیں،لیکن کوئ بھی جماعت مسلمانوں کو مومن بنانا نہیں چاہتی۔اپنا گروہ،اپنا فرقہ، اپنا عالم، اپنا نظریہ سب سے اہم ہوچکے ہیں۔ لوگ سچائی پر اپنے تعصب کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے تعصبات کے دفاع کو کرنے کا سب سے بڑا کام سمجھتے ہیں۔

آخر میں!
انڈین ایکسپریس کے مطابق چار مئی کو تھوبل میں کوکی زومی برادری کی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تاہم جنسی ہراسانی کا مقدمہ 18 مئی کو ضلع کانگپوکپی میں درج کیا گیا۔اس کے بعد متعلقہ پولیس سٹیشن کو کیس بھیج دیا گیا۔
ویڈیو میں ایک خاتون کی عمر 20 برس جبکہ دوسری کی 40 برس بتائی گئی ہے۔ان خواتین نے پولیس کو دیے بیان میں کہا کہ ویڈیو میں صرف دو خواتین نظر آ رہی ہیں جبکہ وہاں موجود جتھے نے 50 سال کی خاتون کے بھی کپڑے اتارے تھے۔ایف آئی آر میں درج ہے کہ ایک نوجوان خاتون کو دن کی روشنی میں گینگ ریپ کیا گیا۔متاثرین نے کہا کہ تین مئی کو تھوبل میں ان کے گاؤں میں جدید ہتھیاروں سے لیس 1000 سے 1500 افراد نے حملہ کیا جو وہاں گولیاں برسانے اور لوٹ مار کرنے لگے۔ان حالات میں ایک نوجوان اور دو معمر خواتین اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ جنگل کی طرف بھاگیں۔شکایت کے مطابق پولیس نے انھیں بچا لیا۔جب پولیس انھیں تھانے لے جا رہی تھی تو تھانے سے دو کلو میٹر دور جتھے نے ان خواتین کو اغوا کیا اور کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ان خواتین کو پولیس کی تحویل سے لیا جس کے بعد نوجوان خاتون کے والد کو موقع پر قتل کر دیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق ایک جتھے نے تین خواتین کو مظاہرین کے سامنے بغیر کپڑوں کے چلنے پر مجبور کیا جبکہ نوجوان خاتون کو ہجوم کے سامنے Gang rape کیا گیا۔ان کے بھائی نے انھیں جتھے سے بچانے کی کوشش کی مگر اسے بھی قتل کر دیا گیا۔

ازقلم: ریاض فردوسی۔9968012976

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے