بدلا ہے نہ بدلے گا قانون شریعت کا

آج بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کے لیے یکساں سول کوڈ یا یکساں شہری قانون کے نفاذ کی راہ ہموار کی جا رہی ہے (UCC) کا مطلب ہوتا ہے ایک ملک ،اور ایک قانون کا نظریہ، اس کا نفاذ در اصل جمہور یت ‏(secularism) کا انہدام ہے، اور ڈکٹیٹر شپ اور تانا شاہی کو فروغ دینا ہے۔ا گر یوں کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ (یکساں سول کوڈ) کا نفاذ در اصل مسلم امہ کو بجبر و اکراہ کفر وار تداد کی آگ میں جھو نکنے کے مترادف ہے۔ اس سے مراد وہ قوانین ہیں۔ جو کسی بھی مخصوص خطے میں آباد شہریوں کے سماجی اور عائلی زندگی کے لئے بنائے گئے ہوں۔ اس میں کسی بھی فرد کے مذہب و تہذیب ، رسم ورواج اور پر سنل لا کا لحاظ نہیں رکھا جاتا جو صریح طور پر سیکولرازم کے خلاف ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ (UCC)‏ کی بحث برطانوی اقتدار کے دور میں ہی پنہپا شروع ہو چکی تھی۔ 1963 ء میں اس کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا، جس کا مقصد مسلم پرسنل لا میں رد و بدل پر غور و خوض ،اور اس کے عملی راہوں کو ہموار کر تھا۔ لیکن امت مسلمہ کی بڑی شدو مد سے مخالفت کی بناء پر یہ کمیشن مقرر نہ ہو سکا اسی طرح 1972ء میں اسی پالیسی کا اعادہ کیا گیا ، چنانچہ پارلمنٹ میں متبنی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسودہ قانون (یکساں سول کوڈی) کی طرف ایک بڑھتا ہوں قدم ہے لیکن مسلمانوں کی غیرت وحمیت نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا اوروہ اس کو لاگو نہ کر سکے ، ایسے پر خطر حالات ہیں جبکہ شریعت میں مداخلت کی کو ششیں عروج پر تھیں، 1973ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا کا قیام عمل میں آیا جس کامقصد مسلمانوں کے عائلی قوانین بالخصوص مسلم پر سنل لا ایکٹ 1913 کو بدستو رنافذ العمل رکھنے ، نیز مسلمانوں کے نجی قوانین کو شریعت کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں فقیر المصرحضرت مفتی شعیب اللہ خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی چشم کشا تحریر ملاحظہ فرمائیں ،

حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور (UCC) کے مابین ایسا ہی تضاد ہے، جیسے ایمان اور کفر میں ہے، کیونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ولائحہ عمل ہے، جسکے اپنے قوانین اصول ہیں، اپنے کلیات و ضوابط ہیں ،یہ سب کسی بشر و انسان کے بنائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خالقِ بشر رب کاحق جل مجدہ کے بنائے ہوئے ہیں، اس لئے کہ اسلام میں قانون سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے (ان الحکم الا الله،) کا اختیار صرف اور صرف اللہ کو حاصل ہے، کسی انسان کو یا کسی مخلوق کو نہیں ، خواہ وہ نبی ہو یا ولی ، عالم ہو یا فاضل ، فلسفی ہو سائنس دان سب اللہ کے بندے ہیں، جن کو الله کے لائے ہوئے قانون پر بلا چوں و چرا عمل کرنا ہے۔ ان کو قانون بنانے کا کوئی حق نہیں، اس کے برعکس (UCC) جو بنے گا وہ انسانی عقل وفہم ، علم و تجربے کی بنا پر تیار ہوگا اور ظاہر ہے کہ اسلام نام ہے قانون آلہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور پھر اس کے مطابق زندگی گزارنے کا اور یکساںسول کو جب حکم اپنی کے خلاف انسانوں کا بنا یا ہوا قانون ہے تو وہ اسلام کی ضد ینی کنی ہوا، اس لیے اسلام اور یکساں سول کوڈ میں وہی السبت ہے جو ایمان اور کز میں ہے تو جس طرح ایک شخص کفر کو اختیار کر کے مسلمان و نویں نہیں ہوسکتا، بالکل اسی طرح یکساں سول کوڈ کو مسولم کر کے بھی کوئی شخص دائرہ اسلام میں باقی نہیں رہ سکتا ۔ (نفائس الفقہ)

از قلم محمد علی عمیر گلبرگہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے