بی جے پی روایتی طریقوں سے اب چناؤ جیت نہیں سکتی

مودی سرکار کے لئے موجودہ دور میں سیاسی حالات بد سے بد تر ہو رہے ہیں اس حالات میں بی جے پی حکومت کا پھر سے منتخب ہونا مشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آ رہا ہے ۔لیکن مودی سرکار اتنی آسانی سے حکومت اپنے ہاتھ سے جانے دیگی یہ بھی ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ مودی سرکار کو معلوم ہے کہ ایک بار حکومت سے بے دخل ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ وزیر اعظم مودی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ 2024 کے عام انتخابات میں اگر وہ شکست کھاتے ہیں تو ان کے لئے بھارت سے فرار ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا ہے۔اگر وہ بھارت میں رہنا چاہیں گے تو اُنکے لیے ایک کے بعد ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔صرف مودی کے لئے ہی دشواری پیش آئےگی ایسا نہیں ہے بلکہ مودی کو ساتھ دینے والے سبھی اعلی آفیسر بھی اُنکے ساتھ مشکل میں آئیں گے ۔اسلئے مودی اور امیت شاہ بی جے پی کی جیت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔حزب اختلاف کم و بیش اب بھی روایتی سیاست کر رہی ہے ۔جبکہ مودی سرکار 2014 میں حکومت سنبھالنے کے ساتھ ہی روایتی سیاست یعنی لوک لاج کو تیاگ چکی ہے ۔لوک لاج کسی بھی جمہوریت کا زیور ہوتا ہے لیکن یہ سرکار من مانے ڈھنگ سے اب تک حکومت چلا رہی ہے ۔حزب اختلاف مودی سرکار کی حکومت چلانے کے طریقہ کار کو غیرا علانیہ ایمرجنسی کا نام دیتی رہی ہے ۔وزیر اعظم مودی جس طرح سے کسی بھی آئینی ادارے جو جمہوریت میں چیک اینڈ بیلنس کا کام کرتی ہیں اُنھیں اپنے اشارے پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا ہے ۔جانچ ایجنسیوں کا استعمال کھل کر اپنے مخالف سیاست دانوں کے خلاف کیئے جا رہے ہیں ۔مہاراشٹر میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کو توڑنے کے بعد عوام بھی سمجھ گئی ہے کہ مودی سرکار کو بد عنوانی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس سرکار کو صرف اور صرف اپنی سرکار قائم اور دائم رہے اسکی فکر ستاتی رہتی ہے ۔دو دنوں پہلے جس اجیت پوار اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کے خلاف وزیر اعظم نے بد عنوانی کا الزام لگا کر کاروائی کی بات کی تھی اُنھیں ہی دو دنوں بعد مہاراشٹر سرکار میں کیبنیٹ وزراء بنا دیے گئے ہیں ۔پورا ملک مہنگائی سے پریشان ہے۔اسکول اور دوا ہر ایک شہری کے لئے مشکل ہو چکا ہے۔ایسے میں شمالی مشرقی ریاست منی پور میں گزشتہ اسی دنوں سے خانہ جنگی کی صورتحال ہے۔منی پور کی سرکار پوری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔اسکے باوجود مرکزی سرکار اس سرحدی ریاست میں اکثریتی سیاست کر تی نظر آ رہی ہے ۔16 فیصدی کوکی آدیواسیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے ۔انگلینڈ اور یوروپین پارلیمنٹ میں منی پور تشدد پر بحث اور مباحثہ ہو رہا ہے لیکن بھارت کی پارلیمنٹ میں حکمران جماعت بحث نہیں چاہتی ہے جس کی وجہ سے پارلیمنٹ چل نہیں پا رہا ہے ۔بھارت کی سرکار مین اسٹریم میڈیا کو اپنے قابو میں کر کے یہ سمجھ رہی ہے کہ اُنکے غیر جمہوری اقدام ملک کے عوام تک نہیں پہنچ رہا ہے ۔لیکن سرکار غلطی پر ہے۔سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اب چھوٹی سے چھوٹی بات ملک کے گاؤں گاؤں پہنچ جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مودی اور امیت شاہ کو شکست کا خوف ستانے لگا ہے۔دسمبر میں ہونے والے چار ریاستوں کی اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو شکست ہو جاتی ہے تو مودی اور امیت شاہ کے لئے اپنے ہی پارٹی کے رہنماؤں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔شاید اس کے بعد 2024 کا لوک سبھا چناؤ ہی معطل کر دیا جائے اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی اعلانیہ میں تبدیل ہو جائے ۔کیونکہ آنے والا لوک سبھا چناؤ نہ صرف حزب اختلاف کے لئے بلکہ آر ایس ایس اور مودی سرکار کے لئے جینے مرنے کا سوال ہے ۔مودی سرکار اس چناؤ کو جیتنے کے لئے کسی بھی حد تک یعنی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے لیکن اس رسّہ کشی میں عوام کا برا حال ہونے والا ہے۔

تحریر: مشرف شمسی
ممبئی،میرا روڈ
موبائیل 9322674787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے