ارتداد کا سدباب؛ عملی تحریک اور علمی دوراندیشی کی ضرورت

مسلم بچیوں کا غیر مسلم لڑکوں کے چکر میں آنے, اور پھیرے لے کر ارتداد کے گڑھے میں گرنےکا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے, معروف عالم دین اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا محفوظ عمرین صاحب کا چار پانچ سال پرانا ایک بیان نظر سے گذرا کہ ” پچھلے دنوں دہلی میں علماء اور سرکردہ افراد کی ایک میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ دہلی اور اس کے اطراف میں کے صرف ایک علاقے میں پانچ سومسلمان لڑکیاں مرتد ہو گئیں،انہوں نے غیر مسلم لڑکوں سے نکاح کیا، اور ان کے ساتھ چلی گئیں۔یعنی انہوں نے اپنے دین وایمان اوراخلاق کو چھوڑ دیا۔خود ہماری ریاست مہاراشٹرکے پونہ شہر میں پچھلے دو سال کے عرصے میں ساٹھ ستر لڑکیاں مرتد ہو گئی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے خاص اسی مسئلے سے متعلق پونہ کے احباب ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ اگست میں۱۱؍مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں دائر ہوئی ہیں اور پچھلے مہینے (ستمبر) میں ۱۲؍لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔مہاراشٹرکے دوسرے اور شہروں سے بھی اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں چنانچہ بمبئی میں۱۲،تھانے میں۷، ناسک میں۲، اور امراوتی میں ۲؍لڑکیوں نے شادی کی درخواست دی ہے۔”
دوبارہ توجہ فرمائیں کہ یہ مولانا موصوف جیسے معتبر عالم دین کا کئ سال پرانا بیان ہے , جبکہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ ایمانی فساد کی یہ آندھی پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور روز بروز اس میں شدت ہی آرہی ہے . مفکراسلام مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ” آر ایس ایس نے ایک بڑی ٹیم تیار کی ہے،جو اپنے ہندو نوجوانوں کو تین (3)یا چھ (6)مہینے کی ٹریننگ دیتے ہیں ،جس میں اسے بہترین لکھنوی اردو زبان سکھاتے ہیں مثلاً: تشریف رکھیے،کیسے مزاج ہیں؟کیا حال ہے ؟خیریت ہے؟آپ کی دعائیں ہیں ،الحمدللہ،ان شاء اللہ،ماشاء اللہ ،انا للہ وغیرہم جیسے دیگر الفاظ ،پھر یہ سب انہیں سکھاکر کہتے ہیں کہ :اب تم مسلم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنساؤ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ :ایک لڑکا اگر کسی مسلم لڑکی کو مرتد کرلیا،تو ڈھائی لاکھ کا تو چیک اسے اسی وقت ملے گا،ذاتی مکان اس کے نام کا ہم دیں گے اور جاب(نوکری) دیں گے۔بے روزگاری کے اس دور میں ،جس میں نوجوانوں کو جاب ملنا انتہائی مشکل ہے،غیر مسلم نوجوان سوچتے ہیں کہ ہمارے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں،ہم تو ایک لڑکی کو اپنا بھی لیں گے،پھر ڈھائی لاکھ کا چیک بھی ملے،ذاتی مکان بھی ملے گا،اس کے بعد جاب بھی ملے گا،بھلا یہ کتنا سستا سوداہے؟….اس مہم پر کروڑوں غیر مسلم لڑکے لگ چکے ہیں”
ایک طرف یہ صورتِ حال ہے اور دوسری طرف مسلم عوام اور خواص کی بدعملی اور بےحسی ہے کہ جو کسی طرح ختم نہیں ہورہی ہے.
ارتداد کے مسئلے پر اگر چہ بہت سی باتیں ہوچکی ہیں اور کافی مشورے بھی آچکے ہیں مثلاََ:دین کا صحیح تصور, گھر میں تربیت, مخلوط نظام تعلیم سے احتراز, موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط, کوچنگ سینٹروں میں آتی جاتی بچیوں کی نگرانی, غیر مسلم لڑکوں کے موبائل ریچارج فوٹو کاپی کی دکان پر بچیوں کو جانے سے پرہیز, حیاداری کا سبق اور پردے کا اہتمام وغیرہ, لیکن اصل کام تو عمل کا ہے جس کے لئے تحریکی طور پر پہل نہیں ہورہی ہے.
مزید غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ارتداد کی دو اہم ترین وجوہات فوری اور خصوصی توجہ کی متقاضی ہیں, ایک جہیز,تلک, کپڑا خریداری کی مسابقت, بارات وغیرہ درجنوں غیراسلامی رسم ورواج پر مشتمل مہنگی شادی, اور دوسری تین طلاق میں عجلت اور اس کے بعد منصوبہ بند حلالہ کا لعنتی چلن. ہماری اس کمزوری کا زبردست فائدہ بھگوا لو ٹریپ گروہ اٹھاتا ہے, وہ مسلم بچیوں کو خوفزدہ کرتا ہے کہ اگر تم نے کسی مسلمان لڑکے سے شادی کی تو وہ تمہیں ایک جھٹکے میں تین طلاق دے کر اجنبی بنادے گا اور پھر حلالہ کے نام پر کسی دوسرے کے ساتھ ہمبستر کروائے گا, ساتھ ہی قیمتی تحفے دیتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں ,زندگی بھر ساتھ نبھاؤں گا ,ہمارے یہاں تین طلاق کا مسئلہ نہیں ہے وغیرہ وغیرہ….
جہاں تک پہلی وجہ کا تعلق ہے تو اسلام نے شادی کے معاملے میں لڑکی اور اس کے گھر والوں پر ایک روپئے کا بھی بوجھ نہیں رکھا ہے کیونکہ شادی کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ رشتہ پسند آجائے تو لڑکی کا مہر طے کرو, دو گواہ بلاؤ, نکاح کا خطبہ ہوجائے اور ایجاب وقبول ہوجائے تو مناسب ہے کہ چھوہارے تقسیم کردو, اور بغیر بھوج بارات لڑکی کو رخصت کرواؤ, اور آئندہ ایک دو روز میں لڑکا چاہے تو ولیمہ کروالے اور اگر فرصت و استطاعت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں.لیکن افسوس! محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے نام لیواؤں نے شادی میں ساری دنیا کی خرافات اور مشرکانہ رسوم سے ایک سادہ, مختصر,آسان اور مسنون عمل کو بوجھل, مہنگا, مشکل.جان لیوا, ایمان سوز, دخترکش وقاتلانہ عمل بنادیا ہے نیز ناچ, گانا, بدکاری, نمائش, منافقت, و استحصال کا مجموعہ بنادیا ہے جیسا کہ یہ غیروں کے یہاں تھا اور ہے, چنانچہ رشتہ دیکھنے,پسند کرنے اور طے کرنے کے ایک ایک مرحلے پر کئ کئ دفعہ مہمانی کے مزے اڑائے جاتے ہیں , حرام کے ناپاک لقموں سے پیٹ کے گڑھے بھرے جاتےہیں, پھر کپڑا خریداری کی رسم میں دونوں طرف سے مفت خوروں کی بھیڑ بلانا ضروری ہوتا ہے جو دو مقابل پارٹیاں بن کر مہنگے سے مہنگا کپڑا خریدنے کا کمپٹیشن کرواتے ہیں اور لڑکا ولڑکی والوں کو تباہ کرنے میں کوئی کمی کسر نہیں چھوڑتے جبکہ فائدے میں صرف ماڑواری سیٹھ اور اس کا ایجنٹ رہتا ہے , یہ سراسر پاگل پن ہے کہ دو خاندان جو نکاح کے مقدس بندھن کے ذریعہ ایک دوسرے کے سگے ہونے والے ہوں دونوں ایک دوسرے کا نقصان کر واکر کسی غیر کو فائدہ پہنچائیں پھر اس پر شاداں ونازاں ہوں اور بغلیں بجائیں. ع:
احمقوں کی کمی نہیں غالب
نکاح جیسے ضروری اور آسان کام کو دین ودنیا کی بربادی سے عبارت کرنے کے لئے اپنے لوگوں نے صرف مہمانی اور کپڑا خریداری کمپیٹیشن ہی غیروں سے نہیں لیا بلکہ بارات کی حرامخوری, کرائے پر لائے گئے گاڑیوں کی نمائش, تلک کی بھیک, دہیج کی ڈکیتی, گھاس چاول سے چومانے کا مشرکانہ رواج, دیہر چھکانی کی بداخلاقی, جوتے چرائی کی بےشرمی, گیت گالی کا وحشی پن , ناچ گانا ڈی جے کی شیطانیت….. غرض تمام برائیوں کو گلے سے لگالیا ہے, جس کا ایک بھیانک نتیجہ یہ بھی ہے کہ آج اسلام کی بیٹیاں ابلیس کے بیٹوں کی آغوش میں سمارہی ہیں, پھر پہلے تو ایمان اور بعد میں جان تک گنوا رہی ہیں. سہولت پسند لوگ کہتے ہیں کہ سارے فساد کی جڑ موبائل ہے لیکن کیا اس کا علاج یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ان سے موبائل ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ چھین لیں….نہیں! بلکہ آج کے تقاضۂ حال میں شاید یہ ممکن بھی نہیں ہے خاص طور ہر اس لئے کہ مخلوط نظام تعلیم سے بچنے کا متبادل آن لائن تعلیم ہی ہے, البتہ استعمال میں احتیاط ونگرانی ضروری ہے. بیٹیوں کو کفر وشرک کی دَلدل میں دھنسنے سے بچانا ہے تو دراصل ہمیں سدھرنا پڑے گا اور سدھرنا ہی پڑے گا, یعنی مجھےبحیثیت فرد اور میرےآس پاس کے مسلمانوں کو پھر میرے شہر صوبہ اور ملک بھر کے ذرہ برابر ایمان والے کو بھی سدھرنے کا انفرادی واجتماعی حلف لینا ہوگا, شادی کو مکمل طور پر اللہ ورسول ص کے حکموں کے مطابق انجام دینا ہوگا, اللہ کے عہد کو پورا کرنا ہوگا ,ورنہ بچیاں جہنم کی طرف جاتی رہیں گی اور عنقریب بےحسی کے وبال سے ہمارا حال ناقابل تصور حد تک خراب ہوگا.
ارتداد کی دوسری سب سے بڑی وجہ جیسا کہ پہلے ہم نے عرض کیا تین طلاق میں جلدبازی اور منصوبہ بند حلالے کا لعنتی چلن ہے جس کی شرح اگرچہ بہت کم ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہرحال "ہے” ، اور اس مکروہ ترین فعل کا وجود مسلم سماج کے ماتھے پر ایک کلنک ہے اور شریعت کے احکام میں ناجائز حیلہ بازی کا بدترین نمونہ ہے جس کو لےکربھگوا لوٹریپ والے آئے دن نہ صرف اسلام کو بدنام کرتے رہتے ہیں بلکہ مسلم بچیوں کو اسلام سے بدظن کرکے ارتداد کے دہانے تک پہنچاتے رہتے ہیں.
ہمیں اگر ارتداد کے کینسر سے اپنی نسلِ موجود وآئند کو بچانا ہے تو دوسرا کام خواص کے ذمہ ہے اور وہ یہ کہ علوم دینیہ کے ماہرین کو مسلکی تنگنائیوں سے نکل کر نصوص کی تشریح پر غور کرنا ہوگا اور جہاں ایک سے زائد تشریحات موجود ہیں وہاں عرف اور حالات کے مطابق ترجیح وتصحیح کا حکم لگاکر اختلافِ امت کو رحمت ثابت کرنا ہوگا, جیسا کہ مفقود الخبر کی زوجہ کے سلسلے میں ہمارے بالغ نظر اسلاف کرام نے کرکے دکھایا ہے اور یہ بات ہمارے لئے ایک مثال ہے. ہند و پاک میں عوام کالانعام کا یہ خیال ہوتاہے کہ جب تک تین طلاق نہ دو طلاق نہیں پڑتی, اسی لئے جب ان کو محض دھمکانا ہوتا ہے تو صرف طلاق یا ایک طلاق دو طلاق کہتے ہیں اور جب واقعی طلاق کا ارادہ ہوتو ایک دو تین کردیتے ہیں, اہل علم کو اسے ایک عرف کے طور پر لینا چاہئے اور بطور نظیر "لایواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم—-الآیہ” پربھی فاضلانہ نظر رکھنی چاہئے. میں کوئی حکم پیش نہیں کر رہاہوں بلکہ فتنۂ ارتداد کے سلگتے مسئلے کو ختم کرنے کے لئے اہل علم سے غور وفکر کی مخلصانہ ومودبانہ گزارش کررہا ہوں. یہ مشکل حالات عملی تحریک اور علمی دوراندیشی کا تقاضہ کرتے ہیں.

از قلم: مفتی حسین احمد ہمدم
جامعۃ الفلاح للبنات,سیسونا,ارریا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے