منی پور فساد منافرت کی سیاست کا نتیجہ

منی پور میں حالیہ نسلی فسادات 3 مئی کو اس وقت شروع ہوئے جب ریاست کی طلبہ تنظیم ’آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین منی پور‘ (اے ٹی ایس یو ایم) نے ریاست کی تمام اقلیتی برادریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منی پور ہائی کورٹ کے سامنے مارچ کیا، جس میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی تھی ۔ آئیے پہلے منی پور کی جغرافیائی پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں.
در اصل منی پور میں بنیادی طور پر تین برادریوں کے لوگ آباد ہیں۔ (1)میتئی (2) قبائلی گروہ کوکی (3) ناگا۔ کوکی، ناگا سمیت دیگر قبائل کے لوگ پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔ جبکہ میتئی کی اکثریت وادی امپھال میں رہتی ہے۔ مذہبی اعتبار سے میتئی برادری کے زیادہ تر لوگ ہندو ہیں۔ جبکہ ناگا اور کوکی برادری کے لوگ بنیادی طور پر مسیحی (کرسچن) مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
میتئ برادری کے لوگ آبادی میں زیادہ ہونے کے باوجود منی پور کے 10 فیصد علاقے میں آباد ہیں، جبکہ باقی 90 فیصد میں ناگا، کوکی اور دیگر قبائل بسے ہوئے ہیں۔
منی پور کے موجودہ قبائلی گروہوں کا کہنا ہے کہ میتئی آبادی والے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے ترقیاتی شعبہ جات اور ملک اور صوبہ کے دیگر معاملات میں بھی ہم سے آگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ منی پور کے کل 60 ایم ایل اے میں سے 40 ایم ایل اے میتئی کمیونٹی سے آتے ہیں۔ باقی 20 کا تعلق ناگا اور کوکی قبائل سے ہے۔ منی پور میں اب تک 12 وزرائے اعلیٰ میں سے صرف دو وزیر اعلیٰ کوکی قبائل سے تھے۔ جبکہ 10 وزراء اعلیٰ میتئ برادری سے، ایسے میں یہاں کے قبائلی گروپوں کو لگتا ہے کہ ریاست میں میتئی لوگوں کا غلبہ ہے۔ منی پور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ریاست کے اکثریتی قبیلے ’میتی‘ کو بھی شیڈولڈ کاسٹ یعنی اقلیتی قبیلے میں شمار کیا جائے اور اسے بھی وہ مراعات دی جانی چاہئیں جو اقلیتی اور پسماندہ طبقے کو ملتی ہیں۔
جبکہ میتی قبیلے کے لوگ منی پور میں اکثریت میں ہیں اور ان کی مجموعی آبادی ریاست کا 53 فیصد ہے لیکن انہیں اقلیتوں اور پسماندہ برادریوں والے خصوصی حقوق حاصل نہیں، جس کی وجہ سے انہیں اپنی ہی ریاست میں بہت سارے علاقوں میں زمین خریدنے کا اختیار نہیں، اس کے علاوہ انہیں زیادہ تر شہروں اور خصوصی طور پر صرف دارالحکومت امپھال کے ارد گرد تک رہنے کی اجازت ہے۔
اسی تفریق کی بنا پر میتی قبیلے کے رہنماؤں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور دلیل دی کہ اقلیتی قبائل جن میں کوکی سرفہرست ہے، ان کی مجموعی آبادی 40 فیصد سے بھی کم ہے لیکن وہ ریاست کی 90 فیصد زمین کے مالک ہیں اور انہیں دیگر حقوق بھی حاصل ہیں، اس لیے ان کی طرح میتی قبیلے کو بھی اقلیتی خانے میں شامل کیا جائے۔
عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کو تجاویز بھیجے کہ میتی قبیلے کو بھی اقلیت میں شامل کیا جائے،
اس کے بعد کوکی برادری کو یہ تشویش لاحق ہونے لگی کہ اگر میتیوں کو بھی اقلیتی قبیلے کا درجہ مل جاتا ہے تو ان کے لیے اپنے ہی صوبہ میں روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے اور وہ پہاڑوں پر بھی زمین خریدنا شروع کر دیں گے۔ ایسی صورت حال میں وہ مزید پسماندہ ہو جائیں گے.
جس پر وہاں کی اقلیتی برادریوں اور خصوصی طور پر کوکی برادری نے احتجاج کیا اور اگلے ہی روز اسی احتجاج پر حملہ ہوا تو پوری ریاست میں آگ اور خون کی ہولی کا ننگا ناچ شروع ہوگیا.
تقریباً ایک ماہ کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چار روزہ دورے پر منی پور گئے ۔ اس دوران انہوں نے ریاست کی صورتحال کا جائزہ لیا اور حالات کو معمول پر لانے کی منصوبہ بندی کے لیے سیکورٹی فورسز اور سیول سروسز کے لوگوں کے ساتھ میٹنگیں کیں ۔ 3 مئی کو منی پور میں نسلی تنازعہ شروع ہونے کے بعد یہ امیت شاہ کا پہلا اور آخری دورہ تھا، ان کے اس دورہ کے بعد بھی منی پور کے وزیر اعلیٰ حالات کو قابو کرنے میں ناکام رہے اور حالات مزید بد سے بدتر ہوتے چلے گئے.
فساد زدہ منی پور سے جب 76 دنوں بعد ایک ہجوم کے سامنے کوکی برادری کے دو خواتین کے کپڑے اتار کر پریڈ کرانے اور ان پر جنسی تشدد کا دل دہلا دینے والی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ، جس نے پورے ملک کے عوام و خواص اور سیاسی و سماجی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کی وجہ سے پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے منی پور تشدد پر تشویش اور برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ "کل شیئر کی گئی ویڈیوز سے ہم بہت پریشان ہیں۔ ہم اپنی گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت قدم اٹھائے اور کارروائی کرے۔ یہ ناقابل قبول ہے”.
منی پور کے فساد پر پورے ملک کے عوام و خواص وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر حیران تھے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیان کے بعد پارلیمنٹ کے مانسون سیشن 2023 کے آغاز سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آٹھ منٹ کے اپنے بیان میں صرف 36 سیکنڈ منی پور کی بات کی اس میں انہوں نے کہا کہ” منی پور میں جو کچھ ہوا اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ شرمناک ہے۔ اس واقعے کے قصور واروں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کے واقعے پر میرا دل درد اور غصے سے بھرا ہوا ہے۔ یہ واقعہ کسی بھی معاشرے کے لیے شرمناک ہے۔ گناہ کرنے والے کسی بھی جگہ سے تعلق رکھتے ہوں لیکن پورے ملک کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں اور بہنوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ منی پور کے واقعہ سے ملک کے تقریباً 140 کروڑ لوگ شرمندہ ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ میں ملک کی تمام ریاستوں کے وزیر ا علیٰ سے ریاست میں امن و امان کو سخت کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ خواتین کے تحفظ میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ واقعہ کسی بھی ریاست میں کیوں نہ ہو، میں ملک کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ قصورواروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا”.
وزیراعظم کے بیان کے بعد کانگریس پارٹی نے کہا کہ” وزیر اعظم نریندر مودی 78 ویں دن چیف جسٹس کے سرزنش کے بعد منی پور کے مسئلہ پر منہ بھی کھولے تو ان کے بیان سے سیاست کی بو آتی ہے، اگر حکومت واقعی اس مسئلہ کو لے کر سنجیدہ ہے تو اسے ایمانداری کے ساتھ اس مسئلہ پر جامع بات چیت کرنی چاہئے، کانگریس کے وہپ شکتی سنگھ گوہل اور لوک سبھا میں پارٹی وہپ گورو گوگوئی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی حکومت جن اصولوں کے تحت ان مسائل پر بات کرنا چاہتی ہے وہ منی پور جیسے بحران پر بحث کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ اس معاملے پر جامع بحث کی ضرورت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے میں جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 267 کے تحت راجیہ سبھا میں بڑی بحث ہوتی ہے اور دفعہ 167 کے تحت چھوٹی بحث ہوتی ہے۔ بڑی بحث پر ضرورت پڑنے پر ووٹنگ کی جا سکتی ہے اور اس میں طویل بحث بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے اپوزیشن اس اصول کے تحت بحث کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکومت دفعہ 176 کے تحت بحث کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کے عوام منی پور میں جاری بحران پر نہ صرف منی پور میں بلکہ دہلی اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج کر رہے ہیں اور اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن مسٹر مودی اس معاملے پر کچھ بھی بولنے سے گریز کر رہے ہیں اور پیٹھ دکھا رہے ہیں.
گزشتہ ہفتے ملک بھر کے 550 سے زیادہ سول سوسائٹی کے باوقار لوگوں نے اجتماعی طور پر ایک بیان جاری کیا تھا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ’’مرکز اور ریاست منی پور میں بی جے پی اور اس کی حکومتوں کی طرف سے کھیلی گئی تقسیم کی سیاست کے سبب آج منی پور بری طرح جل رہا ہے۔ ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس جاری خانہ جنگی کو روکیں، اس سے پہلے کہ مزید جانیں ضائع ہوں۔‘‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے دونوں برادریوں کے اتحادی ہونے کا ڈرامہ کیا، لیکن موجودہ بحران کے حل کے لیے اور بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ ان کے درمیان تاریخی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا گیا.
منی پور کے اس ہندو بنام مسیحی فسادات میں اب تک دوسو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، سینکڑوں زخمی ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو کر ریاست بھر کے امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ منی پورکے 10 سے زائد اضلاع میں فسادات سے اب تک 54 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ 200 گرجا گھر، 20 پولیس سٹیشن اور 2 ہزار سے زائد مکانات تذر آتش کر دیے گئے ہیں۔ گھروں، گاڑیوں، سرکاری اور نجی املاک آگ میں بھسم ہونے اور ہسپتالوں میں لاوارث لاشوں کے خوفناک اور دلدوز مناظر دیکھے نہیں جا رہے ۔ ہندوستانی فوج آسام رائفلز کے اہلکار ہندوؤں کی منشا کے مطابق مسیحیوں پر چڑھائی،ان کی املاک کو نذرآتش کرنے اور انہیں قتل کرنے پر عملی مدد کر رہے ہیں۔بات باہر نہ جائے اس کے کے پیش بندی کے طور پر منی پور میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے. کرفیو نافذ ہے، بھارتی فوجی اہلکاروں کو کہا گیا ہے، کہ بلوائیوں کو کرفیو کے دوران’’دیکھتے ہی گولی مار ماردی جائے‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 3 مئی اور اس کے بعد کے تشدد نے ایک بار پھر منی پور اور میزورم میں کُکی آبادی والے (مسیحی) پہاڑی اضلاع کے لیے علیحدہ انتظام کا مطالبہ اٹھایا ہے، جس کی تجویز پہلی بار 1960ء کی دہائی میں میزو شورش کے عروج پر پیش کی گئی تھی.
منی پور کی تاریخی پس منظر بتاتی ہے کہ منی پور 1891ء میں برطانوی دور میں ایک شاہی ریاست کے طور پر ابھرا، جو کہ برطانوی ہندوستان میں شامل ہونے والی آزاد ریاستوں میں سے آخری تھی۔ جنگ عظیم دوئم منی پور کے لوگوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ جاپانیوں کو امپھال کے اندر قدم رکھنے سے پہلے ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔1907ء میں حکومت کی سربراہی راجہ اور اس کے دربار نے کی جس کے نائب صدر برٹش انڈیا میں سے ایک رکن تھے۔ رفتہ رفتہ راجہ کو شکست ہوئی اور دربار کے نائب صدر نے اقتدار سنبھال لیا۔ 1917ء میں کوکی پہاڑی قبائل کی بغاوت نے اس علاقے کو تین ذیلی حصوں میں تقسیم کر دیا، جن میں سے ہر ایک کا سربراہ اس کی پڑوسی ریاست آسام سے سیاسی امیدوار تھا۔ اس کے بعد، منی پور آئینی ایکٹ، 1947ء ، نے مہاراجہ اور ایک منتخب قانون ساز ادارے کے ساتھ ایک جمہوری قسم کی حکومت قائم کی۔ واقعات کے ایک سلسلے کے بعد، قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا اور اکتوبر 1949ء میں منی پور کو ہندوستان کی ایک ریاست کے طور پر قبول کر لیا گیا۔جیسے ہی منی پور ہندوستان کا ایک علاقہ بنا ، آسام حکومت کا غلبہ کم ہوا اور دو سال کے بعد، منی پور ایک یونین کے زیر انتظام علاقہ بن گیا، جس کی حکومت ایک چیف کمشنر اور علاقائی کونسل تھی۔ منی پور بالآخر 21 جنوری 1972 ء کو ہندوستانی یونین کی ایک جزوی ریاست بن گیا، جس پر گورنر کی حکومت تھی۔
منی پور کی پولیس نے اس وائرل ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ واقعہ چار مئی کو ضلع تھوبل میں پیش آیا تھا جس پر نامعلوم افراد کے خلاف اغوا، گینگ ریپ اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے.
ویڈیو سامنے آنے تک اس سلسلے میں پولیس نے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی، لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ چار افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
اخبا ر انڈین ایکسپریس کے مطابق چار مئی کو تھوبل میں کوکی زومی برادری کی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تاہم جنسی ہراسانی کا مقدمہ 18 مئی کو ضلع کانگپوکپی میں درج کیا گیا۔ اس کے بعد متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کیس بھیج دیا گیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون کی عمر 20 برس جبکہ دوسری کی 40 برس بتائی گئی ہے۔
ان خواتین نے پولیس کو دیے بیان میں کہا کہ ویڈیو میں صرف دو خواتین نظر آ رہی ہیں جبکہ وہاں موجود جتھے نے 50 سال کی ایک خاتون کے بھی کپڑے اتارے تھے۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ایک نوجوان خاتون کو دن کی روشنی میں گینگ ریپ کیا گیا۔
متاثرین نے کہا کہ تین مئی کو تھوبل میں ان کے گاؤں میں جدید ہتھیاروں سے لیس 800 سے 1000 افراد نے حملہ کیا جو وہاں گولیاں برسانے اور لوٹ مار کرنے لگے۔
ان حالات میں ایک نوجوان اور دو معمر خواتین اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ جنگل کی طرف بھاگیں۔
شکایت کے مطابق پولیس نے انھیں بچا لیا۔ جب پولیس انھیں تھانے لے جا رہی تھی تو تھانے سے دو کلو میٹر دور ایک جتھے نے ان خواتین کو اغوا کیا اور کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ان خواتین کو پولیس کی تحویل سے لیا جس کے بعد نوجوان خاتون کے والد کو موقع پر قتل کر دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ایک جتھے نے تین خواتین کو مظاہرین کے سامنے بغیر کپڑوں کے چلنے پر مجبور کیا جبکہ نوجوان خاتون کو ہجوم کے سامنے گینگ ریپ کیا گیا۔ ان کے بھائی نے انھیں جتھے سے بچانے کی کوشش کی مگر اسے بھی قتل کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں منی پور کی حکومت نے بتایا ہے کہ اس پُرتشدد واقعات پر 5995 مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور 6745 افراد کو حراست میں لئے گئے ہیں.کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ منی پور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ملک بھر میں جاری ‘منافرت کی سیاست’ کا نتیجہ ہے، انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا،”بی جے پی کی منافرت کی سیاست کے سبب منی پور 40دن سے زیادہ سے جل رہا ہے اور ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارت ناکام ہو چکا ہے اور وزیراعظم اس پر مکمل خاموش ہیں…آئیے ہم نفرت کے بازار کو بند کریں اور منی پور کے ہر دل میں محبت کی دکان کھولیں” واضح رہے کہ راہل گاندھی منی پور کے دورے پر گئے تھے اور ہر طبقہ کے لوگوں سے ملاقات کی تھی نیز متاثرین کے کیمپوں میں بھی گئے تھے انکی آنکھوں سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی تھی اور بھروسہ دلایا تھا کہ ہم سے جو بھی ممکن ہو سکے گا ہم کریں گے”. دریں اثنا پوری اپوزیشن کی نئی تنظیم انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے 20 اپوزیشن پارٹی ممبران پارلیمنٹ کا ایک وفد 29 اور 30 ​​جولائی کو تشدد سے متاثرہ منی پور کا دورہ کرے گا تاکہ تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ کانگریس کے ایک رہنما نے کہا کہ ہندوستان کے 20 ممبران پارلیمنٹ کا ایک وفد دو دن کے لیے منی پور کا دورہ کرے گا، اور متاثرہ خاندانوں اور لوگوں سے ملنے کی کوشش کرے گا. جنہوں نے شمال مشرقی ریاست میں ریلیف کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے، یہ ارکان پارلیمنٹ وہاں متاثرین سے ملاقات کریں گے”۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ بیرسٹراسد الدین اویسی نے منی پور وائرل ویڈیو واقعہ کی سخت مذمت کی ہے، اور اس پریشان کن ویڈیو کے سامنے آنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اویسی نے متاثرین کے لیے فوری کارروائی اور انصاف کی اپیل کی ہے ۔
اسد الدین اویسی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو منی پور کی خواتین کی برہنہ پریڈ کے ویڈیو پر صرف اس لیے ردعمل دینے پر مجبور کیا گیا کیونکہ یہ وائرل ہوا تھا۔ انہوں نے منی پور کے چیف منسٹر این بیرن سنگھ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا اور اس معاملے کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں نسل کشی ہو رہی ہے ۔ انصاف تب ہی غالب ہو گا جب وزیر اعلیٰ کو ہٹایا جائے گا اور وزیر اعظم سی بی آئی انکوائری کا حکم دیں گے. اب خبر یہ آرہی ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے منی پور میں وائرل ویڈیو کیس کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے۔ کیس کی سماعت منی پور سے باہر ہوگی۔ سی بی آئی جلد ہی اس معاملے میں مقدمہ درج کرے گی۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وحشیانہ واقعہ کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا ” منی پور میں تازہ نسلی تصادم کے بعد سے وہاں سے لوٹ مار اور آگ زنی کی خبریں لگاتار آرہی تھیں، اور بڑے پیمانے پر وحشیانہ جنسی تشدد بھی کیا جا رہا تھا،لیکن اس کی حقیقت 19 جولائی کو ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی سامنے آئی۔ پھر جس طرح سے تین ماہ تک خاموش رہنے والے ملک کے وزیر اعظم کو مجبوری میں اپنا منہ کھولنا پڑا اور منی پور کے وزیر اعلیٰ کو بھی کہنا پڑا کہ ہم مجرموں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ یہ کچھ کچھ ایسا ہی تھا جیسا کہ گجرات 2002 میں ہونے والے تشدد کو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئ نے مانا تھا اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو (جو موجودہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم ہیں) "اپنا راج دھرم اپنانے کی نصیحت کی تھی” ، گجرات کے تشدد کو تقسیم ہند کے بعد کا سب سے وحشیانہ تشدد سمجھا جاتا ہے۔ اسے وہاں کی اس وقت برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے اشارے پر ایک منصوبہ بند طریقے سے اکثریتی ہندوؤں کے ذریعے اقلیتی مسلمانوں کے خلاف کروایا گیا تھا جس کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی
ہم امید کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت جلد از جلد منی پور کے حالات کو سازگار بنانے کے لئے ذات برادری، اقلیت، اکثریت کی سیاست اور عصبیت سے اوپر اٹھ کر محض انسانیت اور ملکی و قومی مفادات کے تحفظ کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔

تحریر: محمد ہاشم القاسمی
خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال
موبائل نمبر: 9933598528

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے