توبہ بے چینی و بے قراری کا موثر اور مفید علاج !

جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے شعبئہ علم النفس کے سابق معاون استاد ڈاکٹر عبد المنان نے ایک موقع پر توبہ اور اس کے نفسیاتی اثرات کے موضوع پر لکچر دیتے ہوئے توبہ کے معنی و مفہوم، اس کے اثرات،اس کی حقیقت و واقعیت اور اس کے دینی تصور کی وضاحت ۔،اور اس کے نفسیاتی پہلو کو بہت ہی تفصیل سے اجاگر کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی شریعت میں توبہ کے معنی خدا سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے اجتناب، برائی کا احساس اور معصیت پر اظہار ندامت اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم ہے ۔
ڈاکٹر عبد المنان نے توبہ کے نفسیاتی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا تھا، کہ اعتراف گناہ سکون قلب اور اطمنان قلب کا موجب ہے ۔ کیوں کہ گناہوں کی وجہ سے دل کو بار اور احساس میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے، اور توبہ دل کے بوجھ کو ہلکا کرتا اور احساس میں سکون لاتا ہے ۔ توبہ کے اور بھی بے شمار پہلو ہیں، جن سے بندئہ مسلم از سر نو اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے،تزکیہ نفس اور توجہ الی اللہ کے لئے امید کے دروازے کھل جاتے ہیں، توبہ کی وجہ سے وہ دلی راحت، اور ذہنی وقلبی سکون محسوس کرتا ہے اور زندگی کے بارے میں نیک شگون رکھتا ہے ۔ دراصل یہ ایمان باللہ اور اتباع سنت کا لازمی نتیجہ ہے۔ بندہ جب سچی توبہ کرتا ہے اور اطاعت الہی کو لازمئہ حیات بنا لیتا ہے، تو اس کا دل پرسکون اور نفس مطمئن ہوجاتا ہے اور اس گناہ کا احساس زائل ہو جاتا ہے، جس سے اس کے دل میں بے چینی اور شخصیت میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے ۔
توبہ کرنے سے انسان پاک ہوجاتا ۔ اور جب گناہ سے توبہ کرنے کے بعد نیک عمل شروع کرتا ہے، تو ایک خاص لذت محسوس کرتا ہے ۔ صاحب دل،مجذوب اور صوفی مزاج شاعر
امجد حیدر آبادی مرحوم نے کیا خوب حقیقت کی ترجمانی کی ہے ۔

جب اپنی خطاؤں پہ میں شرماتا ہوں
اک خاص سرور قلب میں پاتا ہوں
توبہ کرتا ہوں جب گناہ سے امجد
پہلے سے زیادہ پاک ہوجاتا ہوں

توبہ سے انسان صرف پاک ہی نہیں ہوتا اور صرف قلبی اور ذہنی سکون ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ اس توبہ کے بعد اللہ تعالی اس کے رزق میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔ سنن ابی داؤد باب الاستغفار میں یہ حدیث صحیح موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ضیق مخرجا ،و من کل ھم فرجا،و رزقہ من حیث لا یحتسب
جس شخص نے استغفار کا التزام کیا اللہ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکالے گا ،ہر غم اور پریشانی سے نجات دے گا ،اور اس طرح اسے رزق دے گا کہ اسے گمان بھی نہیں ہوگا ۔
توبہ ایک بہترین اور پاکیزہ ترین عمل ہے۔ توبہ کرنے والے کو اللہ اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ توبہ میں انتہا درجہ کی شان پردہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ بندہ جب گھناؤنے سے گھناؤنے فعل اور عمل کو خدا سے ڈر کر ترک کر دیتا ہے، اس پر شرمندہ ہوتا ہے،ندامت کے آنسو بناتا ہے اور عزم کرتا ہے کہ وہ اب اس فعل کا ہرگز مرتکب نہ ہوگا ، تو اس کے طرز عمل کو اعتراف جرم سے نہیں ، بلکہ توبہ سے تعبیر کرتے ہیں، گویا بندہ اپنے خدا کی طرف لوٹا، اور اس کی طرف رجوع ہوا جو ایک بہترین وظیفہ حیات ہے۔ اس طرح بندے کی عیب پوشی کی جاتی ہے، اس کے مقبول بارہ گاہ ہونے کی خبر دی جاتی ہے، اور اسے رسوائی سے بچا لیا جاتا ہے۔
توبہ و استغفار کے زریعہ سے انسان تنگی، پریشانی ، دقت و زحمت اور مشکل سے نکل جاتا ہے۔ ذھنی تناؤ، الجھن، بے چینی،بے قلی اور ڈپریشن سے نجات پاتا ہے۔ توبہ و استغفار رزق کی وسعت اور کشادگی کا سبب اور ذریعہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے تو اللہ تعالیٰ ہر تنگی سے نکلنے کی راہ اس کے لیے پیدا کرتا ہے، اور ہر رنج و غم سے نجات عطا کرتا ہے اور اسے ایسی جگہ اور ایسے طریقے سے رزق بہم پہنچاتا ہے کہ جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ ( مسند احمد،/ ابو داود)
معلوم یہ ہوا کہ بندہ ہر حال میں خدا کا محتاج ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ توبہ اور استغفار کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرے، اس سے وابستہ رہے خوف خدا کا تقاضا بھی یہی ہے اور رحمت خدا وندی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
توبہ کی تاثیر کے حوالے سے حضرت مولانا شرف الدین یحیی مخدوم بہاری منیری رح لکھتے ہیں: توبہ اس طرح ہوتی ہے۔ اور مرید جس موقع پر تائب ہوتا ہے اس کو گردش کہتے ہیں۔ یعنی پلیدگی و آلودگی کی حالت سے پاکی کی حالت میں وہ تبدیل ہوگیا، کلیسا تھا مسجد ہوگیا، بت خانہ تھا ، عبادت گاہ بن گیا، سرکش تھا، انسان بن گیا، مٹی تھا سونا بن گیا، اندھیری رات تھی روز روشن ✨ ہوگیا۔ اس وقت مومن کے دل پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، اور اسلام اپنا جمال دکھاتا ہے اور وہ معرفت کی راہ پا جاتا ہے۔ ( سنہرے اوراقِ /٦٦)
انسان بھول چوک اور خطاؤں سے مرکب ہے، بھول چوک اور خطاء و نسیان اس کی فطرت اور خمیر میں ہے، وہ کتنا ہی سنبھل کر چلے ٹھوکر کھا ہی جاتا، اس سے لغزش ہو ہی جاتی ہے، گناہ کا صدور ہو ہی جاتا ہے، فرشتے چاہ کر بھی گناہ کرنا چاہیں تو وہ نہیں کرسکتے وہ ندامت کے آنسو نہیں بہاسکتے، جو آنسو اور قطرہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ انسان کی فطرت میں شر و خیر دونوں کا مادہ رکھ دیا گیا ہے۔ اسے اپنی اطاعت و بندگی پر سرور آتا ہے اور اپنی غلطیوں اور خطاؤں پر اسے اعتراف قصور ہوتا ہے ۔ مولانا محمد احمد صاحب پرتاپگڑھی رح نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے۔
کبھی طاعتوں کا سرور ہے، کبھی اعتراف قصور ہے
ہے ملک کو جس کی خبر نہیں، وہ حضور میرا حضور ہے
یہ حقیقت ہے کہ مومن بندہ پر بسا اوقات غفلت طاری ہوجاتی ہے اور اس سے کوئی لغزش ہوجاتی ہے، جو کہ ایک صاحب بصیرت، مطیع، فرمانبردار اور عاجزی اور خشوع و خضوع اختیار کرنے والے بندے سے نہیں ہونا چاہیے، مگر بہت جلد اسے یاد آجاتا ہے، وہ غلطی پر متنبہ ہوجاتا ہے، غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے، لغزش سے رجوع کرلیتا ہے، کوتاہی پر استغفار کرتا ہے اور اپنے فعل پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے، توبہ و استغفار کرتے ہوئے، ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے اور عاجزی و فروتنی کرتے ہوئے اپنے امن دینے والے، بخش دینے والے اور معاف کردینے والے رب کی پناہ میں آجاتا ہے۔
ان الذین اتقوا اذا مسھم طآیف من الشیطان تذکروا فاذا ھم مبصرون۔ (الاعراف،، ۲۰۱)
جو لوگ متقی و پرہیز گار ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اورپھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریقہ کیا ہے۔
غفلت اس دل پر طاری نہیں ہوتی ، جو خدا سے محبت کرتا ہو اوراسی سے ڈرتا ہو اور غفلت تو صرف ان دلوں پر ڈیرہ جماتی ہے، جو خدا کے حکم اور اس کی ہدایت سے اعراض کرتے ہوں، سچے مسلمان کا دل تو ہمیشہ توبہ و استغفار اور انابت کے لیے کھلا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اطاعت، ہدایت، تقویٰ، اور رضائے الہی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔( مستفاد از کتاب ،،اسلامی زندگی کتاب و سنت کی روشنی میں،، صفحہ ۲۵)
اللہ تعالٰی ہم سب کو صدق دل سے توبہ و استغفار کی توفیق دے ۔ گناہ سے نفرت کا جذبہ پیدا کردے اور ایسا پختہ ارادہ کی توفیق دے کہ آئندہ یعنی مستقبل میں گناہ کا ارتکاب ہم نہ کریں ۔ یعنی وہ توبہ جس توبہ کو قرآن نے توبت نصوح کہا ہے ۔

تحریر: محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

ناشر / مولانا علاؤالدین ایجوکیشنل سوسائٹی، جھارکھنڈ 6393915491

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے