امام ابوحنیفہ ؒ کا تلامذہ کے ہمراہ حسنِ سلوک!

عصرِ رَواں میں طالبانِ علوم نبوت احساس کمتری کے شکار کیوں؟

علماء جانشینِ انبیاء!!

امام صاحب ؒ کے درس میں بہت آزادانہ ماحول ہوا کرتا تھا،ہر طالب علم کو اعتراض کرنے اور دلائل پر تبصرہ کرنے کی کھلی آزادی تھی،آپ اپنے تلامذہ کو تقلید پیشہ متعلم نہیں بنانا چاہتے تھے، بلکہ ایک مناظر کی حیثیت میں دیکھنا پسند کرتے تھے، شیخ ابو زہرہ نے لکھا ہے کہ امام صاحب اپنے تلامذہ میں تین باتوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔
(۱) تلامذہ کی مالی امداد کرتے اور گردش ایام میں ان کا ساتھ دیتے جس کو شادی کی ضرورت ہوتی اور مالی وسائل نہ رکھتا ہوتا تو اس کی شادی کرادیتے،ہر شاگرد کی ضروریات کی کفالت فرماتے تھے۔
(۲) تلامذہ کی کڑی نگرانی کرتے جب کسی میں احساس علم کے ساتھ کبر ونخوت کے آثار دیکھتے اس کو زائل فرمادیتے اور یہ باور کراتے کہ وہ ہنوز دوسروں سے استفادہ کا محتاج ہے، ایک مرتبہ امام ابو یوسف کے جی میں آیا کہ اب انہیں الگ حلقہ درس قائم کرنا چاہئے، امام صاحب نے اپنے ایک ساتھی سے کہا ابو یوسف کی مجلس میں جاکر یہ مسئلہ پوچھو کہ صورت ذیل میں آپ کیا فرماتے ہیں، ایک شخص نے ایک دھوبی کو دو درہم کے عوض ایک کپڑا دھونے کے لئے دیا،پھر اس نے کپڑا مانگا،دھوبی نے انکار کیا وہ پھر دوبارہ آیااور کپڑے کا مطالبہ کیا،دھوبی نے کپڑا دھوکر اس کے حوالے کردیا،اس صورت میں کیا دھوبی اجرت کا استحقاق رکھتا ہے؟ اگر ابو یوسف اثبات میں جواب دیں تو آپ کہیں غلط ہے اوراگر نفی میں جواب دیں تو بھی آپ کہیں غلط ہے، وہ آدمی گیا اور امام ابو یوسف سے مسئلہ معلوم کیا،امام ابو یوسف بولے ہاں اسے اجرت دینی ہوگی، اس شخص نے کہا غلط ہے، امام ابو یوسف کچھ سوچ کر بولے وہ اجرت کا مستحق نہیں،و ہ بولا یہ بھی صحیح نہیں ہے،امام ابو یوسف اسی وقت اٹھ کر امام صاحب کی خدمت میں گئے،امام صاحب بولے آپ دھوبی کے مسئلے کے سلسلے میں آئے ہوں گے،امام ابو یوسف نے کہا مجھے یہ مسئلہ سمجھائیے، فرمایا: اگر دھوبی نے یہ کپڑا غصب کرنے کے بعد دھویا تو اسے کوئی اجرت نہیں ملنی چاہئے،کیوں کہ اس نے اپنے لئے دھویا ہے اور اگر غصب کرنے سے پہلے دھویا ہے تو و ہ اجرت کا مستحق ہے، کیوں کہ اس نے یہ کپڑا مالک کے لئے دھویا ہے۔
(۳) آپ تلامذہ کو نصیحت کرتے رہتے تھے، خصوصا ان لوگوں کو جو اپنے وطن جانے و الے ہوتے تھے یا جن کے بڑا بننے کی توقع ہوتی تھی، امام صاحب کی وہ وصیتیں جو انہوں نے یوسف بن خالد الستمی، نوح بن ابی مریم اور امام ابو یوسف کے لئے لکھی ہیں وہ بہت ہی قابل قدر ہیں۔
الغرض امام صاحب اپنے تلامذہ کو دوستوں کی طرح رکھتے تھے اور انہیں اپنی عزیز ترین متاع حیات دینے سے گریز نہ کرتے تھے، فرمایا کرتے تھے تم میرے دل کا سرور اورغم وحزن کے زوال کا سبب ہو۔۔۔۔(اقتباس:امام ابو حنیفہ سوانح و افکار)
قارئین! مذکورہ بالا واقعہ سے ہمیں عبرت لینی چاہیے کہ ماضی بعید کے اساتذۂ کرام اور شاگرد کے اَثناء کتنی یگانگت تھی.. اور فی الوقت اساتذۂ کرام و طلباء کے مابین کتنا بُعد ہے یہ تو ہر کس و ناکس پر اظہر من الشمس ہے،یہ ہی وجہ ہے کہ طلباء فراغت کے بعد احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اب کیا کریں! قابلِ غور بات یہ ہے کہ کوئی ڈاکٹر،ماسٹر کی سند یافتہ اسٹوڈنٹ و دیگر فنون کو حاصل کرنے والا کبھی نہیں کہتا ہے کہ اب کیا کروں وہ کسی نہ کسی کام میں ضرور مصروف ہوجاتا ہے…….کیونکہ ان کے سامنے میدان ہے لیکن کف افسوس! مدارس کے طلباء اِس رُوگ میں ضرور مبتلا ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اب کیا کروں!اور دیکھا یہ جاتا ہے کہ کوئی باہر ممالک میں کام کی غرض سے جارہا ہے تو کوئی اپنی شناخت کو تبدیل کرکے دیگر کام میں منہمک ہوجاتے ہیں! کبھی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ دارلعلوم، مظاہرعلوم ندوۃ العلماء الغرض ہندوستان کے معتبر مدارس سے فراغت ہے۔
یہ سب سے بڑا المیہ اس لیے ہے کہ سارے طالب علم کے ذہن میں یہ باتیں رائج ہیں کہ جو بخاری،…. یعنی بڑی بڑی کتاب پڑھا رہے ہیں فقط وہی حق ادا کر رہے ہیں،اور وہی اس کے اہل ہے،ہم اِس کے اہل نہیں حالانکہ نوازی قاعدہ،ناظرہ،حفظِ قرآن پڑھانا کیا اشاعتِ دین نہیں…؟
بارِالہ ہمیں احساس کمتری سے مامون فرمائے نیز اشاعت دین کے لیے قبول فرمائے۔(آمین)

ازقلم: احمد حسین مظاہریؔ پرولیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے