مسجد کے امام حافظ سعد ماب لنچنگ میں شہید

گُڑگاؤں ہریانہ:
گروگرام کی انجمن مسجد کے انیس سالہ نوجوان حافظ سعد کو آج ایک اگست رات بارہ بجے کے قریب دو سو سے زائد فرقہ پرستوں نے مابلنچنگ کرکے شہید کر دیا، اور مسجد کو بھی نذر آتش کر دیا، حافظ سعد شہید بہار کے سیتامڑھی ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں مَنیاڈھیہ کے رہنے والے تھے، گھریلو حالات درست نہ ہونے اور تین بہنوں کی زندگی سنوارنے کے لیے کم عمری میں تعلیم ترک کرکے آٹھ ماہ قبل انجمن مسجد میں امامت و اذان اور علاقے کے بچوں کو مسجد میں پڑھانے کے لیے بحال ہوے تھے، بقول ان کی ہمشیرہ کے رات ساڑھے گیارہ بجے حافظ صاحب سے بات ہوئی تو کہہ رہے لائٹ کاٹ دی گئی ہے اور مسجد کے باہر واچ مین سمیت پولیس کا دستہ پہرے پر تعینات ہے لیکن رات بارہ بجے ایک ساتھ دو سو کے قریب مابلنچنگ کرنے والے مسجد میں سو رہے حافظ سعد اور ان کے دو ساتھیوں پر ٹوٹ پڑے، تینوں کو پرتیکشا ہاسپٹل کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا جس میں سے حافظ سعد زندگی کی بازی ہار گئے اور دو ساتھی سخت ترین زخمی ہے، یہاں پر مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں پر سوال اٹھنا ہے کہ آخر وہ کیا کر رہے تھے کہ حافظ سعد اور ان کے ساتھیوں اور مسجد کو نذر آتش ہونے سے نہ بچا سکے؟ میری حکومت سے اپیل ہیکہ غریب گھر کے شہید حافظ سعد کے اہل خانہ کو انصاف دلائے اور مجرموں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دے! نیز مسلم تنظیموں سے اپیل ہے کہ حافظ سعد شہید کے اہل خانہ کا انصاف دلانے میں بھرپور تعاون کریں!
اہل خانہ کو قانونی طریقے سے انصاف و تعاون دلانے کے لیے شہید کے اہل خانہ کا رابطہ نمبر حاصل کرنے کے لیے مجھے ای میل کریں:
مفتی غلام رسول قاسمی
Gulamrasool939@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے