فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس نے ٹرین میں تین مسلمانوں، ایک فوجی اور گروگرام میں امام مسجد کے قتل کی مذمت کی

  • ایسا محسوس ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت آئندہ عام انتخاب میں متوقع شکست سے خوفزدہ ہوکر ملک میں انارکی پھیلانے والوں سے دانستہ صرف نظر کررہی ہے

ممبئی :مہاراشٹر میں مسلمانوں کی متحدہ تنظیم ’’فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس‘‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جئے پور ممبئی ایکسپریس ٹرین میں آر پی ایف کانسٹبل کے ذریعہ تین مسلمانوں کو اپنے سروس بندوق سے شہید کرنے اور سب انسپکٹر کو قتل کرنے والے واقعہ نے ہر امن پسند شہری کو بے چین کردیا ہے ۔ یہ واقعہ جہاں ایک طرف دہشت گردی کا بدترین نمونہ ہے تو وہیں ہمیں یہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ انسانیت سوز اور ملک کے امن کو تار تار کرنے والا واقعہ کیوں رونما ہوا ؟ ہمیں اور جن کے کاندھوں پر ملک میں امن و امان اور انصاف کرنے کی ذمہ داری ہے یہ سوچنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اور اس کے تدارک کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے ؟ فیڈریشن نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو ان حالات پر فوری قابو پایا جاسکتا ہے جس کا اظہار انتظامیہ اپنا کردار ادا کرچکے ذمہ داروں نے اکثر کیا ہے ۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ فسادیوں اور دہشت گردوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے ۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ ہم فسادیوں کو الٹا لٹکا دیں گے ، ہمارا سوال ہے کہ فسادیوں اور دہشت گردوں کے خلاف ان کے عزائم کو کیا ہوا ؟ کیا اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ صرف ایک فرقہ کیلئے اس طرح کے عزائم کا اظہار کرتے ہیں ۔
فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کے کوآرڈینیٹر نے ٹرین فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے ملک کے حکمرانوں اور ذمہ داروں کی توجہ اس جانب دلائی کہ ایک ہی دن میں ملک کے الگ الگ خطوں میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جو کہ تشویش کا باعث ہیں اور ملک کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں ۔ انہوں نے گروگرام کی انجمن مسجد میں دو سو فسادیوں کے ذریعہ حملہ کرنے اور بے دریغ فائرنگ کرکے کئی افراد کو زخمی کرنے جس کے نتیجہ میں نوجوان عالم دین اور امام مسجد حافظ سعد کو شہید کرنے نیز مسجد میں توڑ پھوڑ کرکے اس میں آگ لگانے جیسی انسانیت سوزحرکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ اس کے علاوہ میوات میں ہندو دہشت گردوں کے ذریعہ شہر کا امن غارت کرنے کی کوشش جس میں پولس کانسٹبل سمیت کئی کی موت ہوگئی اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے اس میں مونو مانیسر بھی شامل تھا جس نے ایک دن قبل سوشل میڈیا کے ذریعہ اس میں شامل ہونے کا اعلان بھی کیا تھا ۔ جبکہ مونو مانیسر پولس کی نظر میں ایک مفرور ملزم ہے جس نے راجستھان کے دو مسلم نوجوانوں کو زندہ جلا کر مارڈالا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی اس پر کئی مقدمات ہیں۔

فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کے ذمہ داروں نے کہا کہ ان واقعات کی روشنی میں اور ملزموں کو کھلے عام چھوٹ دینے سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور ان میں یہ خیال پختہ ہورہا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ہندو فسادیوں اور دہشت گردوں کی حرکتوں سے صرف نظر کررہی ہے تاکہ ہندو مسلم خلیج سے فائدہ اٹھا کر آئندہ سال لوک سبھا کا الیکشن جیت جائے ۔ واضح ہو کہ حکومت کی ہر محاذ پر ناکامی کےسبب عوام میں مایوسی ہے۔
اس طرح کا بیان
فیڈریشن آف مہاراشٹرمسلمس کے جوائنٹ پریس ریلیز میں دیا گیا ہے پریس ریلیز دینے والوں میں
مولانا ڈاکٹر محمود احمد دریا آبادی جنرل سکریٹری علماء کونسل، ابو عاصم اعظمی ایم ایل اے و صدر سماج وادی پارٹی مہاراشٹر
مولانا حافظ سید اطہر
عالم دین اہل سنت والجماعت صدر علماء ایسوسی ایشن ممبئی ،مولانا حافظ الیاس خان فلاحی امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر ، مولانا حلیم اللہ قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیتہ علمائے ہند مہاراشٹر فرید شیخ صدر امن کمیٹی ممبئی ، عبدالحفیظ پترکار جالنہ، مولانا ظہیر عباس رضوی نائب صدر شیعہ پرسنل لاء بورڈ ، ڈاکٹر سعید احمد فیضی
ناظم عمومی جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر
مولانا انیس اشرفی صدر رضا فاؤنڈیشن ممبئی مولانا مفتی حذیفہ قاسمی ناظم تنظیم جمعیت علمائے ہند مہاراشٹر ، مولانا آغا روح ظفر
امام خوجہ جماعت ممبئی ، مولانا نظام الدین فخر الدین ، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ پونہ
عبدالحسیب بھاٹکر ناظم ممبئی جماعت اسلامی ہند ، شیخ عبدالمجیب کوآرڈینیٹر فیڈریشن آف مہاراشٹرمسلمس
شاکر شیخ ، کو کوآرڈینیٹر فیڈریشن آف مہاراشٹرمسلمس

پریس سیکرٹری
شاکر شیخ
فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے