شارٹ کٹ

کامیابی حاصل کرنے کا کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ہے۔ کامیابی کوئی اتفاق اور حادثہ نہیں۔ وہ مسلسل محنت، جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ خاص طور پر آج کل نوجوان نسل کامیابی کا شارٹ کٹ راستہ ڈھونڈتی ہے جو ممکن نہیں ہے۔ دولت، شہرت اور عزت کمانے کے لیے برسوں خون جلانے ہوتے ہیں تب کہیں جاکر نتیجہ سامنے آتا ہے۔تھوماس ایڈیسن کا مشہور قول ہے: ذہانت اور عبقریت ایک فیصد کام کرتی ہے اور کوشش نناوے فیصد۔
ایک کسان جنگل سے گزر رہا تھا، اسے چڑیا کے پنکھڑی کی ضرورت تھی۔ بھورے رنگ کی ایک گوریا ایک درخت پر بیٹھی تھی، اس نے کسان سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟ کسان بولا: میں پنکھڑی کی تلاش میں جارہا ہوں۔ گوریا نے دریافت کیا: جھولے میں کیا ہے؟ کسان نے کہا کہ کیڑے مکوڑے ہیں۔ گوریا نے سوچا کیوں نہ میں ایک پنکھ دے دوں اور کیڑے لے لوں، میرا پیٹ بھر جائے گا اور مجھے در بدر کیڑے ڈھونڈنے کے لیے بھٹکنا بھی نہیں پڑے گا۔ اس نے کسان سے کہا کہ میرا ایک پنکھ لے لو اور کیڑے دے دو۔ کسان نے کیڑے دے دیے اور ایک پنکھ لے لیا۔ چنانچہ یہ سلسلہ کچھ دنوں تک چلتا رہا، کسان کیڑے لے کر جاتا، گوریا کیڑے لے لیتی، اور اپنا ایک پنکھ دے دیتی۔ یہاں تک کہ اس کے سارے پنکھ ختم ہوگئے، اور وہ اڑنے کے قابل نہیں رہی اور آخر کار مرگئی۔
آپ نے اخبارات اور نیوز چینل میں بہت سے ایسے واقعات دیکھے اور سنے ہوں گے کہ کم عمر کے نوجوان اور بچے شارٹ کٹ دولت کمانے کے چکر میں جیل پہنچ جاتے ہیں۔ لہٰذا زندگی میں اگر کچھ حاصل کرنا ہے توہمیں انھیں طریقوں اور راستوں کو اختیار کرنا چاہیے جو گرچہ بہت ہی طویل، پرخار اور لمبے ہوں مگر کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے ضرور ضامن ہوں۔
فوج اور ملٹری کو سالوں سال ٹریننگ دی جاتی ہے، ان کے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، ورزش کرنے اور دیگر کاموں کی ٹریننگ کے بہت سے سخت رول اور ریگولیشن ہوتے ہیں، روزانہ ایک شیڈول ہوتا ہے، سخت ڈسپلن کی پابندی ہوتی ہے۔ پھر جاکر ایک فوجی بن پاتا ہے اور وہ میدانِ جنگ میں اپنی کارکردگی کا جلوہ دکھاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے کسی شعبہ کے کھلاڑی کو سالوں سال شب و روز اپنے شعبہ میں مہارت پیدا کرنے کے لیے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے تب جاکر وہ اولمپک یا کسی اور کھیل کے میدان میں اپنے ہنر کا مظاہرہ کرکے میڈل جیت پاتا ہے۔ آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی کھلاڑی نے شارٹ کٹ کے ذریعہ کوئی میڈل جیتا ہے؟
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے حضور اقدسﷺ کی زندگی کا ہر ہر ورق اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کسی مقصد کے حصول میں شارٹ کٹ کا راستہ موجود نہیں، اگر آنحضورؐ نے شارٹ کٹ راستہ اختیار کیا ہوتا تو نہ مکہ میں اذیتیں اور پریشانیاں اٹھانی پڑتیں، نہ طائف میں پتھر کھانے پڑتے اور نہ ہی اپنا گھر بار اور عزیز وطن چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنا پڑتی۔ نہ جنگیں ہوتیں اور نہ صلح حدیبیہ ہوتی۔ بلکہ حضور ﷺ چند ہی دنوں میں اسلام کو ہر طرف پھیلانے میں کامیاب ہوجاتے اور ہر طرف اسلام کا جھنڈا لہرا جاتا۔ مگر اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے دنیا کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ محنت کی۔ سب سے زیادہ پریشانیاں اٹھائیں اور سب سے زیادہ قربانیاں دیں، تب کہیں جاکر اسلام کا چراغ روشن ہوا۔
لہٰذا دنیا کا مقصد ہو یا دین کا، ذاتی مقصد ہو یا قوم و ملت کا، روحانی مقصد ہو یا جسمانی، تعلیمی ہو یا پیشہ وارانہ، مقاصد کے حصول کا کوئی راستہ شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔

تحریر: نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے