پیاری زبان اردو: تعارف و تبصرہ

ہمارے یہاں زمانہ قدیم سے یہ دستور رہا ہے کہ جب بچے پہلے پہل مکتب میں داخل ہوتے ہیں تو اسے اپنی مادری زبان اردو سکھانے کے لیے ”قاعدہ بغدادی“ اور پھر ”اردو کا قاعدہ “تھما دیا جاتا ہے، بلاشبہ یہ کتابیں بڑی مفید ثابت ہوئی ہیں، لیکن اس دور جدید میں جہاں بچے ایک ہی ساتھ اردو، ہندی، انگریزی اور دوسرے سبجکٹ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور ہندی و انگریزی میں جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مختلف رنگوں، شکلوں اور تصویروں سے مزین کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں تو بچوں کا میلان و رجحان ان کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں بچوں کے ہاتھ میں جب روایتی انداز کی اردو کی کتابیں پہنچتی ہیں تو ان کے دل و دماغ کو پوری طرح اپیل نہیں کر پاتی ہیں، اسی ضرورت کے پیش نظر بچوں کے رجحان و میلان اور جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کتابوں کی تالیف کا عمل شروع ہو چکا ہے۔زیر تبصرہ کتاب پیاری زبان اردو (تین جلدوں میں) اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
کتاب کے مصنف مولانا حامد حسین ندوی نے اپنے طویل تدریسی تجربات، علمی صلاحیت،ذاتی محنت اور انتہائی غور و فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے کتاب کی ترتیب میں ایسے دلچسپ طریقے اختیار کیے ہیں کہ پڑھنے اور سیکھنے کا ابتدائی عمل چھوٹے بچوں کے لیے نہایت ہی آسان ہو جاتا ہے اور بچوں کے دل کے سادہ تختی پر بے غبار حروف کی طرح اترتا چلا جاتا ہے۔
تدریس کا یہ جدید اصول بھی بہت کامیاب رہا ہے کہ تصویروں سے لفظ اور لفظ سے حروف کی پہچان کرائی جائے، موصوف نے اس طریقہ کو اختیار تو ضرور کیا ہے مگر اس میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، مثال کے طور پر حصہ اول میں تصاویر کے بجائے حروف کی شکلوں کو نمایاں اور جاذب نظر بنایا گیا ہے تاکہ بچوں کے ذہن پر چیزوں کی تصاویر کے بجائے حروف کی شکل منقش ہو، اسی طرح حروف کے تلفظ کی مناسبت سے تصاویر کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جیسے الف سے املی کے بجائے انار، ب(بے) سے بٹن کے بجائے بیلٹ اور ج (جیم) سے جہاز کے بجائے جیپ بلوانے کی مشق کرائی گئی ہے، ترتیب وار حروف تہجی بصورت نظم اور بے ترتیب حروف تہجی کی مشق کراتے ہوئے بغیر نقطے والے حروف، ایک نقطے والے حروف، دو نقطے والے حروف، تین نقطے والے حروف اور ”ط“ کی علامت والے حروف کی شناخت کرائی گئی ہے تاکہ نقطوں کے فرق سے بننے والے حروف کی شناخت واضح اور ذہن نشےں ہوجائے، پھرمرکب حروف کی مشق کرائی گئی ہے۔
دوسرے حصے میں حروف تہجی کو خاص درجہ بندی کے ساتھ سجایا گیا ہے، دو حرفی مشکل الفاظ اور حرکات والے حروف کو بغیر ہجے رواں پڑھانے کی مشق کرائی گئی ہے، پھر مد والے حروف کی شناخت کرائی گئی ہے، جیسے آم، آگ، بتدریج سہل سے مشکل کی طرف سبق کو لے جایا گیا ہے، تاکہ طلباءکو آسانی ہو۔ چھوٹے چھوٹے خوبصورت جملے بچوں کے ذوق اور پسند کے مطابق ہیں، ادب و تہذیب اور اخلاق و عادت پر اچھے اثرات ڈالتے ہیں۔بچوں کے ذوق اور دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لئے حروف کے اعتبار سے شعری پیرائے میں ایسے خوبصورت جملےدیئے گئے ہیں جوپڑھنے میں پُر لطف معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً: ۱ سے انڈا ، ب سے بیل — آؤ پڑھ کر کھیلیں کھیل
پ سے پیڑا ، ت سے تیل—جو نہیں پڑھتے ہوتے فیل
تیسرے حصے میں پیش،جزم، الٹا پیش،تشدید، نون غنہ والے الفاظ کی پہچان کرائی گئی ہے، پھر جملوں کو رواں پڑھانے کی مشق کرائی گئی ہے، اس حصے میں سہ حرفی، چہار حرفی الفاظ اورجملوں کو رواں پڑھانے کی مشق کرائی گئی ہے، جیسے اونٹ عرب کا جہاز ہے، آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے، یہ حصہ 46 صفحات پر مشتمل ہے، اس میں بچوں کے لیے حمد، نعت اور نظمیں ہیں، جو نہایت آسان اور سہل زبان میں ہے، بچوں کو یاد کرنا اوررٹنا آسان ہے،حمد ملاحظہ کیجئے:
کون ہے مالک کون ہے آقا
کون ہے حاکم کون ہے راجا
بولو بچو! اللہ اللہ
کس نے دیے ہیں اماں ابا
کس نے دیا ہے کھانا کپڑا
بولو بچو !اللہ اللہ
کس نے سورج چاند بنایا
کس نے زمین سے غلہ اگایا
بولو بچو !اللہ اللہ
کتاب بچوں کو ذہن میں رکھ کرمرتب کی گئی ہے، اور سکھانےکے لیے مختلف تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ تصاویر کی مدد سے حروف کی شناخت،حروف تہجی، نقطوں کی پہچان، مخلوط حروف،حروف کے جوڑ کی شکلیں، اعراب کے ساتھ استعمال ہونے والے حروف، الفاظ، جملے وغیرہ کی مشق کرائی گئی ہے، پہلے تمام حروف کی شناخت کرائی گئی ہے، دو حرفی، سہ حرفی اور چہارحرفی لفظ بتائے گئے ہیں، کوئی حرف شروع میں کیسے آتا ہے، درمیان میں اس کی شکل کیا ہوتی ہے اور آخر میں اس کی صورت و شناخت کیا ہوتی ہے، اس کو خوبصورتی کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ تینوں حصوں میں تکرار گرچہ بہت ہے لیکن اس کا ایک فائدہ بچوں کو یہ ہوگا کہ حروف کی شناخت آسانی سے ہو جائے گی۔
اساتذہ کے لیے اردو پڑھانے، حروف تہجی سکھانے اور مشق کرانے کے طریقوں سے متعلق ہدایات نہیں دیے گئے ہیں، جن سے طلبہ و اساتذہ کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ کتاب چھوٹے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے، لیکن کس عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے، اس کی وضاحت مصنف یا پبلشر کی جانب سے نہیں کی گئی ہے، اسی طرح سن اشاعت بھی درج نہیں ہے۔
مولانا حامد حسین ندوی ایک لانبے عرصے سے بچوں کی تربیت و تدریس کا مشکل کام انجام دے رہے ہیں، بچوں کی نفسیات میلانات، رجحانات اذواق اور مزاج سے خوب واقف ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ننھے منے بچوں کے لیے یہ ایسی کتابیں تالیف کرتے رہتے ہیں جو بچوں کے ذوق و شوق اور دلچسپی کے مطابق ہوں ساتھ ہی جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بھی۔ اس سے قبل ان کی دو کتابیں” نگار قلم“ اور ”نقوش قلم“ (تین جلدوں میں) شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں، یہ دو نوں کتابیں بہار کے کئی اسکولوں کے نصاب میں شامل ہو چکی ہیں۔ موصوف پٹنہ کے مشہور ”الحرا پبلک اسکول“ شریف کالونی، پٹنہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، عربی دینیات اور اردو تینوں سبجیکٹ آپ کے ذمہ ہیں۔ ان کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عربی، دینیات اور اردو کے نصاب اور سوالات کے پیٹرن کو دور جدید سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئے انداز میں تیار کیا ہے، صوبہ بہار کی سطح پر خواندگی مہم کے تحت ”آدری“ اور بہار ایجوکیشن پروجیکٹ کے ذریعے تیار کی جانے والی نصابی کتابوں کی ترتیب و پیشکش میں بھی آپ کا اہم رول رہا ہے۔ مختلف ٹیچرس ورکشاپ میں تدریس اور طریقے تدریس پر اظہار خیال کے لیے مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔ بہار اردو اکادمی کے زیر اہتمام اردو لرننگ کورس میں داخلہ لینے والے غیر اردوداں افراد کو 15 دنوں میں اردو زبان سکھانے کا کامیاب تجربہ بھی حاصل ہے۔ چنانچہ آپ کی اس خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بہار اردو اکادمی نے اعزاز و انعام سے سرفراز کیا ہے۔
مولانا حامد حسین ندوی کو اپنی مادری زبان اردو سے جذباتی لگاؤ اور دلچسپی ہے، اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بچوں کو اردو پڑھانے اور سکھانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب کہ اردو زبان سے لوگوں کی دلچسپی افسوسناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے، یہ نہایت جرات مندی اور نیک بختی کا کام ہے، اس کے لیے موصوف بلا شبہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
”پیاری زبان اردو“کاپہلا حصہ 30 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی قیمت 60 روپیہ ہے، دوسرا حصہ 38 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی قیمت 120 روپیہ ہے، اور تیسرا حصہ 48 صفحات پر مشتمل ہے اس کی قیمت 210 روپیہ ہے،ملٹی کلر میں کتاب کی طباعت اور پرنٹنگ نہایت معیاری، عمدہ اور خوبصورت ہے۔ کتاب کے ناشر ڈیفوڈل لیسنس پبلکیشنز، نئی دہلی ہیں، پٹنہ، لکھنو، ممبئی اور بنگلور سے کتاب حاصل کی جاسکتی ہے،یا مصنف کے موبائل نمبر 7870396757 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، امید ہے کہ بہار کے مکاتب و مدارس اور اسکول کے ذمہ داران اس کتاب کو کورس میں شامل کر کے مصنف کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

مبصر: ڈاکٹر نورالسلام ندوی

Dr Noorus Salam Nadvi
Vill+Post Jamalpur
Via Biraul, Dist Darbhanga
Bihar,Pin Code 847203
Mobile NO 9504275151

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے