مولانا سہیل احمد ندوی: "اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل”

جگر مرادآبادی کی صبح وشام گرچہ جام وصبو کے ساتھ ہوتی تھی ۔لیکن مرد قلندر کے کلام میں آج بھی دم ہے ،ان کے کلام کا رنگ و آہنگ نہ صرف متآثر کن ،بلکہ عجب درعجب !

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
(جگر مرادآبادی)

جگر کے اس زور آور شعر کے پس منظر میں مولانا سہیل احمد ندوی رحمہ اللہ کے پینتیس سالہ خدمات کے تنوع پر جب غور کرتے ہیں ،تو جگر کی بات پر سولہ آنہ یقین ہولیتا ہے کہ واقعی کچھ لوگ اپنی جہاں آپ پیدا کرتے ہیں وہ زمانے کے ناتواں کاندھوں کا سہارا لئے بغیر یقین کامل اورپیہم رواں رہ کرصرف منزل پالینے کی جستجو میں نہیں ہوتے ،بلکہ وہ اوروں کے لئے بھی میل کا پتھر ثابت ہوتے ہیں۔
دستور دنیا یہی ہے کہ دنیا کسی کی ہوئی ہے اور نہ ہوگی ،اس نے کیسے کیسوں کو زیر زمیں ہوتے دیکھا ہے ،جب کہ موت اپنی طے شدہ پالیسی کے خلاف ایک انچ بھی برگشتہ ہونا گوارہ نہیں کرتی :

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت
کلبہٴ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت
دشت و در میں گلشن میں ویرانے میں موت

مولانا سہیل احمد ندوی 1988ء میں ندوے سے فارغ ہوئے ،فراغت کے بعد وہ امارت شرعیہ آگئے اور یہیں کے ہوکر رہ بھی گئے ،خدمات وکردار اور ذمہ داریوں میں بھی وہ قابل قدر تھے اور” مسافران آخرت” کی جب باری آئی تو اس حوالے سے بھی وہ دنیا انسانیت کے لئے قابل رشک بن کر گئے۔مولانا سہیل احمد ندوی کی تربیت ایک مجاہد آزادی اور امارت شرعیہ کے خاکوں میں رنگ بھری کرنے والوں کے گھر ہوئی تھی ،بعد کے دنوں میں تعلیم و تربیت کی راہ سے ان کی دیکھ ریکھ وقت کے نباض کبار اساتذہ نے کیا تھا ،دنیاء اسلام کی عبقری شخصیت علامہ ابوالحسن علی میاں ندوی اور مولانا عبداللہ عباس ندوی جیسے جہاں دیدہ مصنف ، سو زوساز مندداعی اور حسن وسلیقہ کے پیکر انسانوں نے نہ صرف کتابوں کے اسباق پڑھائے تھے ،بلکہ کتاب زندگی کا باب در باب بھی سیکھایا تھا ،جس میں ،احساس ،کرب ،بے چینی ,خیر خواہی ,اقدار ،اعتبار ،اخلاق ،افکار،علم ،ہنر اوربامقصدزندگی جینے کی بہت سی ایسی سمتوں سے واقف کرایا گیا تھا ،جس کی قدم قدم پر ضرورت ہوسکتی ہے،بلا شبہ مولانا مرحوم نے اپنی ہنر مندی کا خوب استعمال کیا اور سلیقے سے کیا ،اکابرین امارت شرعیہ کے اعتبار ووقار کو خوب نبھایا اور دم آخر تک نبھایا ،ان کی زندگی آئنہ ہے ان رضاکاروں اور دین کے خدمت گزاروں کے لئے جو جذبہ خدمت اپنے اندر پاتے ہیں ۔

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

مولانا کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اتنی اہم ذمہ داریوں پہ ہونےکے باوجود سنجیدہ رہتے تھے ،اپنے سے وابستہ احباب کی خبر رکھتے تھے،اپنے سے جڑے لوگوں کی پیشانی پر ابھر نے والی سلوٹوں کو ان میں تاڑنے کی صلاحیت تھی،مشکل حالات میں بھی وہ راہ نکالنے اور ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ہر ذمہ داری کو احساس ذمہ داری سے زیادہ امارت کی ساکھ کا خیال رکھ کر امارت شرعیہ کے مزاج و پالیسی کے مطابق کاز کو انجام دینے والا دردمند دل رکھتے تھے۔ان پہ امارت شرعیہ کو غیر معمولی اعتبار تھا ،وہ تقریبا چودہ /پندرہ ادارے اورشعبوں کے باوقار صاحب منصب تھے ،ہر شعبہ اور ادارہ ماشاء للہ رو بہ ترقی ہے،ہر بڑی تنظیم کو ایسے افراد قسمت سے ملا کرتے ہیں ،حسن اتفاق کہہ لیجئے کہ مولانا سہیل ندوی رحمہ اللّٰہ گھر کے اعتبار سے بھی فار غ البال تھے ،وہ اپنی تنخواہ اور مدت ملازمت پر نظر رکھ کر امارت کی خدمت نہیں کرتے تھے ،بلکہ امارت شرعیہ کو دل وجان سے عزیز تر سمجھتے تھے ،اس کی محبت ،اکابرین کی خدمات سے سرشاراورامارت کی شکل میں ملت اسلامیہ کے سرمائے کے تحفظ کے جذبے سے خدمت کرتے تھے ،کسی بھی ادارے کو ایسے دوچند ہی افراد ملا کرتے ہیں ،جن کی شبانہ روز کی محنت وجانفشانی ،ادارے کو استحکام بخشنے میں معین ومددگارثابت ہوتی ہے۔

مت ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خا ک پرد ے سے انسان نکلتا ہے

ذاتی طور پر مجھے مولانا کو سمجھنے کا موقع اس وقت ملا تھا جب وہ 27/5/2009 کوامارت شرعیہ کی طرف سے ایک دورے میں مؤقر وفد کے ساتھ بیگوسرائے تشریف لائے تھے،جب انہیں معلوم ہوا اور ان کے سامنے ادارے میں حاضری کا تقاضہ رکھا گیا کہ یہاں بچیوں کی دینی و عصری تعلیم و تربیت کی غرض سے ایک ادارہ معہد عائشہ کے نام سے ضلع بھر میں پہلی مرتبہ قائم ہوا ہے اور وہاں سہ سالہ مومنہ کورس کرایا جاتا ہے تو مولانا بسہولت سے دستیاب ہوگئے اور معہد میں تشریف لائے ،اس وقت ادارہ اپنے قیام کے ابتدائی مرحلے میں تھا ،مولانا چوں کہ منجھے ہوئے تجربہ کار اور ایک بڑے ادارے کے ذمہ دار تھے ،اداروں کی مشکلات ، مرحلہ وار الجھاؤ اور مختلف طرح کی رکاوٹوں سے واقف تھے ،اس لئے معائنہ رجسٹر میں رسمی تحریر لکھنے کے بعد کئی اہم جہتوں کی طرف بھی انہوں نے اشاروں میں رہنمائی فرمائی تھی ،ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ
” کسی عمومی امر میں عجلت مت کیجئے گا ،بلکہ مسلسل عمل منزل تک پہنچاتا ہے ،تحمل وبرداشت سے کامیابی ملتی ہے ، حوصلہ رکاوٹوں کو دور کرتا ہے ، ابتدائی مرحلے میں خاص طور سے حسن اخلاق بہت بڑا سرمایہ ہوتا ہے ،مضبوط علم ومطالعہ سے دل جیتنے میں مدد ملتی ہے” ۔یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ "ادارے کے اندر بھی اور باہر بھی کسی بھی فرد سے الجھنا ،اداروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ،پختہ تعلیم و تربیت ،ادارے کی ترقی کے لئے بنیاد ہے ,مشکل اوقات کے علاؤہ بہتر حالات میں بھی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنا اداروں کے نظام کو مقبول بناتا ہے "

وہ تیرا رو بہ رو ہونا ، وہ ہم سے گفتگو کرنا
بہت پرکیف لمحے تھےجو پھر آتے تو اچھا تھا

انہوں نے معہد عائشہ کے معائنے نامے میں اپنے قکم سے جو تحریر لکھی تھی جس پر محترم مفتی سعید الرحمان قاسمی صاحب صاحب مفتی امارت شرعیہ پٹنہ ۔محترم مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ پٹنہ۔محترم مولانا رضوان احمدندوی صاحب نائب مدیر ہفت روزہ نقیب پٹنہ،رئیس المبلغین محترم مولانا قمر انیس صاحب امارت شرعیہ پٹنہ وغیرہ کے دستخط ثبت ہیں ،اس تآثراتی تحریرکا یہ حصہ بھی میرے لئے بہت دور رس ہے :آج مؤرخہ 27/ مئی 2009ء کو وفد امارت شرعیہ کے ساتھ معہد عائشہ الصدیقہ ضلع بیگوسرائے میں حاضر ہوا یہ ادارہ دوسال قبل بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے قائم کیا گیا اور اس کا تین سالہ نصاب مرتب کیا گیا ،معہد کی چند بچیوں سے قرآن اور تقریر ودعا سنا ،بحمداللہ اچھا پایا ،ضلع بیگوسرائے میں اس طرح کے ادارے کی بچیوں کی تعلیم وترتیب کے لئے اشد ضرورت تھی ،یہ ادارہ اس ضرورت کو حسن وخوبی کے ساتھ پورا کررہا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کو ترقی دے کر لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کا عظیم مرکز بنائے ۔وماذالک علی اللہ بعزیز۔سہیل احمد ندوی

بہر حال !
مولانا سہیل احمد ندوی رحمہ اللّٰہ اب ہمارے درمیان نہیں ،ان کےجنازے میں شرکت نہیں ہوسکی،مگر اگلے دن یہ عاجز سمیت بیگوسرائے سے ایک چھ رکنی وفد نے امارت شرعیہ میں محترم مولانا شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ،مولانا قمر انیس صاحب،مولانا محفوظ اختر نعمانی صاحب اور مولانا عبد الباسط ندوی صاحب وغیرہ سے مل کر اظہار تعزیت کیا ۔امارت شرعیہ کے لئے مولاناکا روشن کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،امارت کے پلیٹ فارم سےملت اسلامیہ کے مسائل ومشکلات کو حل کرنے جیسی جد وجہد کو بھلا یا نہیں جاسکتا ،اللہ پاک سے دعا ہے کہ مولانا کے وارثین کو صبر وسکون دے اور امارت شرعیہ کو مولانا کا نعم البدل عطا فرمائے ۔

تیرے اعمال ابد تک نہ مریں گے سہیل
ر ہنما ہے ، نقش کف پا تیر ے بعد

ازقلم: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ بیگوسرائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے