قلندر ہر چہ گوید؛ دیدہ گوید!

آج سے ایک سو سال پہلے دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے رسالہ "القاسم” کے محرم الحرام 1345 ھ کے شمارہ میں کابل سے تعلق رکھنے والے مولانا منصور نامی عالم کا ایک مکتوب شائع ہوا۔ جس میں انھوں نے ہندوستان کے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے سد باب کے لیے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی بیش قیمت تدابیر پیش کی تھیں … انگریزی عہد کے اخیر میں اور آزادی کے بعد جو جان گسل حالات پیش آئے ؛ فراست مومن پر مشتمل اس شاہکار تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بزرگ کی بابصیرت نگاہوں نے ایک صدی بعد کے حالات کو بہتر انداز میں تاڑ لیا تھا؟ یہ تحریر ہمیں شوشل میڈیا سے اسکرین شاٹ کی شکل میں موصول ہوئی،ہم نے اسے یونیکوڈ میں منتقل کیا. صاحب تحریر سے تعارف نہیں ہے. اسی طرح پس منظر کا بھی علم نہیں ہے، البتہ باتیں دمدار ہیں… پیش خدمت ہے یہ بابصیرت تحریر… بندہ خالد نیموی قاسمی


"سردیوں میں گذرکرنا، پیاده سفر؛ بوجھ اٹھانے ، زمین پر سونے؛ آفتاب میں چلنے پھرنے اور کام کرنے ، دوڑنے، تیر نے، اور اس قسم کی چیزوں کی پوری مشق کی مسلمان بچوں کو از حد ضرورت ہے ۔ جوتے پہن کرسفرکرنا بھی کوئی محمود بات نہیں؛ ننگے پیر چل سکنے والوں کی پیروی مشکل کشا ہوسکتی ہے.
مسلمانان ہند ایک ایسی قوم کے وطندار ہیں جن کا قدیم ملی فلسفہ اچھوت (امی اجنبی) ہے ، اور اب ان میں بعض جرار، فعال اور بااثر قابل ہستیاں ایسی پیدا ہوچکی ہیں جو ہندوستان کو بھی” اسپین ثانی” بنانے کے جہاد کوخیرا الاعمال قرار دے چکی ہیں ، شیر پنجاب (لاجپت رائے)) ان کی ساتھ عملاً عہد وفا باندھ چکاہے اورکل کی خبر نہیں. آج گاندھی جی بھی ان ہستیوں کی توہین کرنے ، ان کے خلاف میدان میں کھڑے ہونے کے لئے تیار معلوم نہیں ہوتے، کون پیشینگوئی کرسکتا ہے کہ یہ تحریک کامیاب نہ ہو گی۔ لفظ ہندوستان اس کا مؤید و مبلغ ابدی ، ہندو مت کا قدیم عملی فلسفہ ( چھوت) اس کا داعی دائمی ، ملت ہنود کے علمی رجحانات اور موجودہ رائج تواریخ مصالحہ اس کا حامی اصلی..
اور دوسری طرف مسلمانان ہند کی علمی فنی، مالی، روحی حالت اوران کی داخلی و خاجی ابتری اور پھپھسی تنظیم اس پر مائل کرنے والی؛ تو کیسے کوئی عقل باور کرسکتی ہے کہ استقبال قریب میں ہندو مت اپنے نعرہ کو کہ: ہندوستان خالص ہندوؤں کے لئے ہے، عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر بخوشی یا بزور جمع نہ ہوجائیں گے۔
ایک کامل الہمت سمجھ اس پر تکیہ کرسکتی تھی کہ برطانیہ کا سایہ ہندوستان پراس خطرہ کا مدافع اور اس زہر کا تریاق ہے؛ لیکن اول برطانیہ کے قبضہ کی ابدیت ہندوستان پر بالکل موہوم!
کون نہیں جانتا کہ یورپ ایک دوسرے مہیب باہمی تصادم کے قریب نہایت تیزی کے ساتھ آیا ہے ، اس آویزش میں برطانیہ کا شریک اول ہونا محقق معلوم ہوتا ہے، اسوقت برطانیہ کو کیا پیش آئے گا ؟ اس کی نو آبادیات کی کیا حالت ہوگی ؟ ہندوستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ یہ ایسے سوالات میں جن کو خود برطانیہ کے مبصرین اور مدبرین بھی سالوں مشورے کرنے کے بعد طے نہیں کر سکتے ۔
دوسرے یہ کہ ایک کارواں کو اس خطرہ سے ایک لمحے کے لئے بھی (اگر وہ ناتجربہ کارانہ آرزوؤں "دلائل” کا شکار نہ ہوگیا ہو) غافل نہ ہونا چاہئے کہ اسوقت ہندوؤں کے پاس جاپان جیسی نو خیز متمول ، مالک فن و مشین بانی جدید کافی ہستی موجود ہے۔ ہندوؤں کے بعض سر گرم ، قابل اور باتجربه ہستیاں جن کا ہندوستان کے ہنود پر اثر بھی کافی ہے؛ وہاں عرصہ سے سرگرم عمل بھی ہیں اور جاپان بلکہ چین میں بھی ان کو بعض جماعتیں ہم فکر مل گئی ہیں اور بعض مقتدر ذوات بھی اُن کی فرمایشات پر کان دھرتے ہیں؛ تو سوچا جائے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟
علی الخصوص اُس وقت کہ برطانیہ کسی طویل اور مہیب جنگ میں گرفتار ہو؛ یعنی مسلمان دست تہی اور ہندو مسلح… پھر غور کرو! اس کے انجام پر.. آیا ہندوستان اسپین ثانی نہیں بن سکتا ؟
یہ وجوہ ہیں؛ جن کی بناپر میں آئندہ حالات کو ہنود کے موافق دیکھتا ہوں (و الغیب عنداللہ،) اور ضروری جانتاہوں کہ موجودہ مسلمانان ہند کے بچے کہ جنکے بڑے ہونے سے پہلے اس کیفیت اور کوہ فرسا مصائب کے وقوع کا قوی احتمال ہے؛ صبرو توکل اور قرون مشہود لھا بالخیر کی سادگی کی پوری پوری مشق کریں.
تا کہ اس فتنہ کا کسی درجہ میں مقابلہ کرنے کے قابل تو ہوجائیں. اگر ہندوستان میں رہ نہ سکیں تو بے دست پائی کے سبب شدھ ہونے پر توراضی نہ ہوجائیں.
کم ازکم جان نکال لیجانے کے قابل تو ہوں ۔ میرے خیال میں مسلمانان ہند جو اخباری اطلاع کی شراب پی کر یا ممالک مختلفہ کی روشن و مصفی سیر گاہوں کی ہوا کھا کر مست ہیں؛ میرے دلائل سے بہت سی ذوات انتہائی مخالفت کرسکتے ہیں؛ لیکن عجوبہ روزگار "سنگٹھن” اور ناقابل توقع ” شدھی” کی عملی اور شاندار اجرا کے بعد میری اصل تجویز کی حماقت کوئی بھی نہیں کر سکتا، اس لیے میری آرزو ہے کہ جہاں تم ابتدائی مدارس اور اسکولوں میں اس ضرورت پر توجہ نہ دیکھو؛ یا اس کی کمی محسوس کرو. وہاں اس کی تبلیغ کرو اور ہوسکے تو اس کے اجراء کے عملی وسائل کی طرف قدم اٹھاؤ!
اللہ تعالے تمھارا مدگار ہو. آمین !


یہ حضرت قاری طیب صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے داماد حضرت مولانا حامد الانصاری غازی صاحب کے والد علامہ محمد میاں منصور انصاری غازی ہیں.
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللّٰہ علیہ نے تحریک ریشمی رومال کے سلسلے میں ان کو افغانستان بھیجا تھا.
انگریزوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے علامہ منصور رحمۃ اللہ کے خلاف Death Warrant جاری کردیا. علامہ پھر افغانستان ہی میں مقیم ہوگئے اور وہیں دوسری شادی بھی کی۔ اس شادی سے جو اولاد ہوئی وہ آج افغانستان اور جرمنی میں مقیم ہے.
بہ شکریہ علم وکتاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے