جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتے ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ“. (الطلاق: ۳)
ترجمہ: ”جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرتے جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جاتا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح کو (اپنے گھونسلوں سے) بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں“۔ (ترمذی: ۲۳۴۴)
معلوم ہوا کہ پرندہ صبح کو جب اپنے گھونسلہ سے نکلتا ہے تو اسے اپنے رب پر یقین کامل ہوتا ہے کہ میری کوششوں کے بعد اللہ عزوجل جو سب کا رازق ہے مجھے ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ اسی لیے تو اللہ نے فرمایا: ”ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ“.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بے حساب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے اوصاف میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پر ”توکل“ کرنے والے ہوں گے“۔ (مظہری)
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ لوگوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے“۔ (درمنثور مترجم/ الطلاق: ۳)
امام احمدؒ نے ”الزہد“ میں وہبؓ سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: ”جب میرا بندہ میرے اوپر توکل کرے گا، اگر آسمان اور زمین بھی اس پر گر پڑیں تو میں اس کے لیے ان کے درمیان نکلنے کا راستہ بنادوں گا“۔ (حوالہ سابق)
اب چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
*(۱)* مسند الرزاق میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ: کسی جہاد میں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ایک منزل پر قیام پذیر ہوئے، صحابہ کرامؓ مختلف حصوں میں اپنے اپنے ٹھکانوں پر آرام کرنے لگے۔ رسول کریم ﷺ تن تنہا ایک درخت کے نیچے ٹھہر گئے اور اپنے ہتھیار ایک درخت پر لٹکا دیئے۔ دشمنوں میں سے ایک گاؤں والا موقع غنیمت جان کر جھپٹا اور آتے ہی رسول کریم ﷺ کی تلوار پر قبضہ کر لیا۔ اور آپؐ پر وہ تلوار کھینچ کر بولا: بتلائیے کہ آپ کو میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے بے دھڑک فرمایا کہ: ”اللہ عزوجل“۔ گاؤں والے نے پھر وہی کلمہ دہرایا، آپ ﷺ نے پھر اسی بے فکری کے ساتھ فرمایا: ”اللہ عزوجل“۔ دو تین مرتبہ اسی طرح کی گفتگو ہوتی رہی، یہاں تک کہ غیبی قدرت کے رعب نے اس کو مجبور کیا کہ تلوار کو میان میں داخل کرکے رکھ دیا۔ اس وقت رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو بلایا اور یہ واقعہ سنایا۔ یہ گاؤں والا ابھی تک آپؐ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اس کو کچھ نہیں کہا۔(ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: ”ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ“ یعنی جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔
*(۲)* اسی طرح بعض صحابہ کرامؓ سے منقول ہے کہ کعب بن اشرف یہودی نے ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کو اپنے گھر میں بلا کر قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع کر دی اور ان کی ساری سازش خاک میں مل گئی۔ (ابن کثیر)

”ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ“ یعنی جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔
(۳) حضرت مجاہد، عکرمہ وغیرہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ دیوار کے نیچے بٹھا کر باتوں میں مشغول کیا اور دوسری طرف عمر و بن جحش کو اس کام پر مقرر کردیا کہ دیوار کے پیچھے سے اوپر چڑھ کر پتھر کی ایک چٹان آپ ﷺ کے اوپر ڈال دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو ان کے ارادہ پر مطلع فرمایا اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر)
”ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ“ یعنی جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتے ہیں۔
یہ انعام خداوندی صرف رسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس نصرت و امداد اور غیبی حفاظت کا اصلی سبب ”تقویٰ“ اور ”توکل“ ہے۔ جو قوم یا فرد جس زمانہ اور جس مکان میں ان دو وصفوں کو اختیار کرے گا؛ اس کو بھی ایسی ہی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت و حمایت ہوگی۔ کسی نے خوب کہا ہے:
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
(معارف القرآن/ المائدۃ: ۱۱)
(۴) قرآن نے منافقین مدینہ اور مشرکین مکہ کی طرف سے ایک مشترک مقولہ نقل کیا ہے جو گویا ان پر ترس کھا کر کہا گیا ہے کہ: ”غَرَّ ھٰٓؤ ُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ“ یعنی میدان بدر میں یہ مٹھی بھر مسلمان اتنے بھاری اور قوی لشکر سے ٹکرانے آگئے، ان بےچاروں کو ان کے دین نے فریب میں ڈال کر موت کے منہ میں دے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا: ”وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ“ یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کرلیتا ہے تو یاد رکھو کہ وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، اس کی حکمت کے سامنے سب کی عقل و دانش رکھی رہ جاتی ہے۔(معارف القرآن/ الانفال:۴۹)
جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، اور ان کے پاس ستر اونٹ دو گھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔ (آسان ترجمہ قرآن/ آل عمران: ۱۲۳)
پھر تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ اتنی چھوٹی تعداد نے اس بے سر و سامانی کے باوجود دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیئے اور شکست سے دو چار کر دیا۔
پرور دگار نے سچ کہا ہے کہ: جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
(۵) جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تھے تو دنیا کے سارے سہارے ٹوٹ گئے تھے، تو اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ پر ”توکل“ کرتے ہوئے، اُس تاریکی میں اللہ کو پکارا، اور ”لا إله إلا أنت سُبحانك اِنی کنت من الظالمین“ کی صدا لگائی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مصیبت سے نجات عطا فرمائی۔ سچ ہے: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
(۶) اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، آپؑ نے اللہ رب العزت پر اعتماد کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس خطرناک آگ سے آپ کو نجات نصیب فرمائی۔ سچ ہے: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
(۷) اسی جب حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہجرت کے موقع پر غار ثور میں روپوش تھے، اور دشمن ڈھونڈتے ہوئے آپ کے بالکل قریب تھے، صدیق اکبرؓ کی گھبراہٹ پر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: ”لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا“ یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے“۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دشمنوں سے حفاظت فرمائی۔ سچ ہے کہ: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
(۸) اسی طرح جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مظالم سے تنگ آکر اللہ کے حکم سے اپنی قوم کو لے کر ہجرت فرمائی، تو راستہ میں بحرقلزم کے کنارہ پہنچ کر بنی اسرائیل پار ہونے کی فکر کر رہے تھے، کہ پیچھے سے فرعونی لشکر نظر آیا، گھبرا کر موسیٰ سے کہنے لگے کہ: اب ہم ان کے ہاتھ سے کیسے بچیں گے؟ آگے سمندر حائل ہے، اور پیچھے سے دشمن چلا آرہا ہے۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا: ”قَالَ کَلَّا ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ“ یعنی گھبراؤ نہیں، میرے ساتھ میرا پروردگار ہے، وہ مجھے راستہ بتائے گا“۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دریا میں راستے بنا کر آپ اور آپ کی قوم کو بچایا۔ سچ ہے کہ: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔
(۹) مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو شخص فیصلے کے لئے آئے، آپ ایک دیوار کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے، کسی شخص نے عرض کیا کہ حضرت! یہ دیوار گرنے والی ہے، آپؓ نے فرمایا کہ: تو جا، اللہ حفاظت کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد آپ نے ان دونوں شخصوں کا مقدمہ طے کیا اور کھڑے ہوئے، اس کے بعد وہ دیوار گرگئی“۔ سچ ہے کہ: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔ (واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے/ص:۳۱)
(۱۰) ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کی بھیڑ لگی ہے، آپؓ نے پو چھا کہ کیا معاملہ ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک شیر ہے جو لوگوں کا راستہ روکے ہوئے ہے اور لوگ اس سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے اترے اور شیر کے پاس گئے، اور اس کا کان پکڑ کر موڑا اور اس کی گدی پر مارا اور اس کو راستہ سے ہٹا دیا۔
پھر فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے تیرے بارے میں سچ فرمایا تھا که ابن آدم پر یہ جب ہی مسلط کیا جاتا ہے جب ابن آدم اس سے ڈرتا ہے، اور جب ابن آدم صرف اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس پر مسلط نہیں کرتا۔ ابن آدم کو اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے جس سے وہ امید باندھتا ہے، اور اگر و ہ سوائے اللہ کے کسی سے امید نہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی اور کے حوالے نہیں کرتا۔ سچ ہے کہ: ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں“۔ (حیاۃ الصحابہ/ بحوالہ واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے/ ص:۳۴)
تلک عشرۃ کاملۃ
ہمیں ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے؛ کیوں کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ توکل کی حقیقت نصیب فرمائیں۔ آمین۔

تحریر: عبدالاحد بستوی
امام و خطیب مسجد عمر بن خطاب ڈون، ضلع نندیال، آندھرا پردیش

One thought on “جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے