مومن ایک بل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا

گیان واپی مسجد سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے ،مسلم فریق کی عرضی کو خارج کردیا گیا،جس میں اے ایس آئی کے سروے کو روکنے کے کے لیے درخواست کی گئی تھی۔اے ایس آئی نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے دوران مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ سروے کے دوران ہی نقصان پہنچے گا جس طرح اس سے پہلے وضو خانے کے پھوارے کو شو لنگ کہا گیا اسے سیل کیا گیا،اسی طرح پھر کچھ نہ کچھ نکل آئے گا۔ میڈیا یہ کہ رہا ہے کہ ہندوؤں کے تین ہی تو پوجا کہ مقام ہیں۔بابری مسجد ،گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد ،ہوگی ادتیہ ناتھ نے کہا کہ گیان واپی کو مسجد کہو گے تو مسئلہ ہوگا۔کل سریش چوہانکے نے اپنے بیان میں کہا کہ ساڑھے چار لاکھ مساجد پر مندر بنائے گئے ہیں، کسی کی نظر میں سریش چوہانکے بڑا آدمی نہیں ہوگا لیکن میری نظر میں بہت بڑا ہے،دھرم سنسد سے لیکر مختلف مقامات پر جلسہ عام میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والا جس پر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ،وہ تو فسطائی طاقتوں کے لیے پوسٹر بوائے بن چکا ہے۔ وہ کم از کم مسلم نام نہاد لیڈر شپ سے بڑا آدمی ہے۔جس کہ ایک اشارے پر لاکھوں لوگ جمع ہو سکتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ کار سیوا پھر کرائی جائے گی ،اور اگر حکومت وقت چاہے تو وہ یقیناً کرا سکتا ہے۔گیان واپی مسجد کو لیکر ہندوؤں کی طرف سے پورے احاطہ میں غیر مسلمین کے داخلے کو ممنوع قرار دینے کی پی آئی ایل داخل ہوچکی ہے۔زیادہ دور نہیں جائیں ماضی قریب میں بابری مسجد کو لیکر یہی کچھ تو ہوا ہے۔کیا پھر ہم اسی بل سے دوسری مرتبہ ڈسے جائیں گے،کیا پھر اللہ کے گھر کا سودہ رواداری اور عدلیہ پر اعتماد کے نام پر کیا جائے گا۔
گیان واپی مسجد کو میلی نظر سے ہندوستان کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی ۔مسجد کو بچا سکتی ہے تو وہ ہے ہمارا ایمان ،ہمارے سجدے، ہمارا پہرہ،یاد رکھیے آج مسجد کھلی ہے تو ہم اس میں داخل ہوکر اس کے تحفظ کا انتظام کریں، کسی عدالت کا حکم قانوناً مجاز نہیں ہو سکتا کہ مسجد میں رہنے سے ہمیں روکا جائے۔مسجد انتظامیہ ہوش کے ناخن لے،مسلم لیڈر شپ اپنے اندر براہ راست حکومت وقت اور عدلیہ کے غلط فیصلوں کے سامنے ڈٹ نہیں سکتی تو کوئی تدبیر کرے۔جو مسلمان سوچنے سمجھنے والے ہیں وہ اس کا نوٹس لے۔ورنہ حالات سے بے خبر شتر مرغ کو ریت میں گردن گھساکر طوفان سے بچنے کی کوشش کوئی فائدہ نہیں دے گی۔

ازقلم: پرویز نادر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے