بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ! مگر کیسے؟

آج کل سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ پہ یہ افسوسناک خبر کثرت سے آرہی ہے کہ مسلم لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ رہی ہے.
کچھ ایسی بھی خبریں ہیں کہ بعض غیر مسلم تنظیمیں اپنے کارکنان کو باقاعدہ مسلم لڑکیوں کو بہکانے اور پھانسنے کے لیے ترغیبات دے رہی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں.ان کاموں کے لیے باقاعدہ فنڈ اور انعامات مختص کیے جارہے ہیں.
ہندوستان میں مسلمانوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، ان کی جان و مال، تشخص، شناخت، معیشت، سیاست ہر چیز نشانے پہ ہے مگر قوم کی بیٹیوں کے تعلق سے اس طرح کی خبریں ایک سنگین صورتحال کا پتہ دے رہی ہیں.

یہ ارتداد اور دھرم پریورتن کی ایک زیادہ خوفناک شکل ہے، اگر اس پر لگام کسنے کی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے.
مسلم لڑکیوں کے ارتداد یا غیر مسلم نوجوانوں سے آشنائی اور رشتہ ازدواج میں مبتلا ہونے کی متعدد وجوہات ہیں. اگر ان وجوہات کو دور کرنے کی کوششیں نہ کی گئیں تو مزید ذلت اور شرمندگی ہماری منتظر ہے.آئیے ان پر اختصار سے روشنی ڈالتے ہیں

1.دین بیزاری:

والدین بچیوں کو اعلی تعلیم دلانے کے لیے تو فکر مند ہیں مگر دینی تعلیم اور تربیت کے لیے بالکل سنجیدہ نہیں ہیں. کچھ سال پہلے تک تو ناظرہ قرآن اور دعا درود ہی حد تک کسی عالم صاحب کی خدمت لی جاتی تھی اب یہ تکلف بھی ختم ہو چکا ہے، کانونٹ یا دوسرے غیر مسلم اسکولوں کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہو گا کہ ایک بڑی تعداد نے تو قرآن کھولا ہی نہیں ہے. پہلے والدین اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ دینی تعلیم بھی دلا لیتے تھے(حالانکہ اس کے فوائد بھی معمولی تھے) مگر اب عصری تعلیم اور دوسری سرگرمیوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ بچوں کے لیے دینی تعلیم کے لیے تھوڑا سا وقت نکالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے.
اس کا سب سے بہترین حل تو یہی ہے کہ مسلمان اپنی بچیوں کو اپنے کالجوں میں پڑھانے کی کوشش کریں اور اپنے کالجوں میں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی بہترین انتظام کریں.
مسلمانوں میں سنجیدہ منصوبہ بندی کی کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت دور دور تک یہاں تک کی مسلم علاقوں میں بھی مسلمانوں کے اعلی تعلیمی ادارے نہیں ہے.
راقم خود کوکن میں مقیم ہے، سندھو درگ، رتنا گیری اور راے گڑھ میں مسلمانوں کی اعلی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں ہے
انتظامیہ کی بھاگ دوڑ ہائی اسکول یا جونیر کالج تک دم توڑ دیتی ہے.
شہر، گاوں یا محلہ کی سطح پر بچیوں کی تعلیم کا معقول انتظام کرنا ضروری ہے اس کے لیے کچھ کورسز بناے جائیں اور اچھے علماء کی خدمات حاصل کی جائیں.افسوس کہ اب دین پڑھانے کی ذمہ داری بھی ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جو خود ہی دینی تعلیم سے محروم ہوتے ہیں یا معمولی شد بد رکھتے ہیں.
گھروں میں جدید اسلامی لٹریچر ضرور رکھا جاے اور باقاعدہ اپنی نگرانی میں بچیوں سے ان کا مطالعہ کروایا جاے. جدید ذہنوں کے لیے سید مودودی اور سید قطب،علی میاں اور تقی الدین عثمانی صاحبان کی کتابیں بہت کام کی ہیں.

2.مخلوط تعلیمی ماحول:

مخلوط نظام تعلیم شرم وحیا اور عزت و عصمت کے تصور کے لیے زہر ہلاہل ہے. افسوس کہ مسلمانوں نے خود اپنے تعلیمی اداروں میں بھی اس کا کم ہی اہتمام کیا ہے. غیر مسلم ادارے جن میں ہماری بچیاں بڑی تعداد میں جاتی ہیں ان کے ماحول کے بارے میں تو کچھ کہنا ہی بے کار ہے، وہاں تو عموما بولڈنس ، ماڈرن ازم کے بہانے بے حیائی اور اختلاط کی ترغیب ہوتی ہے.
مسلم لڑکیاں اپنے غیر مسلم کلاس فیلوز لڑکوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم سہیلیوں کے کے بھائیوں اور دوسرے مرد رشتے داروں کو بھی دوست بنا لیتی ہیں. میں ایسے کئی کیسیز سے واقف ہوں کہ غیر مسلم سہیلی کے یہاں آنے جانے اور وقت گزارنے کے نتیجے میں مسلم لڑکی اور غیر مسلم لڑکے کے درمیان معاشقے پروان چڑھے، لڑکیاں فرار ہوئیں یا بعد میں ان کے درمیان شادیاں ہوئیں.
والدین خاص طور سے مائیں اگر تھوڑا سا بیداری کا ثبوت دیں تو معاملہ اتنا بگڑنے نہ پاے، بچیوں کی اسکول، کالج آمدورفت پر نگاہ رکھی جاے، ان کو مناسب ہدایات دی جاتی رہیں، باہر کم سے کم رہنے دیا جاے، ان کی سہیلیوں اور دوستوں پر نگاہ رکھی جاے تو ان شاء اللہ معاملات قابو میں رہیں گے.اگر ممکن ہوتو طالبات کو دینی جماعتوں اور تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی جاے. اگر ہمارے شہر میں اس طرح کی تنظیموں کا وجود نہ ہوتو ان کی یونٹیں قائم کرنے کی کوشش کی جاے.

3.بے مہار آزادی:

والدین بھی اب روشن خیال اور ماڈرن کہلانے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں. انھیں اپنی بچی پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ کہیں بھی آے جاے، کسی کے یہاں بھی وقت گزارے ان کی پیشانی پہ شکن نہیں پڑتی، اگر آپ والدین تک بچی کے سلسلے میں کوئی شکایت لے کر جائیں تو وہ آپ کی بات پر کان دھرنے کے بجاے اپنی بچی کے دفاع میں مشغول ہو جائیں گے اور آپ سے جھگڑ پڑیں گے.
گھروں میں دیکھے جانے والے ٹی وی سیریل اور فلمیں بھی اس ماحول کو بڑھاوا دے رہی ہیں. بے حیائی اور اختلاط کے مناظر اس قدر عام ہر تے ہیں کہ دیکھنے والے رفتہ رفتہ شرو حیا کے تصور سے محروم ہوجاتے ہیں.
موبائل اور سوشل میڈیا نے بھی قہر ڈھایا ہے، ہر بچی کے ہاتھ میں لمبا چوڑا، اینڈرائڈ موبائل ہے جسے وہ بڑے فخر سے ہاتھ پر نچاتے ہوے چلتی ہے، بچی گھنٹوں موبائل پر کیا کر رہی ہے، کس سے بات ہورہی ہے، کہاں چیٹ چل رہی ہے، روشن خیال والدین کو اس کی کچھ نہیں پڑی ہے.
والدین کی لاعلمی اور جھالت کا بھی بچیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں. والدین کو بچیوں کے موبائل کی نگرانی اور ان کی کال ڈیٹیل کی معلومات بھی ہونی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو موبائل وغیرہ کا استعمال کم سے کم کرنے کی اجازت دینی چاہیے.

غیر مسلم نوجوانوں کی پر کشش شخصیت:

ایک زمانہ ایسا بھی تھا غیر مسلم لڑکیاں مسلم نوجوانوں کی مشتاق ہوتی تھیں، اس بات کا بھی تصور محال تھا کہ کوئی مسلم لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے سے دوستی اور آشنائی پیدا کرے گی مگر صورتحال میں کچھ حیرت انگیز تبدیلیاں آ چکی ہیں.
دین اور تہذیب سے یکسر نا آشنا مسلم لڑکی جب اپنے غیر مسلم دوست کو دیکھتی ہے کہ وہ اس کے ہم قوم نوجوانوں کے مقابلے میں علم، دولت وشہرت ، صلاحیت،احساس ذمہ داری، اخلاق، سنجیدگی، مردانہ وجاہت، قوت و طاقت میں بہتر ہے تو وہ اس کی طرف فورا ملتفت ہوجاتی ہے. اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کے لیے ان کے معیار کے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کا ملنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے.
پھر یہ ہمارے بے فیض نوجوان جب شادی کا ارادہ کرتے ہیں تو انھیں دلہن یکے آفتاب و ماہتاب سے کم پسند ہی نہیں آتی، پھر جہیز، بارات اور جوڑے جامے کے نام پہ جو لڑکی کے گھر والوں پہ بوجھ پڑتا ہے وہ الگ.
اب ایک شریعت سے ناواقف لڑکی ان سب مسائل کو دیکھتے ہوے دھیرے سے ایک غیر مسلم کا ہاتھ تھام لیتی ہے.
تعلیمی تحریکوں کے نتیجوں میں مسلم بچیاں تو اعلی تعلیم سے آراستہ ہونے لگیں مگر لڑکے بچھڑ گئے. اب ایک مسلم لڑکی یا اس کے والدین جب اس کی برابری کے لڑکے کی تلاش میں نکلتے ہیں تو مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے. لڑکے اور لڑکیوں کے تعلیمی معیار میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے مزید تحریکوں کی ضرورت ہے.

احساس کمتری:

آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان جن مسائل کے شکار ہیں اس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد خاص طور سے غیرمسلموں کے درمیان رہنے والے مسلمان احساس کمتری میں مبتلا ہو گئے ہیں، ہر کمتر قوم اپنے سے برتر قوم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس کی ہر چیز اختیار کرتی ہے. زندگی کے ہر میدان میں مسلمان جس شکست و ریخت سے دوچار ہیں اس کا نفسیاتی اثر مسلم بچیوں پر بھی پڑا ہے. وہ غیر مسلم نوجوانوں کو مختلف حیثیتوں سے اپنے ہم قوم نوجوانوں پر ترجیح دینے لگتی ہیں.
مسلمانوں کی بے وزنی، کمزوری اور پس ماندگی کو کیسے دور کیا جاے یہ ایک الگ مسئلہ ہے. مختلف شعبہ ہاے حیات میں کیسے ان کو باوقار مقام دلایا جاے اس پر بہت سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے.
اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکے بس ہلکی پھلکی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہے.
ہر مسلم ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچیوں کے تعلق سے اس خطرے کا ادراک کرے اور اپنے گھر کو اس سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے.ہماری تھوڑی سے بے توجہی اور سستی ہماری بچیوں کی دنیا اور آخرت دونوں کو جہنم بنا دے گی.

تحریر: اختر سلطان اصلاحی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے