میں شہید حافظ سعد بول رہا ہوں

میری شہادت کی رات میرے لئے کسی خوفناک قیامت سے کم نہ تھی،ظالموں کا مجھ پر اکھٹا ٹوٹ پڑنا انتہائی کربناک لمحہ تھا،غنڈوں نے مجھے بہت مارا،میرے جسم پر شدید قسم کی ضربیں لگائی گئیں،مختلف اسلحوں سے میرے جسم کو چھلنی کیا گیا،بالآخر میں ،ان کے ظلم و بربریت کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوکر خدا کے دربار میں پہونچ چکا ہوں۔میرے خیال میں یہ دنیا عجیب جگہ ہے،یہاں انسانیت مر چکی ہے،یہ دنیا ظلم و سفاکیت کا گہوارہ بن چکی ہے،بے گناہوں کے خون سے پوری زمین رنگین ہے،شیطنت کا بول بالا ہے،طاغوت کا راج ہے،انسانیت کا پورا مجسمہ ریزہ ریزہ ہوچکا ہے،مظلوموں کی سسکیاں کوئی سننے والا نہیں،بے کسوں کی آہ پر کوئی کان دھرنے والا نہیں،لاچاروں کی فغاں صدا بصحراء ہے،غریبوں اور مظلوموں کے غم و آلام پر کسی کی توجہ نہیں۔۔۔
یہاں میں اپنے رب سے یہ سوال کررہا ہوں کہ خدارا آپ ہی بتائیں،کس بنیاد پر حیوانوں نے میری جان لے لی ؟میں نے کسی پر تعدی کی،کسی پر ظلم کیا،کسی کو ستا یا؟؟؟،میں تو گھر والوں کی پرورش کی خاطر وطن سے دور تلاشِ معاش میں نکلا تھا،معمولی تن خواہ پر اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کررہا تھا،میں تیرے گھر کا ایک ادنی امام تھا،تیرے گھر کو آباد کیے ہوئے تھا،اس دوران میرے بہت سے خواب تھے،میں نے تمناؤں کا ایک حسین شیش محل تیار کر رکھا تھا،امیدوں کا ایک روشن چراغ میری زندگی کو روشنی فراہم کررہا تھا،لیکن ظالموں نے میرے سارے خواب اجھاڑ دیے،میری امنگوں میں آگ لگادی،میرے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا،میری تمناؤں کے شیش محل کو پاش پاش کردیا،میری امیدوں کے چراغ کوہمیشہ کے لئے گُل کردیا،میں اپنے والدین کا چہیتا پھول تھا،میں ہی ان کی زندگی تھا،اپنی بہنوں کی کُل کائنات تھا،لیکن انسانیت کے دشمنوں نے ممتا کے گلستان کو خاکستر کردیا،بہنوں کی کائنات پر قیامت برپا کردی،اے خدا! میں تو شہید ہوکر آپ کی رحمت میں پہونچ چکا ہوں،میرے پیچھے میرے گھر والے،میرے والدین،میری پیاری پیاری بہنیں میری المناک موت پر غموں کا طوفان لیے سسک رہی ہیں،درد و کرب کا پہاڑ میرے گھر پہ ٹوٹ پڑا ہے،آپ ان کا ہر وقت خیال رکھنا،ان کی شادی بیاہ اور درد و غم میں میری کمی محسوس ہونے نہ دینا،ان کی ڈولی رخصت ہوتے وقت میری وحشیانہ موت کی یاد ان کے دل و دماغ میں نہ لا نا۔میں آپ سے یہ ساری باتیں اس لئے کہ رہا ہوں کہ مجھے دنیا والوں کے بارے پتہ ہے کہ یہ سب لوگ دوچار دن رسمی تسلیاں دے کر میری شہادت کو فراموش کردیں گے،افسوس کا اظہار کر کے سب اپنی اپنی دنیا میں مست ہو جائیں گے اور اس کے بعد ہمارے پسماندگان سے کوئی خبر و خیریت تک دریافت کرنے والا نہیں ہوگا،اس لیے آپ ان سب کا خیال رکھنا۔اور اے اس کراہتی زمین پر ہمارے ایمان والے بھائیو!تم سے کچھ کہنے کا توجی نہیں چاہتا،لیکن پھر بھی اتنی سی بات کہوں گا کہ ابھی بھی وقت ہے تم خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاؤ،اپنی عقل و خرد پر جمے غبار کو صاف کرو،ایمانی غیرت و حمیت کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھو،بزدلی اور کم ہمتی کی چادر کو تار تار کردو،اپنی آئندہ نسل کی فکر کرو،آئے دن لاشیں اٹھانے اور ماتم کرنے کے عادی نہ بنو،اپنے ماضی کی روایت کو زندہ کرو،ایک بھائی کی موت کو پوری قوم کی موت تصور کرو،اگر یہ میری المناک موت بھی تمہارے وجود کو جھنجھوڑ نے میں ناکام رہی تو اپنی غیرت و حمیت اور مردہ احساس کا جنازہ پڑھ لو،اور اس طرح کے واقعات کا تماشہ دیکھتے رہو۔
میں اپنے رب کے پاس خوش و خرم اورآرام میں ہوں،یہاں سکون ہی سکون ہے،حوروملائک کی محفل جمی ہے سبھی مجھ سے دنیا کی داستانیں سن رہے ہیں اور سب کے سب میری معصومانہ قتل پر اشک بر سارہے ہیں،مجھے جب جب بھی اپنے رب سے سر گوشی کا موقع ملے گا ان سےاپنے درود کرب کو بیان کروں گا،اپنی مظلومیت کی داستان سناؤں گا،دل کھول کے اپنے نالہ و غم کا اظہار کروں گا۔بس اب زیادہ بولنے کو جی نہیں چاہتا،دنیا کی تھکن بہت زیادہ ہے اب آرام کرنے دو،ٹھیک ہے دعا ئے مغفرت میں یاد رکھنا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے