ایک ہی ساہوکار

ہر سال سینکڑوں لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے وسائل کو لیکر پریشان رہتے ہیں،اعلیٰ تعلیم کیلئے حکومتوں کی جانب سے ملنےوالی محدود اسکالرشپ کےباوجود ان لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوتے اور ان کے تعلیمی ضروریات پورے نہیں ہوتے،تعلیمی مسائل کے علاوہ کئی ایسے مسئلے بھی ہیں جس میں علاج کا مسئلہ، غربت کے مسائل شامل ہیں۔ان حالات میں جب ضرورتمند لوگ کسی کے پاس اپنی ضرورت کو پوراکروانے کیلئے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو لوگ اپنی طرف سے درخواست گذار کی مددکرنے کے بجائے دوسروں کانام پیش کرتے ہیں،عموماً اُن لوگوں کا نام پیس کیاجاتاہے جوپہلے سے ہی فلاحی کام انجام دیتے رہتے ہیں۔جو لوگ دوسروں کی مددکرتے رہتے ہیں،باربار اُن کا نام ہی ہر کوئی پیش کرتےرہتاہے،مانوکہ وہی ساہوکارہی سخی ہے،باقی سب غربت کے مارے ہیں۔ایسانہیں ہے کہ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق مددنہیں کرسکتا،بلکہ کچھ لوگ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں اور دوسروں کو ہی مددکیلئے پیش کرتے ہیں۔ موجودہ دورمیں مسلم سماج میں جہاں نہایت مالداروں کا طبقہ موجودہے،وہیں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت بڑے مالدار نہ سہی صاحب استطاعت لوگ بھی ضرور ہیں،ایسے میں اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مددبھی کرسکتے ہیں،مگر ایسانہیں کیاجارہاہے۔مثال کے طورپر اگرکوئی شخص اپنے بچے کی تعلیم کیلئے مددمانگتاہے تو جھٹ سے لوگ اُس ساہوکار یا سیٹھ کے پاس جائو،اگر کوئی علاج کیلئے کسی سے مددطلب کرتاہے تو وہ بھی کسی ساہوکاریا سیٹھ کا نام ہی پیش کرتے ہیں۔مدرسے کی تعمیر ہو،مسجدکی مرمت ہو،کسی کی شادی ہو،کہیں پر لنگرہو،سبھی ایک ہی ساہوکاریا سیٹھ کے پیچھے رہتے ہیں،جبکہ اپنی طرف سے کچھ کرنے کا ارادہ تو نہیں کرتے ہیں نہ ہی اپنے عزیز واقاریب کے ساتھ مل کر کچھ بہتر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کب تک لوگ اپنے بوجھ کو یا اپنی ذمہ داری کو دوسروں پر ڈالتے رہینگے؟کیوں لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ہماری اپنی طرف سے بھی کارِ خیرکریں اور دوسروں کی مشکل میں ساتھ دیں۔کہنے کوتو مسلمانوں کو اللہ نے قرآن میں یہ حکم دیاہے کہ تم دوسروں کی مددکیلئے ہاتھ بڑھائو اور میں اُ س کا تمہیں نعم البدل دونگا،یا میں تمہیں اُس کا اجر دونگا۔قرآن میں اللہ نے کسی مخصوص ساہوکار،تنظیم یا سیٹھ کا تذکرہ نہیں کیاہے بلکہ مسلمانوں کو انسانوں کے کام آنے کا حکم دیاہے۔پچھلے دنوں ایک ایساہی واقعہ پیش آیاتھا،جس میں ایک نوجوان حادثے کاشکارہواتھا اور اس نوجوان کے علاج کیلئے بڑی رقم کی ضرورت تھی، اس سلسلے میں نوجوان کے لواحقین نے کچھ لوگوں سے مدد مانگی تو ہر ایک شخص شہرکے کچھ ساہوکاروں کا نام پیش کررہے تھے، جبکہ وہ خود بھی اپنی طرف سے مدد کرسکتے تھے،مگرایسا محسوس ہورہاتھاکہ شہر کےکچھ ساہوکارہی انسانیت کیلئے کام کرنےوالے ٹھیکدارہیں، باقی لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی۔مسلمانوں کو اس سو چ سے باہر آنے کی ضرورت ہے کہ ساہوکارہی مددکرسکتاہے اور ہم صرف مشورے دے سکتے ہیں۔دوسروں کی سفارش کرنے کے علاوہ مسلمانوں میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو صرف مشور ے دینے کا کام کرتاہے۔علاج کیلئے ہو یاتعلیم کیلئے ضرورتمندوں کی مددکرنے کے بجائے جم کر مشورے دیتے ہیں،سرکاری اسکیمیں بتاتے ہیں،اداروں کے پتے دیتے ہیں،جبکہ اپنی طرف سے ایک روپیہ بھی نہیں دیتے۔عام طورپر علاج ہویاتعلیم اس کیلئے مددمانگنے والے لوگ تمام اسکیم یا منصوبوں کو دیکھنے کے بعد ہی دوسروں کے پاس مددکیلئے ہاتھ پھیلاتے ہیں،باضمیرلوگ خوامخواہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے،نہ ہی یہ لوگ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاکر شرمندہ کرواناچاہتے ہیں۔ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا مانگناہی دھندہ ہے ،مگر ان دھندے والوں کی وجہ سے حقیقی ضرورتمندوں کو نظراندازکرنا مناسب نہیں ہے۔


ازقلم: مدثر احمد، شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے