ہوشیار خبر دار میرے قافلے والوں

حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ رکشا بندھن کے آنے والے تہوار کے دوران مسلم.خواتین سے ملاقات کریں ان سے رابطہ کریں ،
مسلم خواتین کی یاد مودی جی کو ابھی کیوں آئی CAA ، NRC کے موقع پر جب مسلم خواتین سرد راتوں میں شاہین باغ اور ملک کے دیگر مقامات پر اپنے حقوق کا مطالبہ لئے بیٹھی تھیں تب مودی جی نے بی جے پی نیتاؤں اور اپنے کارکنوں کو ان کی مدد کرنے ، ان کی بات سننے اور ان کے مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے کا فرماں کیوں جاری نہیں کیا ؟ مسلم خواتین کو بھدی بھدی گالیاں دینے والوں اور ان پر لاٹھیا برسانے والوں، اور طرح طرح سے مسلم خواتین کو بدنام کرنے کی سازشیں کرنے والوں پر کیوں اپنی خاموشی نہیں توڑی اور کیوں اپنی پارٹی کے کارکنوں کو آگاہ نہیں کیا کہ یہ بھی ہماری ہی مائیں بہنیں ہیں ان کے ساتھ کسی طرح کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی
میرا خیال ہے کہ جس تناظر میں مودی جی نے یہ فرمان جاری کیاہے اس سے ہر شخص واقف ہے اور نام نہاد مسلم مرد خواتین کو چھوڑ کر کوئی بھی غیرت مند ، اور اللہ ورسول کے احکام سے محبت کرنے والے مرد خواتیں نہ مودی جی کے اس بیان سے کسی طرح متاثر ہونگے اور نہ ہی کوئی غیرت مند اسلام دشمنی کا دم بھرنے والے ان غیر مردوں کے سامنے پیش ہونے ان کے سامنے بےحاب ہونے اور ان سے ملاقات کرنے میں کسی طرح کی دلچشپی لیں گے

سوال یہ ہے کہ مودی جی کو الیکشن کے موقع پر ہی مسلم یا مسلم خواتین کیوں یاد آتی ہیں ، تین طلاق اور بغیر محرم کے حج جیسے اسلامی اور دینی احکام کو مسخ کرکے ان جانے مسلمانوں کے گناہ کا دروازہ کھول کر اس کو نئی پہل یا ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سمجھنا مودی جی یا بی جےپی کے لئے تو سکتا ہے کسی شمار میں ہو لیکن اللہ ورسول پر ایمان رکھنے والے دین وشریعت کا ذرہ برابر پاس ولحاظ رکھنے والا اس کو دین میں مداخلت ہی تصور کرے گا ، پھر مودی جی کو مسلم خواتیں کی تعلیم کے مواقع فرہہم کرنے ، ان کی معاشی اقتصادی ترقی ، ان کی صحت اور علاج کا صحیح اور معقول بندوبست کا خیال کبھی کیوں نہیں آتا، ان کے سر سے حجاب اتارا جاتا ہے، حجاب کے ساتھ کالجوں میں داخلے پر پابندی عائد کی جاتی ہے کیا مودی جی اس سے بے خبر ہیں؟

کرناٹک میں جن نارنگی بھیڑیوں نے ایک اکیلی لڑکی کے پیچھے جھنڈبناکر نعرے بازی کررہے تھے کیا کسی منتری وزیر کو اس سے ملاقات کربھیجا ،
خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں کیوں ہضم کر جاتے ہیں ، بلقیس بانوں کا درد کون بھلا سکتا ہے بلقیس بانوں جیسی سیکڑوں مسلم عورتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پرآج تک کیوں خاموش ہیں ، مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے ظلم وبربریت کی ساری حد دین پار کرنے والوں کو سنسکاری بتا کر ان کو آزاد کرنے والی خوانھیں کی گجرات سرکار ہے انھیں پابند سلسل کیوں نہیں کیا جاتا بلکہ بے شرمی کے ساتھ ان کا دفاع کیا جاتاہے تب مودی جی کو مسلم خواتین کیوں یاد نہیں آتیں اپنے وزراء وکارکنان کو یہ فرمان کیوں جاری نہیں کرتے کہ مظلوم عورتوں سے ملاقات کریں ان کی مالی وقانونی مدد کریں ، پھر مسلم خواتین ہی کی تخصیص کیوں ، دلتوں ، عیسائیوں ،کھیلاڑیوں اور قبائیلی خواتین کو کیوں فراموش کردیتے ہیں کیا مودی جی تمام خواتیں کو ایک جیسا نہیں سمجھتے ، مذہبی اعتبار سے خواتین میں یہ تفریق کیوں ہے
پھر ان خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور ان کے ساتھ ہونے والی بدکاریوں پر کیوں خاموش رہتے ہیں ہاتھرس اناؤ ، حیدرآباد کی سائی کرشنا ، اجین اور دیگر جگہوں پر خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر کیوں منہ میں دہی جمالیتے ہیں ، یہ درندے جیل کی سلاخوں کے بجائے آزادی کیوں گھوم رہے ہیں بلکہ بعض تو خود بی جے پی وزراء ان کے بیٹے اور بی جے پی کارکنان اس میں شامل ہیں اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والے خود ان مجرموں کا نہ صرف بچاؤ کرتے ہیں بلکہ ان کا پوری طاقت کے ساتھ دفاع کرتے ہیں

ملک کی ترقی ، امن وامان کا قیام ، جمہوریت اس کے تانے بانے کا استحکام ، خواتین سے رکشابندھن پر ملاقات کرنے میں نہیں بلکہ ملک ہر ہر طبقہ کے ساتھ انصاف اور ہر طبقہ ظلم کے خاتمے میں پوشیدہ ہے

کسی موقع پر غالب نے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا

کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب
شــرم تـم کـو مگـر نہیـں آتی

ازقلم: محمد عظیم فیض آبادی
جامعہ محمود دیوبند 9358163428

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے