مفکر اسلام کے دس ادھورے خواب (آٹھویں قسط)

تحریر: عین الحق امینی قاسمی
معہد عائشہ الصدیقہ، بیگو سرائے

(مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ سے متعلق یہ قسطیں بہ طور تذکیر اور یاددہا نی لکھی گئی ہیں ،اس لئے کہ شخصیتوں کے لئے رولینا تو آسان ہے ،مگر اس کے افکار وعزائم اور منصوبوں کوسمت ورفتار دینا ،قدرے مشکل کام ہے،مگرذہن میں رہنی چاہئے کہ اصل شخصیت پسندی اور شخصیت کی قدردانی یہی ہے کہ ان کے بعد ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جہد بسیار کے ساتھ عمل تک پہنچنے کی مکمل کوشش ہونی چاہئے ۔ مولانا محمد ولی رحمانی ان با نصیبوں میں سے تھے ،جن کے پاس ہر رخ میں مختلف الاذہان افرادموجود تھے،وہ حضرت رحمانی کو جب بھی چاہتے تھے اور آج جب کہ وہ ہمارے درمیاں نہیں ہیں ،تب بھی یاد کرتے ہوں گے ،مگر انہیں محض یاد کر کے "حواریین ولی” میں شامل ہونے کا فخر واحساس کرلینا کافی نہیں ،اصل خراج عقیدت تو یہ ہوگا کہ حضرت صاحب کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی جدو جہد کی جائے، ان کے ادھورے خواب کو مکمل کیا جائے ،ان کی تحریک کو قوت فراہم کی جائے اور ان کے چھوڑے ہوئے ادھورےکام کو ہر ممکن پورا کیا جائے ۔گذشتہ قسطوں میں حضرت صاحب کے انہیں مختلف النوع عزائم ،منصوبے اور خواب کو یاد دلانے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے۔
مفکر اسلام ،کمیاب ذہن کے انسان تھے ،وہ صرف خانقاہوں میں اللہ کی یاد سے دلوں کو آباد کرنا نہیں جانتے تھے ،بلکہ” نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری ” کا ہنر بھی رکھتے تھے ،وہ انسانی دلوں کے ساتھ ساتھ انسانی مسائل ومشکلات کے حل کی بات بھی کرتے تھے ،مولانارحمانی کی نگاہ میں خالق ومخلوق دونوں کے حقوق کی اہمیت تھی ،اسی لئے شب زندہ داری بھی کرتے اور "قافلہ میں اکیلا حسین تھا ” کا فرض بھی اداکرتے تھے،وہ اگر خانقاہوں میں نرم دم گفتگو کےحامی تھے تو بزم یاراں میں گرم دم جستجو کا حوصلہ بھی رکھتے تھے ،وہ صرف دعاؤں اور اصلاحی بزم آرائی کا مزاج نہیں رکھتے تھے ،وہ خانقاہوں سے نکل کر میدان کار زار میں صف بندی کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے ،اسی لئے پوری زندگی ملت اور ملت کے ہمہ جہت تقاضوں کی فکر کرتے رہے اور خواب بنتے رہے ۔ اس تڑپ اور بے چینی کے نتیجے میں حضرت رحمانی نے بلا شبہ اس سمت میں خاصا کام کیا اور ملکی سطح پر ممتاز کام کیا ،وہ اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے وہ ہر طبقے کے لئے سوچتے تھے ، ملت کے تقاضوں کے پیش نظران کے سامنے کئی خاکے تھے ،جس میں رنگ بھری کرتے ہوئےانہوں نے زندگی تمام کردی،ان کے کئی خواب تھے ،جس کو وہ جیتے جی شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے تھے ،مگر اکثر وہ بولا کرتے تھے کہ اب میرے چل چلاؤ کا وقت ہے ۔”قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید "ان کے جانے سے امت کے بہت سے کام ادھورے رہ گئے )

(10) ……..نیشنل انسٹی چیوٹ فار اوپن اسکولنگ NIOS
2008 ء میں مرکزی مدرسہ بورڈ کی جب بات آئی تھی اور اس سلسلے میں سرکاری افسران کے علاؤہ بعض اپنوں کی طرف سے بھی آواز اٹھی کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کا قیام ۔طلبہ مدارس کے حق میں مفید ہے ۔تب ایک آواز تھی جو اس رجحان کے دونوں رخ کے خلاف پوری شدت کے ساتھ بلند ہوئی ،وہ آواز تھی مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی ،جنہوں نے اپنی بیدار مغزی سےحامیان مرکزی مدرسہ بورڈ کی نیتوں پر سخت تنقید کی اور انہیں قانونی وعملی مشورے دئیے ،اس طرح کئی جہتوں سے جد وجہد کے بعد یہ بات ان سرکاری افسران وحامیان مرکزی مدرسہ بورڈ کے ذہن میں بٹھائی گئی کہ کم ازکم بہار وبنگال میں مدرسہ بورڈ کا بڑا تلخ تجربہ رہا ہے ،ان تجربوں سے فائدہ اٹھا کر مرکزی مدرسہ بورڈ کو مسترد کیا جائے ۔رہا یہ سوال کہ مدرسہ کے طلبہ کی بہتر زندگی کا راستہ کیا ہو یا طلبہ زندگی کے میدان میں آگے کیسے بڑھیں ۔اس سلسلے میں مولانا رحمانی نے بڑے صاف ودو ٹوک لہجے میں سجھاؤ دیا تھا کہ گھڑیالی آنسو بہانے کے بجائے حقیقتوں کو راہ دی جائے، ملک کے پاس تین تین تعلیمی بورڈ ہیں ، پھر سی بی ایس ای کا نصاب ہی طلبہ مدارس کیوں پڑھیں ؟ مدارس کے فضلاء کو نیشنل انسٹی چیوٹ اوپن اسکولنگ بورڈ سے کیوں نہ جوڑا جائے جس کے تحت انہیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوسکتے ہیں ۔ اس راہ سےتدریجاً وہ اگلے مرحلے کی اعلی عصری تعلیم بھی بسہولت حاصل کرسکیں گے ۔حضرت صاحب نے انہیں مشورہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :
"اس اسکیم کے تحت مدرسہ کا کوئی طالب علم / فارغ NIOS سے براہ راست اپنی صلاحیت کے مطابق) سکنڈری یا سینئر سکنڈری 2 + کا امتحان دے سکتا ہے اور ہندوستان بھر کے کالجوں میں داخلہ لے سکتا ہے، یونیورسٹی کی اونچی ڈگری بھی تدریجا لے سکتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت امتحان دینے والے طالب علم کو متعلقہ تمام کتابیں ‏NIOS دے گا اور طلبہ کی امتحان فیس اور کتابوں کی قیمت NIOS کو وزارت فروغ انسانی وسائل دے گی طلبہ پر نہ کتابوں کی قیمت کا بوجھ ہوگا اور نہ امتحان کی فیس کا !جہاں تک تعلق مرکزی مدرسہ بورڈ کا ہے، میں بہت صراحت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مدرسہ بورڈ کا بہت اچھا تجر بہ بنگال اور بہار کو ہو چکا ہے، جب مدرسہ بورڈ بنا تو مدرسہ بورڈ رہ گیا اور مدرسوں کا ٹوٹا ہوا سائن بورڈ رہ گیا، تعلیم بالکل ختم ہوگئی ، میری رائے ہے کہ اس تکلیف دہ تجربہ سے پورے ملک کو فائدہ اٹھانا چاہیے .. مدرسہ بورڈ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے . جو چیز کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ Sponcered Scheme‏ ‏(For Quality Education in Madrasa (SPQM کو ذمہ داری کے ساتھ نیشنل انسٹی چیوٹ فار اوپن اسکولنگ NIOS کے ذریعہ لاگو کیا جائے، یہاں این آئی او ایس کے ذمہ دارسن رہے ہیں، انھیں کام کو آگے بڑھانا چاہیے اور جس طرح ہماری کمیٹی نے کہا ہے، آگے بڑھائیں، اس سے بہت فائدہ ہوگا، میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ کام بہت زیادہ بیورو کر یک اپروچ کا نہیں ہے اور اس کام کی صحیح سمت میں ترقی کے لیے مدرسہ کے ذمہ داروں کی مونیٹرنگ کمیٹی اور اسٹینڈنگ کمیٹی بنادی جائے تاکہ جس جذبہ کے ساتھ مدارس کے طلبہ اور تعلیم یافتہ کو این آئی او ایس سے جوڑنے اور فائدہ پہنچانے کی راہ نکالی گئی ہے، اس کے پھل پھول ہندوستان میں نظر آئیں "

اب جب کہ مرکزی مدرسہ بورڈ کی تجویز بھی دب گئی اور حضرت صاحب بھی ہمارے درمیان نہیں رہے ،مگر فضلاء مدارس کے لئے NIOS سے اعلی عصری تعلیم حاصل کرنے کا فارمولا اور زمانے کے لحاظ سے اس کا تقاضہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے ،یہ وہ رخ ہے جس کی طرف حضرت صاحب نے اہل علم اور بابصیرت افراد کو روشنی دیکھانے کا کام کیا تھا اور زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے یہ بھی ایک اہم کام ہے جو طلبہ مدارس ہے حق میں حضرت کرنا چاہ رہے تھے اور حکومت کے اہل کاروں سے علمی اور قانونی لڑائی لڑکر NIOS سے جوڑنے کی جو مہم چلارہے تھےوہ اس دور کا بڑا تقاضہ ہے۔موجودہ دور میں یہ عمل مشکل ضرور ہے، مگر اس کی نافعیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت رحمانی عصری درسگاہوں کے بھی فیض یافتہ تھے ،وہ سمجھتے تھے کہ عصری تعلیم میں مہارت صرف اپنی ذات کے لئے نفع بخش سودا نہیں ہے ،بلکہ ملت کی نفع رسانی کا بھی ذریعہ ہے اور وہ خود اس کا نادر نمونہ تھے ۔وہ دعا کے قائل تھے ،مگر دوا اور علاج کو بھی ضروری سمجھتے تھے ،یعنی دینی تعلیم اپنی ذات کی تربیت واصلاح کے لئے یقینا ضروری ہے، مگر دنیا کو دنیا کی زبان میں جواب دینے کے لئے عصری زبان کی واقفیت از بس ضروری ہے ۔ کاش کوئی اللہ کا بندہ اس سمت میں اپنے آشیانے کو جلا کر زمانے کو روشنی بخشنے میں "سنت ولی” کو زندہ کرجائے ۔

یہی ہے زند گی کچھ خو ا ب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

(جاری )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے