ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

اس وسیع و عریض کائنات میں یک خلوی دور میں ڈائنو سار اس زمین پر دندناتے پھرتے تھے ۔ ان کی کیفیت ایسی تھی کہ انہوں نے زمین پر مکمل اپنا قبضہ کر رکھا تھا ۔ان‌ دیوقامت ڈائنو سار نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ محض کچھ سالوں بعد ہی یہ مٹی کے نذر ہوجایں گے۔ ان کا جسم خاک میں ریزہ ریزہ ہوجاۓ گا۔ پھر وہ دور بھی آیا کہ جو ان کے وہم گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ وقت آن‌ پڑا اور ان دیو ہیکل اجسام والے جانوروں کی نسلیں معدوم ہوگئی۔ جس زمین پر یہ دندناتے پھرتے تھے اب وہ انسانوں اور دیگر جانداروں کا مسکن بن گئی۔ موجودہ دور میں بھی انسانی شکل میں کچھ ڈائنو سارز موجود ہیں ۔جنھیں لگتا ہے وہ کبھی بھی اس زمین سے کوچ نہیں کریں گے ۔ اور خدا کی زمین پر دندناتے پھر رہے ہیں ۔ معصوم انسانی جانوں پر جبر و تشدد کرکے اپنی شیطانی طاقت کو پختہ کررہے ہیں، اس گمان میں کہ یہ کبھی خاک کی نذر نہیں ہوں گے ۔لیکن یہ مُسلّم حقیقت ہے کہ ہر طاقت کو زوال ہے ۔۔ لیکن جو ظالم اپنی طاقت کے تکبر میں یہ بھول گیا ہے تو اس کےلیے یہ آیت کافی ہے کہ اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌﭤ(12)
مظلوم کی رسائی صرف اور صرف خدا تک ہوتی ہے اور خدا کے وہاں انصاف بہت باریکی سے ہوتا ہے۔ اس رب کے انصاف میں کوئی کمی و بیشی کی گنجائش نہیں ۔ یہ آخرت و دنیا دونوں کا معاملہ ہے یہاں بھی ظلم کو ثبات نہیں ۔ایک نہ ایک دن اپنے ہی ظلم کی نظر یہ متکبر ظالم ضرور آۓ گا ۔ پھر اس وقت نہ طاقت کام آۓ گی ، نہ ہی مال و دولت کی فراوانی اور نہ وہ افراد جو آج حفاظت کےلیے ہر لمحہ چاک وچوبند دستے کی شکل میں اطراف میں موجود ہوتے ہیں ۔
موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ حکومت کے تخت پر ڈائنو سار براجمان ہے ۔ اور عوام ظلم و تشدد کا شکار ۔لیکن المیہ سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ عوام خود پر اس ظالم ڈائنوسار کو مسلط کیے ہوئے ہے اور ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس ڈائنوسار کی خوراک کا سامان مہیا کر رہا ہے ۔ایک خونی طاقتور کو مزید لہو کی ضرورت ہوتی ہے اور آج انسان ہی انسان کے لہو کو طشت بھر بھر کر اس خونی ظالم کو پیش کر رہا ہے ۔ اس کا آغاز ہندوستان کے آزاد ہونے کے ساتھ ہی ہوچکا تھا لیکن ٢٠٠٢ کے بعد سے اس میں تیزی سے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس خونی شیطان کی پیاس پھر بھی نہیں بجھتی ۔ گجرات فساد کی زمین ابھی لہو سے خشک بھی نہ ہونے پائی کے دہلی کی زمین کو لہولہان کردیا گیا ۔اور آج بھی دہلی کی سرزمین ظلم و بربریت پر آہ و بکا کررہی ہے ،لیکن انصاف نا پید ہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ہمارے ملک کے ظلم کے پجاری بیرون ملک کے دورہ پر نکلے ہیں اور وہاں سب کوشل منگل کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ جبکہ جس وقت بیرون ملک میں "ہندوستان میں سب اچھا چل رہا ہے” کہا جارہا تھا اس کے کئی مہینوں قبل سے منی پور نسلی تشدد کی آگ میں جھلس رہا تھا اور اب بھی حالت نازک ہیں ، لیکن بےحسی عروج پر ہے۔ ہمارے قوی ہیکل ڈائنوسار کو ہندوستان میں سب اچھا ہی نظر آرہا ہے ۔ جبکہ خواتین کا انتہائی بے دردی سے استحصال کرکے انہیں برہنہ پریڈ کروایا گیا اور مختلف ذرائع و ابلاغ کے اعداد و شمار کے مطابق ٢٠٠ افراد سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں لوگوں کا مسکن تباہ و برباد ہوچکا ہے ۔ ہزاروں لوگ جاۓ پناہ کی تلاش میں مختلف کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔
وہی ملک کے دیگر علاقوں کی حالت بھی دگرگوں ہے
۔گزشتہ ایک ہفتہ سے ہریانہ کے میوات علاقہ میں ہندو مسلم فساد کی چنگاری آگ کے شعلے میں تبدیل ہوچکی ہے ۔اور اس آگ میں مسجد کے امام کے ساتھ مسجد کو بھی شہید کردیا گیا ۔ حیرت ۔۔۔ کیا ہی حیرت ہو کہ اب یہ معمول کے واقعات میں شمار ہونے لگے ہیں ۔ ہند کے محافظ کی دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہیکہ یہ لوگ ان کی حفاظت میں تعینات ہوتے ہیں جو تشدد و فسادات کو پھیلانے آتے ہیں ۔۔ آپ گجرات کا معاملہ دیکھ لیں وہاں بھی حفاظتی دستے کی نگرانی میں استحصال سے لیکر آگ زنی اور قتل و غارت گری کا معاملہ ہوا۔ وہی دہلی اور منی پور کے حالات میں بھی یہ حفاظتی دستے محافظ بن کر فسادیوں کے اطراف چکر کاٹ رہیں تھے ۔ جبکہ میوات میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔اور ممبئی ٹرین میں ہوا واقعہ تو واضح دلیل ہے کہ محافظ دستے کے نام پر یہ اصل میں وہ جانور ہیں جو خون کے پیاسے ہیں۔ جن کے سینے میں ان بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے نوجوانوں نے وہ آتش فشاں تیار کردیا ہے جو مسلمانوں کے نام پر ہی لاوا پھیکنے کےلیے تیار ہوتا ہے ۔
محافظ دستے جو اس لیے ڈگری اور ٹرئینینگ لیتے ہیں کہ ملک کے شہریوں کی حفاظت کے ساتھ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پر کاروائی کرۓ ۔ لیکن یہاں یعنی ہند کا معاملہ کچھ الگ ہے یہاں اس طرز پر ٹرئینینگ کی جاتی ہے کہ فسادیوں کے گرد منڈلایا جاۓ اور مظلوموں پر گرفتاری کا شکنجہ کسا جاۓ۔ اب تک مسلمانوں کے کئی گھروں کو میوات میں زمین دوز کیا جاچکا ہے جبکہ کئی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے قوی ہیکل ظلم کے پچاریوں کے کان میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔جو میڈیا حلق کے بل مسلمانوں کو دہشت گرد گردانتی ہے۔ وہ وِکس کی گولی خاکر خاموش تماشائی ہے ۔وہ دن بھی مستقبل کے جھروکوں سے دیکھے جاسکتے ہیں جب ان ہی فسادیوں کے گھر اسی تصادم و فساد کی آگ میں جل رہے ہوں گے تب یہ اپنے اس آقا کی طرف دیکھ کر نظر کرم فرمانے کی آس میں کھڑے ہوں گے جس آقا کے کہنے پر آج مسلم و ہندو کا پرچار کرتے نہیں تھکتے اور درمیان میں تصادم و فساد کی بڑی وجہ بن رہے ہیں ۔
لیکن مجھے ﷲ پر پورا یقین ہے کہ حق و انصاف کی روشنی راستہ تلاش کرکے اس سیاہ حصہ پ ر بھی پھیلے گی۔ جہاں انسان نما درندے انسان کے لہو کے پیاسے ہیں ۔ کیوں کہ تغیر اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے. اگر آج فرعون ، ہٹلر نہیں رہے تو وقت کے ڈائنو سار بھی فنا ہوجایں گے ۔ لیکن یہاں غوروفکر کا مقام یہ ہے کہ ہم اس تغیر میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں اگر ہم ٹھرے پانی کی طرح جامد ہوکر اس صورت حال کو دیکھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری ہی سڑاند سے ہم بھی فنا ہوچکے ہوں گے اور تب ہمارا یہ حساب بھی ہوگا ہم نے ظلم پر خاموشی اختیار کیوں کی تھی ۔اس لیے اس تغیر کی بنیاد بنیں موت تو ایک اٹل حقیقت ہے پھر کیوں نا حق کے راستے میں شہید ہوجاۓ اور ایک نئے تغیر کی وجہ بنے ۔

ازقلم: خان شبنم فاروق

One thought on “ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے